اس شخص کا حکم جو اپنے غالب گمان کے مطابق قسم کھائے، پھر حقیقت اس کے خلاف نکل آئے

سوال 178051

کوئی شخص کسی ایسی بات پر اللہ کی قسم کھائے جس کا اسے یقینی علم نہیں، تو اس کا کیا حکم ہے؟ کیا یہ جائز ہے یا حرام؟ اور کیا جب اسے یقین ہو تو قسم اٹھانا جائز ہے ؟ مثلاً کوئی کہے کہ فلاں شیخ نے یہ کام کیا ہے، تو وہ جواب دے: نہیں، اللہ کی قسم! اس نے ایسا نہیں کیا، حالانکہ اسے حقیقت کا علم نہیں، مگر اسے پورا یقین یا غالب گمان ہے کہ ایسا نہیں ہوا۔ یا کوئی غیبی معاملے پر قسم کھا لے، تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب کا متن

ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالی کے لیے، اور دورو و سلام ہوں اللہ کے رسول پر، بعد ازاں:

قسم کھانے والے کی صورت حال مختلف ہو سکتی ہے:

-اگر اسے پوری طرح معلوم ہو کہ وہ سچ کہہ رہا ہے، تو اس کی قسم درست ہے اور اس پر کوئی گناہ نہیں۔
-اگر وہ جانتا ہے کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے، تو وہ گناہگار ہے اور یہ کبیرہ گناہوں میں شمار ہوتا ہے۔
-اگر اسے غالب گمان ہو کہ وہ جھوٹا ہے، پھر بھی قسم کھا لے، تو وہ گناہ کا مرتکب ہے، چاہے بعد میں بات اسی کی قسم کے مطابق کیوں نہ نکل آئے۔
-اور اگر اسے غالب گمان ہو کہ وہ سچا ہے، تو اس پر کوئی گناہ نہیں، چاہے بعد میں حقیقت اس کے خلاف ہی کیوں نہ ظاہر ہو جائے؛ کیونکہ اس نے اپنے گمان کے مطابق سچ سمجھ کر قسم کھائی تھی۔
- جو شخص بغیر کسی علم کے محض اندازے سے قسم کھا لیتا ہے، وہ گناہگار ہے، کیونکہ وہ ایسی بات پر قسم کھا رہا ہے جس کا اسے علم ہی نہیں۔

لہٰذا اگر کوئی شخص کسی کے بارے میں یہ کہے کہ اس نے فلاں کام نہیں کیا، اور اس کی بنیاد یہ ہو کہ وہ اس کے دین، اخلاق یا حالات کو جانتا ہے اور اسی وجہ سے اسے غالب یقین ہے کہ وہ ایسا نہیں کر سکتا، تو یہ دراصل غالب گمان پر مبنی قسم ہے، اور اس میں کوئی حرج نہیں۔

امام العمرانی الشافعی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
’’احکام میں غالب گمان کو یقین کے قائم مقام مانا جاتا ہے۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: "البيان" (10/ 553)

اسی طرح سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: میں ہلاک ہو گیا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (کیا ہوا؟) اس نے کہا: میں نے رمضان میں اپنی بیوی سے تعلق قائم کر لیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (کیا تم ایک غلام آزاد کر سکتے ہو؟) اس نے کہا: نہیں ۔ فرمایا: (کیا تم دو مہینے مسلسل روزے رکھ سکتے ہو؟) اس نے کہا: نہیں۔ فرمایا: (کیا تم ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتے ہو؟) اس نے کہا: نہیں ۔ پھر ایک انصاری شخص کھجوروں کا ایک ٹوکرا لے کر آیا، تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (یہ لے جاؤ اور صدقہ کر دو)۔ اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا ہم سے زیادہ محتاج کسی کو دوں؟ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، مدینہ کے دونوں کناروں کے درمیان ہم سے زیادہ محتاج کوئی گھر نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (جاؤ، یہ اپنے گھر والوں کو ہی کھلا دو)۔ [صحیح بخاری: 2600، صحیح مسلم: 1111]

اس حدیث کی شرح میں شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں:
’’اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ غالب گمان کی بنیاد پر قسم کھانا جائز ہے، کیونکہ اس شخص نے کہا: اللہ کی قسم! ہم سے زیادہ محتاج کوئی نہیں، حالانکہ اس نے ہر گھر جا کر تحقیق نہیں کی تھی، بلکہ یہ اس کا غالب گمان تھا، اور اسی بنیاد پر اس نے قسم کھائی۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: "شرح الكافی" (4 /90)

ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں:
’’ قاضی نے کہا: اگر کسی شخص کو اپنے والد کی ڈائری میں یہ لکھا ہوا ملے کہ فلاں شخص سے اتنا قرض واپس لینا ہے، تو وہ اس قرض کا دعویٰ کر سکتا ہے؛ کیونکہ اسے غالب گمان ہے کہ یہ بات درست ہے۔ ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں: اور وہ اس پر قسم بھی کھا سکتا ہے۔ ‘‘ ختم شد
ماخوذ از: اعلام الموقعین (4/129)

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ ایک اور جگہ پر کہتے ہیں:
’’جو شخص کسی بات پر اپنے غالب گمان کی بنیاد پر قسم کھائے، پھر بعد میں معلوم ہو کہ حقیقت اس کے خلاف تھی، تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ مثلاً کوئی یہ سمجھ کر قسم کھائے کہ یہ کام ہو چکا ہے، پھر بعد میں معلوم ہو کہ ایسا نہیں ہوا، تو اس پر کوئی گناہ نہیں؛ کیونکہ اس نے اپنے گمان کے مطابق قسم کھائی تھی اور اس وقت وہ اپنے خیال میں سچا تھا۔
اسی طرح اگر کوئی کہے: اللہ کی قسم! فلاں شخص کل آئے گا، یعنی سفر سے کل پہنچے گا، اپنے غالب گمان کی بنیاد پر، پھر وہ نہ آئے، تو راجح قول کے مطابق اس پر نہ گناہ ہے اور نہ کفارہ؛ کیونکہ اس نے اپنے گمان کے مطابق قسم کھائی تھی۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: فتاویٰ نور على الدرب (21/2)

اسی طرح شیخ صالح الفوزان سے سوال کیا گیا:
اس شخص کا کیا حکم ہے جو کسی واقعے کے ہونے یا نہ ہونے پر قسم کھائے، حالانکہ اسے حقیقت معلوم نہیں؟ مثلاً ہم نے کسی کے ساتھ کوئی ایسا کام کیا جو اسے تکلیف پہنچانے والا تھا، پھر اس نے ہمارے والد سے پوچھا کہ کیا ہم نے یہ کام کیا ہے؟ تو ہمارے والد نے انکار کرتے ہوئے قسم کھا لی کہ ہم نے یہ کام نہیں کیا، حالانکہ ہم نے وہ کام کیا تھا، لیکن ہمارے والد کو اس کا علم نہیں تھا۔ تو کیا ہم اس قسم کا کفارہ ادا کریں جبکہ انہیں علم نہیں، یا انہیں بتائیں تاکہ وہ خود کفارہ ادا کریں، یا اس میں کوئی گناہ ہی نہیں؟

انہوں نے جواب دیا:
’’سب سے پہلے مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنی قسم کی حفاظت کرے اور بلا ضرورت قسم کھانے میں جلدی نہ کرے، بلکہ جب قسم کھائے تو اسے اس معاملے پر بھر پور یقین ہونا چاہیے۔
جہاں تک اس صورت کا تعلق ہے کہ کوئی شخص اپنے غالب گمان کی بنیاد پر کسی کام کے ہونے یا نہ ہونے پر قسم کھائے، پھر بعد میں معلوم ہو کہ حقیقت اس کے خلاف تھی، تو اس پر کوئی گناہ نہیں؛ کیونکہ اس نے اپنے غالب گمان کے مطابق قسم کھائی تھی، لہٰذا اس پر کوئی مؤاخذہ نہیں۔ یہ قسم ’لغو‘ میں شمار ہوتی ہے۔
البتہ اگر کوئی جان بوجھ کر جھوٹی قسم کھائے، تو وہ گناہگار ہے۔ ایسی صورت میں اس پر کفارہ نہیں، بلکہ اسے چاہیے کہ اللہ تعالیٰ سے استغفار کرے اور توبہ کرے، اور اللہ تعالیٰ توبہ قبول فرمانے والا ہے۔
رہا کفارہ، تو وہ صرف اس قسم میں واجب ہوتا ہے جو آئندہ کسی ممکن کام کے بارے میں پختہ ارادے کے ساتھ کھائی جائے۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: المنتقى من فتاوى الفوزان (1/96-97)

واللہ اعلم

حوالہ جات

قسم اور نذر و نیاز

ماخذ: 

الاسلام سوال و جواب

Previous
آگے
at email

ایمیل خبرنامہ

اسلام سوال و جواب کی میلنگ لسٹ میں شامل ہوں

phone

اسلام سوال و جواب ایپ

مواد تک فوری رسائی اور آف لائن مطالعہ کے لیے

download iosdownload android