جس نے بھى كلمہ طيبہ پڑھ ليا اس پر مسلمان ہونے كا حكم لگايا جائيگا، اور اس ميں كلمہ نفاق كے ساتھ پڑھنے كے احتمال كو نہيں ديكھا جائيگا؛ كيونكہ اللہ سبحانہ و تعالى نے تو ہميں ظاہر كا ہى مكلف بنايا ہے، اور باقى اندرونى و دلوں كے معاملات كا وہ خود اللہ ہى مالك ہے.
اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:
{ اور جو تمہيں سلام پيش كرے اسے يہ نہ كہو كہ تم مومن نہيں، تم دنيا كى زندگى كا سامان چاہتے ہو تو اللہ كے پاس بہت سى غنيمتيں ہيں، اس سے پہلے تم بھى ايسے ہى تھے، تو اللہ نے تم پر احسان فرمايا، پس خوب تحقيق كر لو بے شك اللہ ہميشہ اس سے جو تم كرتے ہو پورا باخبر ہے }النساء ( 94 ).
عبد اللہ بن عتبہ بيان كرتے ہيں كہ ميں نے عمر بن خطاب رضى اللہ تعالى عنہ كو يہ فرماتے ہوئے سنا:
رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے دور ميں كچھ لوگوں كا وحى كے ذريعہ مؤاخذہ كيا جاتا تھا، اور اب وحى منقطع ہو چكى ہے، اور اب ہم تمہارے ساتھ وہى معاملہ كرينگے جو تمہارے اعمال سے ظاہر ہوگا، جس نے ہمارے ليے خير ظاہر كى ہم اسے امن دينگے، اور اپنے قريب كرينگے، اور ہمارے اس كى پوشيدہ اشياء سے كچھ سروكار نہيں، اس كے اندورونى معاملات ميں اللہ اس كا محاسبہ كريگا، اور جس نے بھى ہمارے ليے برائى و شر ظاہر كيا، ہم اسے امن نہيں دينگے، اور نہ ہى ہم اس كى تصديق كرينگے، اگرچہ وہ كہتا پھرے كہ اس كا دل بہتر اور صاف ہے "
صحيح بخارى حديث نمبر ( 2641 ).
اس بنا پر جب اس شخص نے كلمہ پڑھ ليا ہے تو ہم اس پر مسلمان ہونے كا حكم لگائيں گے، اور اس طرح اس كے ليے مسلمان عورت سے شادى كرنا جائز ہوگا، اور اس كے ليے ختنہ نہ كرانے ميں كوئى حرج نہيں؛ تا كہ وہ دين اسلام سے نفرت نہ كرنے لگے، كيونكہ ختنہ نہ كرانا مرتد ہونے سے ہلكا اور كم درجہ ركھتا ہے، اور شرعى قاعدہ اور اصول ہے كہ: دو چيزوں ميں سے كم نقصاندہ كا ارتكاب كر لينا چاہيے، اس كى تفصيل ديكھنے كے ليے آپ سوال نمبر ( 106524 ) كے جواب كا مطالعہ ضرور كريں.
اور اس شخص كو چاہيے كہ وہ نماز پنجگانہ كى پابندى كرے، اگر اس نے نماز چھوڑى تو راجح قول كے مطابق اس نے كفر كا ارتكاب كيا، اور اگر وہ تارك نماز ہو تو اس كا نكاح صحيح نہيں ہوگا.
اس ليے اگر نماز پنجگانہ كى پابندى كرتا ہے تو پھر آپ كے ليے اس كى شادى ميں شريك ہونے ميں كوئى حرج نہيں بلكہ آپ كو اس ميں ضرور شريك ہونا چاہيے، كيونكہ اس ميں اس شخص كى تاليف قلب ہوگى اور اس كے ليے خير وبھلائى كے كاموں ميں ابھارنے كا سبب ہوگا، اور پھر شركت كرنے سے صلہ رحمى بھى ہوگى كہ آپ اپنى بيوى كے رشتہ داروں سے صلہ رحمى كرينگے.
واللہ اعلم