’’صحفِ ابراہیم ‘‘آسمانی کتابوں میں سے ہیں ان پر ایمان لانا واجب ہے، اور ہم ان کے بارے میں صرف اتنا ہی جانتے ہیں جتنا اللہ تعالیٰ نے ہمیں بتایا ہے۔

سوال 199116

حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ’’صحف‘‘ کیا تھے؟ کیونکہ بابلی تہذیب میں لوگ مٹی پر لکھتے اور پھر اسے پکاتے (یعنی پختہ کرتے) تھے، جبکہ مصری تہذیب میں وہ ’’پاپائرس‘‘ کے کاغذ پر لکھتے تھے جو دریائے نیل کے کنارے اگتا تھا، اور عرب بعد میں چمڑے پر لکھا کرتے تھے۔
میرا مطلب یہ ہے کہ وہ ’’صحف‘‘ کس چیز کے بنے ہوئے تھے؟ کیا وہ مادی (Physical) تھے؟ ان کے مضمون سے قطعِ نظر، میں صرف ان کی نوعیت جاننا چاہتا ہوں۔

جواب کا متن

ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالی کے لیے، اور دورو و سلام ہوں اللہ کے رسول پر، بعد ازاں:

اوّلًا:
’’صحفِ ابراہیم‘‘ وہ صحیفے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی اور خلیل ابراہیم علیہ السلام پر نازل فرمائے، جن میں مواعظ و احکام کا مجموعہ تھا۔
یہ آسمانی کتب میں سے ہیں جن پر ایمان لانا واجب ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ كُلٌّ آمَنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْ رُسُلِهِ وَقَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ (البقرۃ: 285)
ترجمہ: ’’رسول اس چیز پر ایمان لایا جو اس کے رب کی طرف سے اس پر نازل کی گئی، اور مؤمن بھی؛ سب ایمان لائے اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اور اس کے رسولوں پر، ہم اس کے رسولوں میں سے کسی کے درمیان فرق نہیں کرتے، اور وہ کہتے ہیں: ہم نے سنا اور اطاعت کی، اے ہمارے رب! ہم تیری بخشش چاہتے ہیں اور تیری ہی طرف لوٹنا ہے۔‘‘

شیخ ابن باز رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’ہم اللہ کی تمام کتابوں پر اجمالًا و تفصیلًا ایمان رکھتے ہیں، ان تمام کتابوں پر جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں پر نازل فرمائیں، جیسے تورات، انجیل، زبور، قرآن، اور اسی طرح موسیٰ و ابراہیم کے صحیفے۔ ہم ہر اس کتاب پر ایمان رکھتے ہیں جو اللہ نے اپنے رسولوں پر نازل کی۔‘‘
(مجموع فتاویٰ ابن باز، 28/17)
اور تفصیل کے لیے سوال نمبر (126004) کا جواب ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔

ثانیًا:
جہاں تک ان صحیفوں کی نوعیت اور مادی ساخت کا تعلق ہے، کہ وہ کس چیز کے بنے تھے؟ کیا وہ تختیوں پر تھے، یا کاغذ پر، یا چمڑے پر؟ تو یہ ایسی بات ہے جس کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔ اس بارے میں ہمیں کوئی خبر نہیں دی گئی، اور اس علم کا ایمان یا عمل سے کوئی تعلق نہیں۔ اس کا جاننا نہ فائدہ دیتا ہے اور نہ نہ جاننا نقصان دہ ہے۔ اس طرح کی تحقیق محض تکلف ہے۔

اللہ تعالیٰ نے ہمیں صرف اتنا بتایا ہے کہ وہ ’’صحف‘‘ تھے، اور ’’صحیفہ‘‘ ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو کسی چیز پر لکھنے کے لیے پھیلائی جائے، خواہ وہ کاغذ ہو، چمڑا، تختی، یا کوئی اور مادہ۔

امام طبری ’’تفسیر‘‘ (24/377) میں فرماتے ہیں:
’’اور جہاں تک صحف کا تعلق ہے تو یہ ’صحیفہ‘ کی جمع ہے، اور اس سے مراد ابراہیم اور موسیٰ کی کتابیں ہیں۔‘‘

اور ابن منظور ’’لسان العرب‘‘ (9/186) میں لکھتے ہیں:
’’صحیفہ وہ چیز ہے جس پر لکھا جائے، اور اس کی جمع صحائف، صُحُف اور صُحْف ہے۔ قرآن میں فرمایا گیا: إِنَّ هَذَا لَفِي الصُّحُفِ الْأُولَى صُحُفِ إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَى ، یعنی ان دونوں پر نازل کی گئی کتابیں۔‘‘

عجیب بات یہ ہے کہ سائل نے ان صحف کی مادی نوعیت کے بارے میں پوچھا اور کہا: ’’ ان کے مضمون سے قطعِ نظر، میں صرف ان کی نوعیت جاننا چاہتا ہوں۔ ‘‘، حالانکہ اگر وہ ان کے مضمون کے بارے میں پوچھتا اور مادّی صورت سے صرفِ نظر کرتا تو زیادہ مناسب اور نافع ہوتا۔

واللہ تعالیٰ اعلم۔

حوالہ جات

کتابوں پرایمان

ماخذ

الاسلام سوال و جواب

Previous
آگے
answer

متعلقہ جوابات

at email

ایمیل خبرنامہ

اسلام سوال و جواب کی میلنگ لسٹ میں شامل ہوں

phone

اسلام سوال و جواب ایپ

مواد تک فوری رسائی اور آف لائن مطالعہ کے لیے

download iosdownload android