حدیث: ’’ مجاہد وہ ہے جو اللہ کی اطاعت کے لیے اپنے نفس کے خلاف جہاد کرے ‘‘

سوال: 202449

حدیث ’’ مجاہد وہ ہے جو اللہ کی اطاعت کے لیے اپنے نفس کے خلاف جہاد کرے ‘‘ کیا صحیح حدیث ہے؟

جواب کا متن

ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالی کے لیے، اور دورو و سلام ہوں اللہ کے رسول پر، بعد ازاں:

امام احمد (23958)، ابن حبان (4862)، طبرانی ’’المعجم الکبیر‘‘ (796) میں، امام حاکم (24)، ابن المبارک ’’الزہد‘‘ (826) میں، نسائی ’’السنن الکبریٰ‘‘ (11794) میں اور بیہقی ’’الشعب‘‘ (10611) میں فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا: ’’کیا میں تمہیں مومن کے بارے میں نہ بتاؤں؟ مومن وہ ہے جس سے لوگ اپنی جان و مال کے بارے میں پر امن رہیں۔ اور مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے لوگ سلامت رہیں۔ اور مجاہد وہ ہے جو اللہ کی اطاعت کے لیے اپنے نفس کے خلاف جہاد کرے۔ اور مہاجر وہ ہے جو خطاؤں اور گناہوں کو ترک کر دے۔‘‘
اسی روایت کو ترمذی (1621) نے مختصر طور پر یوں بیان کیا ہے: ’’ مجاہد وہ ہے جو اپنے نفس کے خلاف جہاد کرے ۔‘‘
ابن ماجہ (3934) میں بھی یہ حدیث مختصر لفظوں کے ساتھ آئی ہے کہ :’’ مومن وہ ہے جس سے لوگ اپنی جان و مال کے بارے میں پر امن رہیں، اور مہاجر وہ ہے جو خطاؤں اور گناہوں کو ترک کرے ۔‘‘
ترمذی اور حاکم دونوں نے اسے صحیح قرار دیا ہے، اور علامہ البانی نے بھی ’’سلسلہ صحیحہ‘‘ (549) میں اسے صحیح کہا ہے۔

علامہ ہیثمی نے ’’مجمع الزوائد‘‘ (3/268) میں اس کو طویل روایت کی صورت میں ذکر کیا اور کہا:
’’اسے بزار اور طبرانی نے المعجم الکبیر میں مختصراً روایت کیا ہے، اور بزار کے راوی ثقہ ہیں۔‘‘

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اس حدیث کے ثبوت میں کہتے ہیں:
’’یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے عبداللہ بن عمرو، فضالہ بن عبید اور دیگر صحابہ کے طریق سے جید سند کے ساتھ مروی ہے، یہ حدیث کتب سنن میں موجود ہے اور اس کے بعض حصے صحیحین میں بھی ہیں‘‘ (مجموع الفتاویٰ 7/7)۔

اور اس حدیث کے مفہوم کے متعلق شیخ الاسلام رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’حدیث کے الفاظ { المجاهد من جاهد نفسه في ذات الله } ترجمہ: ’’ مجاہد وہ ہے جو ذات باری تعالی کے لیے اپنے نفس کے خلاف جہاد کرے۔‘‘ یعنی اس حدیث میں بندے کو اپنی جان سے جہاد کرنے کا حکم ایسے ہی دیا گیا ہے جیسے اسے معصیت پر اکسانے والے اور گناہوں کی دعوت دینے والے نفس کے خلاف جہاد کا حکم ہے۔ بلکہ انسان کو اپنے نفس کے خلاف جہاد کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے، کیونکہ یہ فرض عین اور وہ فرض کفایہ ہے۔ اور اس جہاد میں صبر [یعنی برائیوں سے دوری] سب سے بہترین اعمال میں شامل ہے، کیونکہ یہی جہاد حقیقی جہاد ہے، جو اس میں صبر کر لیتا ہے وہ دوسرے جہاد میں بھی صبر کر لیتا ہے۔ جیسے فرمایا گیا: (مہاجر وہ ہے جو برائیوں کو چھوڑ دے)۔
پھر یہ (یعنی نفس کے خلاف جہاد) اسی وقت قابلِ تعریف ہے جب آدمی اپنی خواہشِ نفس کو مغلوب کر لے۔ برخلاف دشمن کے خلاف جہاد کے، کہ وہاں پر کوئی غالب آئے یا شہادت پائے ہر دو صورت میں اس کے بارے میں اللہ تعالی کی طرف سے اجر عظیم کا وعدہ ہے۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: (مجموع الفتاویٰ 10/635)

