جمعہ 21 شعبان 1440 - 26 اپریل 2019
اردو

میت کو غسل دینے کا شرعی طریقہ

سوال

سوال: میت کو غسل دینے کا کیا طریقہ ہے؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

میت کو شرعی غسل دینے کا طریقہ یہ ہے کہ:
سب سے پہلے استنجاء کروایا جائے اور اگر جسم سے بول و براز خارج ہو تو غسل دینے والا اپنے ہاتھ پر کپڑا لپیٹ کر میت کی شرمگاہ آگے پیچھے دونوں طرف سے دھوئے، اور پانی بہا دے، نیز ناف سے لیکر گھٹنے تک جسم کو ڈھانپ کر رکھا جائے، اس کی طرف نظر نہ پڑے۔

اس کے بعد شرعی وضو کروایا جائے، میت کا منہ اور ناک پانی سے صاف کیا جائے، میت کا چہرہ اور کہنیاں دھوئی جائیں، سر اور کانوں کا مسح کروایا جائے، پھر میت کے پاؤں دھوئے جائیں، اور پھر بیری کے پتوں والا پانی سر پر بہا دیا جائے، اس کے بعد دائیں جانب اور پھر بائیں جانب پانی ڈالا جائے، اور پھر پورے بدن پر پانی بہا دیا جائے، آخری باری پانی بہاتے ہوئے کافور بھی لگایا جائے، کافور ایک مشہور خوشبو ہے جس سے جسم کی حفاظت اور مہک اچھی ہو جاتی ہے۔

غسل کا یہ طریقہ کار افضل ہے، تاہم کسی طرح بھی غسل دیا جائے کفایت کر جائےگا، شرط یہ ہے کہ سارے جسم پر پانی بہایا جائے اور جسم کی اچھی طرح صفائی کی جائے۔

لیکن افضل یہی ہے کہ : سب سے پہلے استنجا کروایا جائے، پھر مکمل شرعی وضو ، پھر بیری کے پتوں والے پانی سے تین بار غسل دیا جائے اور پھر تین بار دائیں جانب اور تین بار بائیں  پانی بہایا جائے، اور اگر تین بار سے زیادہ غسل دینے کی نوبت آئے تو پانچ بار اس بھی زیادہ ضرورت محسوس ہو تو سات بار غسل دیں، یعنی وتر تعداد میں غسل دیا جائے، یہی افضل ہے۔

اور اگر صرف ایک یا دو بار ہی غسل دیا جائے تو تب بھی کافی ہے، تاہم افضل یہی ہے کہ 3، 5، اور 7 بار غسل ضرورت دینے پر دیا جا سکتا ہے۔۔۔" تھوڑے سے اختصار کیساتھ اقتباس مکمل ہوا۔

ماخوذ از: " فتاوى نور على الدرب "از شیخ ابن باز رحمہ اللہ :

http://www.binbaz.org.sa/mat/14043

واللہ اعلم .

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں