شادى كى تقريب ميں شركت ميں شبہ كے متعلق نصيحت

سوال 180427

مجھے بيوى كے ذريعہ علم ہوا كہ ميرى سالى اٹلى كے ايك عيسائى شخص سے جان پہچان ركھتى ہے، حالانكہ سالى تو مسلمان ہے، جب ميں نے استفسار كيا تو واضح ہوا كہ ميرى سالى نے اس شخص كا نمبر اپنى سہيلى سے ليا اور اس عيسائى شخص سے رابطہ كيا.

وہ عيسائى شخص كسى تيونسى لڑكى سے شادى كرنا چاہتا ہے، اس طرح وہ دونوں شادى كرنے پر متفق ہوگئے، ميرى سالى نے سارے خاندان كو منگنى كى تقريب يا پھر آپس ميں تعارف كى مجلس ميں شريك ہونے كا كہا.

ليكن ميں نے اس تقريب ميں شريك ہونے سے انكار كر ديا كيونكہ ميرى رائے ميں ان دونوں كا آپس ميں ايك دوسرے تعارف كا طريقہ بھى صحيح نہيں، اور پھر وہ آدمى بھى نصرانى ہے، جو كہ اساسى طور پر ہى غلط ہے.

ليكن بعد ميں اس ليے شريك ہونا قبول كيا كہ ميں اس شخص كو دين اسلام كى دعوت دوں گا، اور بيان كرونگا كہ اللہ كے ہاں قابل قبول دين تو صرف دين اسلام ہے، اور آپس ميں يہ تعارفى مجلس دين اسلام كے تعارف كى مجلس بن جائيگى، اور ميرى سالى كے كہنے كے مطابق اس كا بھى موقف يہى ہے كہ وہ اسے دين اسلام ميں داخل كرنا چاہتى ہے، اور اگر وہ دين اسلام قبول نہيں كرتا تو وہ بھى اس سے شادى پر راضى نہيں ہو گى.

واقعتا ميں تعارفى مجلس ميں حاضر ہوا، اور ديكھا كہ وہ شخص پچاس برس كى عمر كے لگ بھگ ہے، ميں نے اسے دين اسلام كے متعلق بتلايا اور اپنى زندگى كے متعلق بھى اسے علم ديا، اور اس كى شادى كے متعلق دين اسلام كا حكم بھى اس كے سامنے ركھا، كہ اس شادى كے ليے اس كے ليے مسلمان ہونا ضرورى ہے.

ميں نے اس سے نرم رويہ اختيار كيا جس كى بنا پر وہ ميرى بات سننے پر راضى ہوا، اور ميں نے اسے كے سامنے ہر قسم كا تعاون و مدد پيش كيا تا كہ وہ دين اسلام قبول كر لے اور اسے دل سے مطمئن ہو كر قبول كرے، اور دينى مباديات كو اپنے اوپر فٹ كرے، اس ليے معاونت نہيں كى كہ وہ دين اسلام كو ميرى سالى سے شادى كا ذريعہ بنائے، اور حقيقت بھى يہى ہے، تو اس طرح شريعت و دين اسلام كے دائرہ ميں رہتے ہوئے ايك شادى كى جانب ايك قدم ہوگا.

چنانچہ اس شخص نے دين اسلام قبول كرنے كى اظہار كيا، مجھے بہت خوشى ہوئى، كچھ ايام كے بعد ميں نے اسے اٹلى زبان ميں قرآن مجيد كا ايك نسخہ بھيجا، اور اسى ميں نے اس كے سامنے اسلام كے اركان و اصول اور قاعدے، اور اساسيات ركھيں، اور اسے بتايا كہ دين اسلام اپنے سے پہلے سابقہ اديان كے ساتھ كيا تعلق ركھتا ہے.

اور ميں نے اسے قونصل خانے كے نمبر بھى بھيجے تا كہ وہ بھى اس كى معاونت و مدد كريں، اس كے كچھ ايام كے بعد ميں گھريولو اور دوسرے كاموں ميں مشغول ہوگيا.

مجھے علم ہوا كہ ميرى سالى اس شخص سے ٹيلى فون اور انٹر نيٹ كے ذريعہ بات چيت كرتى ہے تو ميں اس پر ناراض ہوا، پھر مجھے علم ہوا كہ اس نے اسے ملك كے مفتى صاحب كے سامنے دين اسلام قبول كرنے كا اعلان كرنے پر اتفاق كيا ہے، اور اس كے فورا بعد منگنى ہوگى، پھر مجھے منگنى ميں شركت كى بھى دعوت ملى، ليكن ميں نہيں گيا اور ميرى بيوى بھى نہيں گئى.

پھر كچھ ايام كے بعد اس شخص نے مجھے ٹيلى فون كر كے ميرا شكريہ ادا كيا كہ آپ نے ميرى بہت معاونت كى ہے اس نے بڑے ادب و احترام سے بات كى، اور ميں نے اس بتايا كہ كچھ اسباب كى بنا پر ميں نہيں آ سكا، ميں نے اسے دين اسلام كے متعلق وصيت كى كہ وہ دينى امور كا خاص خيال كرے اور اسے اپنے دل ميں جگہ دے، اس مہينہ كے آخر ميں ان كى شادى ہے.

ميرے خيال كے مطابق ميرى سالى شادى كر كے اٹلى ميں بسنا چاہتى ہے، نہ كہ وہ اس شخص كو دين اسلام ميں داخل كرنا چاہتى ہے، كيونكہ ابھى تك اس نے اپنا ختنہ بھى نہيں كرايا، وہ كہتا ہے كہ مفتى صاحب كا كہنا ہے كہ ختنہ كرانا ضرورى نہيں.

