سوموار 21 شوال 1440 - 24 جون 2019
اردو

اپنی منکوحہ کی طرف سے قربانی کر سکتا ہے؟

سوال

سوال: میرا نکاح ہو گیا ہے، لیکن ابھی رخصتی نہیں ہوئی، تو کیا میں اس کی طرف سے قربانی کروں؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

قربانی کرنا اسلامی شعائر میں سے ایک ہے، اور صاحب استطاعت کیلئے سنت مؤکدہ ہے، چنانچہ  ہر سربراہ شخص اپنے  اور اپنے اہل خانہ کی طرف سے قربانی کر سکتا ہے۔

اس بارے میں مزید  کیلئے سوال نمبر: (36432) کا جواب ملاحظہ کریں۔

پہلے سوال نمبر: (36387) میں گزر چکا ہے کہ :
"جب انسان  اپنے اور اپنے اہل خانہ کی طرف سے قربانی کی نیت کرے تو اس میں بیوی، اولاد، زندہ اور فوت شدگان سب شامل ہو جاتے ہیں  جن کی طرف سے قربانی کی نیت کی گئی ہو"

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"گھر کا سربراہ  اپنی طرف سے اور اہل خانہ کی طرف سے قربانی کریگا، اس میں زندہ اور فوت شدگان  کو بھی شامل کر سکتا ہے، یہی قربانی کا سنت طریقہ  ہے" انتہی
" فتاوى نور على الدرب "

گھر کے سربراہ کی طرف سے ایک ہی قربانی دیگر تمام اہل خانہ کی طرف سے بھی کافی ہوگی چاہے ان کی تعداد کتنی ہی کیوں نہ ہو، اس لئے گھر کے سربراہ پر ہر شخص کی طرف سے پوری ایک قربانی الگ سے کرنا  ضروری نہیں ہے۔

چونکہ منکوحہ عورت  بھی انسان کی بیوی ہوتی ہے تو وہ بھی ان لوگوں میں شامل ہوگی جن کی طرف سے قربانی کی جائے، چنانچہ منکوحہ کی طرف سے الگ قربانی کرنا  لازمی نہیں ہے۔

اور اگر منکوحہ کا والد اپنی بیٹی کی طرف سے قربانی کر دے تو یہ بھی کافی ہوگا؛ کیونکہ یہ  ابھی تک اپنے والد کے پاس ہی رہتی ہے، اور اس کا خرچہ باپ ہی کے ذمہ ہے۔

لہذا –الحمد للہ-دونوں طرح معاملہ درست ہے۔

واللہ اعلم.

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں