سوموار 21 شوال 1440 - 24 جون 2019
اردو

کیا عید کی قربانی کرنے کا ارادہ رکھنے والی خاتون ہیئر ڈرائیر سے بال سیدھے کر سکتی ہے؟

سوال

سوال: کیا عید کی قربانی کرنے والی خاتون ہیئر ڈرائیر سے بال سیدھے کر سکتی ہے؟ کیونکہ ہیئر ڈرائیر استعمال کرنے سے لازمی طور پر بال گریں گے۔

جواب کا متن

الحمد للہ:

جو کوئی بھی عید کی قربانی کرنا چاہتا ہے، وہ ذو الحجہ کی ابتدا سے لیکر قربانی کر لینے تک اپنے بالوں، ناخن، اور نہ ہی اپنے جلد سے کوئی چیز کاٹے؛ کیونکہ فرمانِ نبوی ہے: (جب ذو الحجہ کا پہلا عشرہ شروع ہوجائے ، اور تم میں سے کوئی قربانی کرنا چاہے تو اپنے بال یا جلد سے کچھ بھی نہ کاٹے)مسلم: (1977)

جبکہ بالوں کو کنگھی کرنے کے بارے میں یہ ہے کہ: نرمی کیساتھ بالوں میں کنگھی کی جاسکتی ہے، عمداً بال توڑنے کے ارادے سے کنگھی نہ کی جائے تو یہ جائز ہے، اس میں کوئی حرج والی بات نہیں ہے، اس کے لئے خواتین کو خصوصی طور پر اجازت ہوگی کیونکہ انہیں اپنے بال دھونے اور سیدھے کرنے کی شدید ضرورت پڑتی ہے۔

اور اگر اس سے مقصود یہ ہو کہ بال کاٹے جائیں، یا ٹوٹ جائیں تو پھر جائز نہیں ہے، کیونکہ یہ کاٹنے ہی کے حکم میں ہوگا، اور عید کی قربانی کرنے والے کیلئے بال کاٹنا ممنوع ہے، کیونکہ وہ اس عمل سے احرام باندھنے والوں کی مشابہت اختیار کرتا ہے۔

اور " الموسوعة الفقهية " (11/179) میں ہے کہ:

"اگر احرام والا شخص کنگھی کرنے کی وجہ سے پُر یقین ہوکہ بال گریں گے، اس صورت میں تمام فقہائے کرام کے ہاں کنگھی کرنے کی حرمت میں کوئی اختلاف نہیں ہے"انتہی

عراقی " طرح التثريب " (5/33) میں کہتے ہیں:

"بالوں کی [مینڈھیوں کو]کھولنا اور کنگھی کرنا دونوں احرام کی حالت میں جائز ہیں، بشرطیکہ اس سے بال نہ اکھڑیں"انتہی

دائمی فتوی کمیٹی کے علمائے کرام کا کہنا ہے کہ:

"عید کی قربانی کا ارادہ کرنے والا شخص ماہ ذو الحجہ کی ابتدا سے لیکر قربانی کرنے تک اپنے بال، ناخن، یا جلد کا کوئی حصہ نہ کاٹے، جبکہ بال توڑے بغیر بالوں کو [سنوارنا]سیدھا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے"انتہی

" فتاوى اللجنة الدائمة " (11/428)

شیخ ابن باز رحمہ اللہ سے پوچھا گیا:

"میں عید کی قربانی کرنا چاہتا ہوں، اور ماہِ ذو الحجہ شروع ہونے کے بعد میں اپنی داڑھی میں کنگھی کرتا ہوں، اور کنگھی کرتے ہوئے داڑھی کے کچھ بال گر جاتے ہیں، تو کیا میں داڑھی کے بالوں میں کنگھی کر سکتا ہوں یا نہیں؟

تو انہوں نے جواب دیا:

"کنگھی کرتے ہوئے غیر ارادۃً گرنے والے بال معاف ہیں؛ کیونکہ اس طرح سے گرنے والے بال مردہ حالت میں ہوتے ہیں، یہی حکم احرام والے کے سر، داڑھی وغیرہ سے وضو اور غسل کرتے ہوئے گرنے والے بالوں کا بھی ہے، اس سے بھی معافی مل جائے گی، کیونکہ یہ بال مردہ ہوچکے ہوتے ہیں، چنانچہ عشرہ ذو الحجہ شروع ہونے کے بعد عید کی قربانی کرنے والے شخص کیلئے بھی یہی حکم ہوگا، بالوں کے کاٹنے کے بارے میں حرام یہ ہے کہ احرام کی حالت میں یا عید کی قربانی کرنے والا شخص جان بوجھ کر بال کاٹے ، [یہ حرام ہے]"انتہی

" فتاوى إسلامية " (2 /713)

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ سے پوچھا گیا:

"عید کی قربانی کرنے سے پہلے غیر حاجی کیلئے ذو الحجہ کے مہینے میں بالوں کی کنگھی کرنے کا کیا حکم ہے؟

تو انہوں نے جواب دیا:

"جب ماہ ذو الحجہ شروع ہوجائے ، اور انسان کا عید پر قربانی کرنے کا ارادہ بھی ہو تو اسکے لئے اپنے بال، ناخن، یا جلد کا کوئی بھی کاٹنا منع ہے، لیکن اگر کسی خاتون کو بالوں میں کنگھی کرنے کی ضرورت پیش آجائے، تو سر کے بالوں میں کنگھی کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، اس کیلئے نرمی سے کنگھی کرے، اور اگر پھر بھی غیر ارادی طور پر کوئی بال گر جائے تو اس پر گناہ نہیں ہوگا؛ کیونکہ اس نے بال گرانے کیلئے کنگھی نہیں کی، بلکہ بال سیدھے کرنے کیلئے کنگھی کی ہے، جبکہ بال غیر ارادی طور پر گرے ہیں"انتہی

" نور على الدرب " (9/58)

خلاصہ کلام یہ ہوا کہ:

عید کی قربانی کرنے والے کیلئے گنگھی کرنا حرام نہیں ہے، اور خواتین کو چاہئے کہ آرام سے بالوں میں کنگھی کریں، اور اگر کوئی مردہ بال گر بھی جاتا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے، اسی طرح اگر کوئی بال کاٹنے کے قصد کے بغیر ہی کٹ جائے تو تب بھی کوئی حرج نہیں ہے۔

جبکہ جان بوجھ کر بالوں کو کاٹنا ، یا بالوں میں کنگھی کرنے سے غالب گمان ہو یا یقین ہو کہ غیر مردہ بال بھی گریں گے ایسی صورت میں بالوں میں کنگھی مت کرے۔

چنانچہ ہیئر ڈرائیر اگر بالوں کو سیدھے کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے، اور اس سے صرف مردہ بال ہی گرتے ہیں تو اس کے استعمال میں کوئی حرج نہیں ہے۔

اور اگر یہ یقین ہوجائے کہ ہیئر ڈرائیر کے استعمال سے بال ضرور ٹوٹے گیں تو پھر اسے استعمال کرنا جائز نہیں ہوگا۔

مزید کیلئے سوال نمبر: (83381) کا مطالعہ کریں۔

واللہ اعلم .

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں