اسلامی تشخص کا تعارف اور اس کی بنیادیں، اور اسے بگاڑنے یا مسخ کرنے سے متعلق تنبیہ

سوال: 181665

ہم اکثر غیر مسلموں کے ہاں ’’انسانی تشخص‘‘ کے موضوع پر بہت کچھ سنتے اور پڑھتے ہیں، یہاں تک کہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے انہوں نے اس میدان میں برتری اور اجارہ داری حاصل کر لی ہو۔ لیکن ہمیں یہ معلوم نہیں کہ وہ جو کچھ لوگوں کو سکھاتے ہیں، وہ شریعتِ اسلامیہ یعنی قرآن و سنت کے مطابق ہے یا اس کے مخالف؟
تو اس تناظر میں سوال یہ ہے کہ اسلامی تشخص کیا ہے؟ اور اس کی بنیادی خصوصیات اور اجزائے ترکیبی کیا ہیں؟ نیز اس تشخص کی تعلیم کو کن علوم کے دائرے میں شمار کیا جائے؟ کیا یہ عقیدے کے ذیل میں آتی ہے؟ یا تزکیۂ نفس (اخلاق و تربیت) کے میدان سے تعلق رکھتی ہے؟

مزید یہ کہ یہ اسلامی تشخص بلند ہمتی، یعنی ’’عملی قوت‘‘ پر کس طرح اثر انداز ہوتا ہے؟ اور اسلامی تشخص کا تعلق ’’عصبانی لسانی پروگرامنگ‘‘ (Neuro-Linguistic Programming) کے علم سے کیا ہے؟ کیا یہ نیا علم ہماری اسلامی شناخت پر مثبت اثر ڈالتا ہے یا منفی؟

جواب کا متن

ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالی کے لیے، اور دورو و سلام ہوں اللہ کے رسول پر، بعد ازاں:

اول:
اسلامی تشخص سے مراد وہ متوازن اور متکامل شخصیت ہے جس کی بنیاد اور اصول شریعتِ اسلامی کے احکام کے سامنے سراپا فرمانبرداری اور مکمل اطاعت پر قائم ہوں، یعنی وہ شخصیت جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے احکام کو تسلیم کرتی اور ان پر عمل پیرا ہوتی ہے۔

یہ وہ تشخص ہے جو اپنی تہذیب، اصول اور اخلاقی اقدار کتاب اللہ اور سنتِ رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے حاصل کرتا ہے، اور ان تعلیمات کا عملی نمونہ امت کے سلف صالحین کی پیروی سے سیکھتا ہے، ان نیک افراد کی سیرت سے رہنمائی لیتا ہے جنہوں نے اپنی زندگیوں میں اسلام کی سچی تصویر پیش کی۔

اسلام نے حقیقی مسلمان کے تشخص کو نمایاں کرنے میں بڑی توجہ دی ہے۔ اس نے اس بات پر زور دیا کہ مسلمان اپنے اصل اسلامی اوصاف اور بنیادوں کو مضبوطی سے تھامے رکھے، اور قرآن و سنت میں اسلامی تشخص کی خصوصیات، علامتیں، مظاہر اور اثرات کو بار بار بیان کیا تاکہ دنیا اسلام کی صحیح اور روشن تصویر دیکھ سکے، اور یہ جان سکے کہ اسلام انسانوں کی زندگی میں کس قدر مثبت اور تعمیری اثرات پیدا کرتا ہے۔

اسلامی تشخص کی بنیاد ایمان باللہ، اس کے رسولوں پر ایمان، اور آخرت کے وعد و وعید پر یقین ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ شریعت کے تمام اخلاقی آداب سے آراستہ ہوتا ہے، مثلاً: سچائی، امانت، پاکدامنی، حیا، حسنِ اخلاق، حسنِ سلوک، ہمسایہ کا خیال رکھنا، بھلائی کے کاموں میں سبقت کرنا، نیکی میں تعاون کرنا اور دوسروں کو نقصان سے بچانا ؛ یہ اور دیگر مثبت اوصاف سب اسلامی تشخص کے اجزاء ہیں۔

پس اسلامی تشخص کی اصل بنیادیں تین ہیں:

  1. اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم پر کامل ایمان۔
  2. شریعت کے احکام اور اس کے اصولوں کے سامنے کامل تسلیم و انقیاد۔
  3. اسلامی آداب و اخلاق کو اپنی زندگی کا لازمی حصہ بنانا۔

تاریخ کے مختلف ادوار میں اس اسلامی تشخص کو مٹانے، بگاڑنے اور کمزور کرنے کی بہت سی ناپاک کوششیں کی گئیں۔ اسلام دشمنوں نے مختلف فلسفوں، نظریات اور ثقافتی تحریکوں کے ذریعے مسلمانوں کے دلوں میں شکوک و شبہات پیدا کرنے کی کوشش کی تاکہ اسلام انسان کی شخصیت سازی کا واحد منبع نہ رہے، اور لوگ شریعتِ اسلامیہ کے کمال اور عقیدے کی پاکیزگی سے ناواقف رہیں۔

ان کوششوں کا مقصد یہ تھا کہ مسلمانوں کے اندر ایسا فکری بگاڑ پیدا کیا جائے کہ وہ اپنے تشخص سے دور ہو جائیں۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کی حفاظت کا وعدہ فرمایا ہے اور وہ ان لوگوں کے ناپاک ارادوں کو ناکام بنا دیتا ہے جو اس کے نور کو بجھانا چاہتے ہیں اور اس کے کلمات کو بدلنے کی کوشش کرتے ہیں۔

آج کے دور میں اسلامی تشخص کو ازسرِنو مضبوطی سے تھامنے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ اپنے سلف صالحین کے طرزِ عمل کو اپنائیں — خالص توحید پر قائم رہیں، دینِ اسلام کے ساتھ مضبوط وابستگی اور وفا داری اختیار کریں، اور اللہ کے دشمنوں، ان کے عقائد اور ان کی گمراہ کن تہذیبوں سے مکمل بیزاری اختیار کریں۔ ساتھ ہی وہ اسلام کے بلند اخلاق سے اپنے آپ کو مزین کریں۔

جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا: ’’مجھے تو اس لیے مبعوث کیا گیا ہے کہ میں عمدہ اخلاق کی تکمیل کروں۔‘‘   مسند احمد : (8729)   اور علامہ البانی نے اسے ’’صحیح الجامع‘‘ میں صحیح قرار دیا ہے، حدیث نمبر 2349۔

دوم:
اسلامی تشخص پر لوگوں کی تربیت کے لیے انہیں صحیح عقیدہ سکھایا جائے، نفس کے تزکیہ و تربیت کے ساتھ ساتھ قرآن و سنت کے احکام پر عمل کی ترغیب دی جائے۔ یہ تعلیم صرف تھیوری نہیں بلکہ پریکٹیکل ہے ؛ یعنی اصلاحِ عقیدہ کے ساتھ ساتھ کردار کی اصلاح، اور عبادات و معاملات کو شریعت کے تقاضوں کے مطابق کرنا۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولًا مِنْ أَنْفُسِهِمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُبِينٍ
ترجمہ: ’’اللہ نے مومنوں پر بڑا احسان کیا کہ ان میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا، جو ان پر اس کی آیات تلاوت کرتا ہے، انہیں پاکیزہ بناتا ہے، اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے، حالانکہ وہ اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے۔‘‘ (آل عمران: 164)

سوم:
اسلامی تشخص انسان کی بلند ہمتی اور عملی قوت پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔ جس قدر مسلمان کا ایمان، یقین اور اللہ کے وعدے پر اعتماد مضبوط ہو گا، اسی قدر اس کی ہمت بلند، اس کی کوشش زیادہ مخلص، اور اس کا عمل زیادہ پختہ ہو گا۔

انسان کے عمل کی کیفیت دراصل اس کے دل میں موجود یقین اور ایمان کی پختگی پر موقوف ہے۔ فطرتاً جس کے اندر ایمان اور یقین زیادہ ہو گا، اس کی عملی زندگی میں بھی اتنا ہی جوش، اخلاص اور استقلال ظاہر ہو گا۔

اسی طرح مسلمان جب اپنے عزت و شرف اور اسلامی انتساب کو محسوس کرتا ہے، تو اس کی خود اعتمادی اور عزیمت میں اضافہ ہوتا ہے، اس کا حوصلہ بلند ہوتا ہے، اور اس کا کردار مضبوط ہوتا ہے۔

چہارم:
جہاں تک دماغی و لسانی پروگرامنگ (Neuro-Linguistic Programming – NLP) کا تعلق ہے، تو یہ ایک ایسا نفسیاتی طریقۂ کار ہے جو بعض ماہرین کے نزدیک مختلف ذہنی یا جذباتی الجھنوں کے حل، اور زندگی میں بہتر کارکردگی کے حصول کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس نظریے کے ماننے والوں کے مطابق یہ دراصل چند عملی طریقے اور نفسیاتی اصولوں کا مجموعہ ہے، جن کا مقصد انسان کے رویے میں مثبت تبدیلی پیدا کرنا اور اسے کامیابی کی واضح حکمتِ عملی فراہم کرنا ہے۔

ان ماہرین کے نزدیک اس کا خاصہ یہ ہے کہ اگر کوئی شخص ان اسالیب علاج کو سیکھ لے تو وہ شخص کسی بیرونی معالج کا محتاج نہیں رہتا، بلکہ خود اپنے اندر نفسیاتی  اور اپنے رویے میں تبدیلی لا سکتا ہے۔ اس کے ذریعے وہ اپنے لیے کامیابی کا ایک واضح روڈ میپ بناتا ہے، پھر مخصوص ذہنی تکنیکوں کے ذریعے پرانے خیالات اور محدود عقائد کو ختم کر کے ان کی جگہ نئی سوچ اور نئی عادتیں پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اسی مفہوم کی بنا پر اسے ’’پروگرامنگ‘‘ کہا جاتا ہے، یعنی ذہن کو ازسرِنو ترتیب دینا۔

تاہم جب اس نظریے کو اسلامی نقطۂ نظر سے پرکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کے بہت سے اصول اور تصورات غیر اسلامی فلسفے اور باطل عقائد سے ماخوذ ہیں۔ در  حقیقت اس علم کی فکری بنیاد ایک ایسے تصور پر قائم ہے جو انسان کو اپنے وجود کا خود مختار مالک سمجھتا ہے، جبکہ اسلام میں بندہ اپنے تمام امور میں اللہ تعالیٰ کے فیصلوں، تقدیر اور ہدایت کا محتاج ہوتا ہے۔

لہٰذا اگر یہ نظریہ بغیر تنقیدی اور علمی چھان بین کے اپنایا جائے تو یہ مسلمان کے عقیدے، فکری توازن اور اسلامی تشخص کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اس میں بعض ایسے تصورات بھی شامل ہیں جو ایمان، توکل اور تسلیم و رضا کے اسلامی اصولوں کے منافی ہیں۔

اسی بنا پر معاصر علماء کرام اور نفسیات کے ماہرین نے اس علم سے احتیاط اور اجتناب کی سخت تاکید کی ہے، اور واضح کیا ہے کہ اس کے اثرات بعض اوقات مسلمان کے دین، عقیدے اور فکری تشخص پر منفی طور پر ظاہر ہوتے ہیں۔اور اس حوالے سے مزید مطالعے کے لیے درج ذیل کتب نہایت مفید ہیں:

  • ’’معالم الشخصية الإسلامية‘‘ از ڈاکٹر عمر سلیمان الاشقر
  • ’’منهج التربية الإسلامية‘‘ از محمد قطب
  • ’’دراسات في النفس الإنسانية‘‘ از محمد قطب
  • ’’هكذا ظهر جيل صلاح الدين‘‘ از ڈاکٹر ماجد عرسان الکیلانی

واللہ اعلم

حوالہ جات

ماخذ

الاسلام سوال و جواب

at email

ایمیل خبرنامہ

اسلام سوال و جواب کی میلنگ لسٹ میں شامل ہوں

phone

اسلام سوال و جواب ایپ

مواد تک فوری رسائی اور آف لائن مطالعہ کے لیے

download iosdownload android