انسان کی ذہانت بڑھانا سائنسی تحقیق اور نفسیاتی مطالعات کا ایک تخصصی شعبہ ہے، جس پر آج جامعات، تعلیمی ادارے اور تحقیقی مراکز توجہ دے رہے ہیں۔ بہت سے محققین اس موضوع میں دلچسپی رکھتے ہیں، اور اس مقصد کے لیے خصوصی مطالعات اور تحقیقات کی بنیاد پر بہت سی کوششیں کی جا رہی ہیں اور پروگرام ترتیب دیے جا رہے ہیں۔
قرآن کریم حفظ کرنے اور حافظ کی ذہانت بڑھنے کے درمیان تعلق ثابت کرنے کے لیے باقاعدہ علمی اصولوں کے مطابق مطالعات اور تحقیقات ضروری ہیں۔ ان میں حفظِ قرآن کے مراکز کے طلبہ کے ایک منتخب گروہ پر تجربات کیے جائیں، ذہانت جانچنے کے انتہائی دقیق عالمی پیمانوں کے ذریعے حفظ سے پہلے اور بعد میں ان کی ذہانت کی سطح معلوم کی جائے، پھر عمر اور تعلیمی فرق کو ملحوظ رکھتے ہوئے ان کا موازنہ ایسے طلبہ سے کیا جائے جو حفظ نہیں کر رہے۔ اس کے بعد تحقیق کے نتائج ہی کی بنیاد پر فیصلہ کیا جائے، تاکہ ہم متعلقہ لوگوں سے انہی کی زبان میں بات کریں، ہمارا دعویٰ واضح تجرباتی دلیل پر مبنی ہو اور ہم پر جذبات کی بنیاد پر فیصلے کرنے کا الزام نہ آئے۔ ہم نے سنا ہے کہ اس موضوع پر جامعہ ازہر میں ایک خصوصی تحقیق ہوئی ہے، لیکن اب تک ہمیں وہ دستیاب نہیں ہو سکی۔
البتہ یہاں اتنا کہنا کافی ہے کہ قرآن حفظ کرنا اور اس کی تلاوت کرنا دل کی پاکیزگی اور تزکیے کے اہم ترین اسباب میں سے ہے، اور بندے کے لیے برکت کے بڑے ذرائع میں شامل ہے۔ اس سلسلے میں ہم چند مسلمہ باتوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں:
اول:
قرآن کریم کا حفظ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک نور ہے جسے وہ اپنے بندے کے دل میں ڈالتا ہے۔ اس کی فضیلت کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہی کافی ہے کہ وہ: (اترُج کی مانند ہے جس کا ذائقہ بھی اچھا اور خوشبو بھی اچھی ہوتی ہے۔) اسے بخاری، حدیث نمبر: 5020، اور مسلم، حدیث نمبر: 797، نے روایت کیا ہے۔ نیز ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (جس شخص کے سینے میں قرآن کا کچھ بھی حصہ نہیں، وہ ویران گھر کی مانند ہے۔) اسے ترمذی نے روایت کیا ہے، حدیث نمبر: 2913، اور حسن صحیح قرار دیا ہے۔ البانی نے بھی اسے ’’صحیح ترمذی‘‘ میں صحیح قرار دیا ہے۔
دوم:
قرآن کریم حفظ کرنا تدبر، غور و فکر اور سوچ بچار کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ یہی اللہ کے دین کی سمجھ حاصل کرنے اور اس کی رضا و ناراضی کے اسباب پہچاننے کا سب سے اہم راستہ ہے، تاکہ رضا کے کام کیے جائیں اور ناراضی کے کاموں سے بچا جائے۔
سوم:
قرآن کریم دنیا و آخرت میں بندے کی خوشی، آسودگی اور اطمینان کا ذریعہ ہے۔ ذہنی صلاحیتیں اس وقت تک پروان نہیں چڑھ سکتیں جب دل غفلت اور افسردگی کا شکار ہو اور پریشانیوں اور آلائشوں سے بھرا ہو۔
چہارم:
ابتدائی ادوار کے ان ذہین لوگوں کی مثالیں بھی سامنے رکھنی چاہییں جو اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت کے حافظ تھے۔ طبری، قرطبی، ابن کثیر، رازی اور ابن تیمیہ جیسے جلیل القدر مفسرین اور دیگر اہل علم کے حالاتِ زندگی پر ایک نظر ڈالنے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے۔ یہ شخصیات ذہنی صلاحیتوں پر حفظِ قرآن کے اثرات کی سب سے بڑی دلیل ہیں۔
پنجم:
قرآن کریم حفظ کرنے میں درحقیقت کثرت سے پڑھنا اور مطالعہ کرنا شامل ہے۔ بہت سی جدید تحقیقات اس بات پر متفق ہیں کہ مطالعہ پڑھنے والے کی ذہانت بڑھانے کے اہم ترین اسباب میں سے ہے۔ پھر اس مطالعے کا کیا کہنا جس میں سب سے معزز، پاک اور پاکیزہ کلام پڑھا جا رہا ہو!
واللہ اعلم