ميرے خيال ميں اس كا كوئى طبى يا منطقى سبب نہيں ہے، اور يہ جلد بازى بھى نہيں، مجھے محسوس يہ  ہوتا ہے كہ دونوں كا ہدف شادى كے علاوہ كچھ نہيں، ليكن يہ موقف صرف ميرا ہے باقى كسى كا نہيں، خاندان كے باقى سب افراد اس ميں كوئى مانع نہيں سمجھتے، يہ صحيح ہے كہ ميں ان پر كوئى فيصلہ صادر نہيں كر سكتا، اور اللہ كو اس كا علم ہے، ليكن ميرے خيال ميں ہم مسلمانوں كو اس طرح عجيب و غريب افعال اسلامى اخلاق و دين اسلام كى مباديات سے دور كرنے كا باعث بن رہے ہيں، اس ليے ميں نے شادى ميں شركت سے انكار كر ديا، ليكن ميرى بيوى شادى ميں شريك ہونا چاہتى ہے، ميرى آپ سے درخواست ہے كہ اس سلسلہ ميں آپ ہميں كيا نصيحت فرماتے ہيں، تا كہ مجھے دلى سكون حاصل ہو اور اللہ بھى راضى ہو جائے.  ؟

جواب کا متن

ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالی کے لیے، اور دورو و سلام ہوں اللہ کے رسول پر، بعد ازاں:

جس نے بھى كلمہ طيبہ پڑھ ليا اس پر مسلمان ہونے كا حكم لگايا جائيگا، اور اس ميں كلمہ نفاق كے ساتھ پڑھنے كے احتمال كو نہيں ديكھا جائيگا؛ كيونكہ اللہ سبحانہ و تعالى نے تو ہميں ظاہر كا ہى مكلف بنايا ہے، اور باقى اندرونى و دلوں كے معاملات كا وہ خود اللہ ہى مالك ہے.

اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

{ اور جو تمہيں سلام پيش كرے اسے يہ نہ كہو كہ تم مومن نہيں، تم  دنيا كى زندگى كا سامان چاہتے ہو تو اللہ كے پاس بہت سى غنيمتيں ہيں، اس سے پہلے تم بھى ايسے ہى تھے، تو اللہ نے تم پر احسان فرمايا، پس خوب تحقيق كر لو بے شك اللہ ہميشہ اس سے جو تم كرتے ہو پورا باخبر ہے }النساء ( 94 ).

عبد اللہ بن عتبہ بيان كرتے ہيں كہ ميں نے عمر بن خطاب رضى اللہ تعالى عنہ كو يہ فرماتے ہوئے سنا:

رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے دور ميں كچھ لوگوں كا وحى كے ذريعہ مؤاخذہ كيا جاتا تھا، اور اب وحى منقطع ہو چكى ہے، اور اب ہم تمہارے ساتھ وہى معاملہ كرينگے جو تمہارے اعمال سے ظاہر ہوگا، جس نے ہمارے ليے خير ظاہر كى ہم اسے امن دينگے، اور اپنے قريب كرينگے، اور ہمارے اس كى پوشيدہ اشياء سے كچھ سروكار نہيں، اس كے اندورونى معاملات ميں اللہ اس كا محاسبہ كريگا، اور جس نے بھى ہمارے ليے برائى و شر ظاہر كيا، ہم اسے امن نہيں دينگے، اور نہ ہى ہم اس كى تصديق كرينگے، اگرچہ وہ كہتا پھرے كہ اس كا دل بہتر اور صاف ہے "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 2641 ).

اس بنا پر جب اس شخص نے كلمہ پڑھ ليا ہے تو ہم اس پر مسلمان ہونے كا حكم لگائيں گے، اور اس طرح اس كے ليے مسلمان عورت سے شادى كرنا جائز ہوگا، اور اس كے ليے ختنہ نہ كرانے ميں كوئى حرج نہيں؛ تا كہ وہ دين اسلام سے نفرت نہ كرنے لگے، كيونكہ ختنہ نہ كرانا مرتد ہونے سے ہلكا اور كم درجہ ركھتا ہے، اور شرعى قاعدہ اور اصول ہے كہ: دو چيزوں ميں سے كم نقصاندہ كا ارتكاب كر لينا چاہيے، اس كى تفصيل ديكھنے كے ليے آپ سوال نمبر ( 106524 ) كے جواب كا مطالعہ ضرور كريں.

اور اس شخص كو چاہيے كہ وہ نماز پنجگانہ كى پابندى كرے، اگر اس نے نماز چھوڑى تو راجح قول كے مطابق اس نے كفر كا ارتكاب كيا، اور اگر وہ تارك نماز ہو تو اس كا نكاح صحيح نہيں ہوگا.

اس ليے اگر نماز پنجگانہ كى پابندى كرتا ہے تو پھر آپ كے ليے اس كى شادى ميں شريك ہونے ميں كوئى حرج نہيں بلكہ آپ كو اس ميں ضرور شريك ہونا چاہيے، كيونكہ اس ميں اس شخص كى تاليف قلب ہوگى اور اس كے ليے خير وبھلائى كے كاموں ميں ابھارنے كا سبب ہوگا، اور پھر شركت كرنے سے صلہ رحمى بھى ہوگى كہ آپ اپنى بيوى كے رشتہ داروں سے صلہ رحمى كرينگے.

واللہ اعلم

حوالہ جات

خانگی فقہ

ماخذ

الاسلام سوال و جواب

answer

متعلقہ جوابات

at email

ایمیل خبرنامہ

اسلام سوال و جواب کی میلنگ لسٹ میں شامل ہوں

phone

اسلام سوال و جواب ایپ

مواد تک فوری رسائی اور آف لائن مطالعہ کے لیے

download iosdownload android