اتوار 15 جمادی اولی 1440 - 20 جنوری 2019
اردو

خرچہ كى مد ميں والدين كو زكاۃ دينى جائز نہيں

20173

تاریخ اشاعت : 16-05-2011

مشاہدات : 3631

سوال

ميں اپنى زكاۃ والد كو دينا چاہتا ہوں، كيونكہ ميرے والد صاحب كوئى كام نہيں كرتے اور بوڑھے ہيں كام نہيں كر سكتے، اور ان كے چار بچے بھى ہيں جن كى وہ پرورش كر رہے ہيں، ان ميں سے ايك معذور ہے جس كى عمر تيس برس ہے، تو كيا ميں اپنے يا اپنى بہن كے مال كى زكاۃ انہيں دے سكتا ہوں، كيونكہ وہ بہت فقير اور محتاج ہيں ؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

يہ سوال دو شقوں پر مشتمل ہے:

پہلى:

والدين كو زكاۃ دينے كا حكم:

شيخ ابن باز رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

" مسلمان كے ليے جائز نہيں كہ اپنے والدين كو زكاۃ دے، اور نہ ہى وہ اپنى اولاد كو زكاۃ دے سكتا ہے، بلكہ اگر وہ اس كے محتاج ہوں تو اسے ان پر خرچ كرنا ہو گا، اور ان پر خرچ كرنے پر اس كى قدر كى جائے گى"

ماخوذ از: كتاب: الفتاوى الجامعۃ ( 1 / 306 ).

دوسرى شق:

بھائيوں كو زكاۃ دينى:

اس كى تفصيل ديكھنے كے ليے آپ سوال نمبر ( 22177 ) كے جواب كا مطالعہ كريں.

واللہ اعلم .

ماخذ: الشيخ محمد صالح المنجد

تاثرات بھیجیں