ابن قیم رحمہ اللہ ’’زاد المعاد‘‘ (3/6) میں کہتے ہیں:
’’ نفس کے خلاف جہاد، بیرونی دشمن کے خلاف جہاد سے پہلے ہے اور دراصل اسی کی بنیاد ہے۔ کیونکہ اگر انسان سب سے پہلے اپنے نفس کو اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ وہ ان احکامات کو بجا لائے جن کا اسے حکم دیا گیا ہے اور ان چیزوں کو چھوڑ دے جن سے اسے روکا گیا ہے، اور اللہ کی رضا کے لیے اپنی خواہشات کے خلاف لڑائی نہ کرے، تو وہ کبھی بھی بیرونی دشمن سے جہاد نہیں کر سکتا۔ آخر وہ دشمن سے کیسے مقابلہ کرے گا اور اس پر کیسے غالب آئے گا جبکہ اس کا سب سے بڑا دشمن، جو اس کے اپنے اندر ہے، اسے زیر کیے ہوئے اور قابو میں لیے ہوئے ہے؟ اگر اس نے ابھی تک اپنے نفس کے ساتھ اللہ کی خاطر جہاد نہیں کیا اور اسے مغلوب نہیں کیا، تو وہ بیرونی دشمن کا مقابلہ کرنے کے لیے بھی تیار نہیں ہو سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنے دشمن کے خلاف میدان میں اسی وقت نکل سکتا ہے جب وہ پہلے اپنے نفس کو جہاد کے لیے تیار کرنے میں کامیاب نہ ہو جائے۔ ‘‘

ابن رجب رحمہ اللہ ’’لطائف المعارف‘‘ (ص 227) میں لکھتے ہیں:
’’جہاد کی دوسری قسم یہ ہے کہ آدمی اللہ کی اطاعت میں اپنے نفس سے جہاد کرے، جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (مجاہد وہ ہے جو اللہ کی ذات کے لیے اپنے نفس کے خلاف جہاد کرے۔)۔ اور بعض صحابہ سے منقول ہے کہ ایک شخص نے ان سے جہاد کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: ’’پہلے اپنے نفس کے خلاف جہاد کر، اور اپنے نفس پر غلبہ پہلے حاصل کر‘‘۔
نفس کے ساتھ سب سے عظیم جہاد اللہ کے گھروں کو ذکر و اطاعت سے آباد کرنا ہے۔‘‘ ختم شد

انہوں نے مزید کہا:
’’یہ جہاد صبر [برائی سے رکنے اور نیکی پر عمل کرنے] کا محتاج ہے، چنانچہ جو شخص اپنے نفس، خواہش اور شیطان کے خلاف ڈٹ جاتا ہے وہ غالب آ جاتا ہے اور کامیابی حاصل کرتا ہے اور اپنی جان پر قابو پا لیتا ہے، وہ معزز بادشاہ کی طرح ہو جاتا ہے۔ اور جو اپنے آپ پر کنٹرول نہیں کرتا، بے صبری کرتا ہے، وہ مغلوب، قید اور اسیر ہو جاتا ہے، اپنے نفس اور شیطان کا غلام بن جاتا ہے۔ جیسا کہ کہا گیا ہے:
{إذا المرءُ لم یغلبْ هواهُ أقامه * بمنزلةٍ فیها العزیزُ ذلیلُ }
ترجمہ: (جب آدمی اپنی خواہش پر غلبہ حاصل نہ کر پائے تو وہ ایسی حالت میں ہوتا ہے جہاں عزت والا ذلیل ہو جاتا ہے) ‘‘ ختم شد
ماخوذ از: جامع العلوم والحکم : (2/584)

مزید تفصیل کے لیے سوال نمبر: (10455) کا جواب ملاحظہ کریں۔

واللہ اعلم

حوالہ جات

ماخذ

الاسلام سوال و جواب

answer

متعلقہ جوابات

at email

ایمیل خبرنامہ

اسلام سوال و جواب کی میلنگ لسٹ میں شامل ہوں

phone

اسلام سوال و جواب ایپ

مواد تک فوری رسائی اور آف لائن مطالعہ کے لیے

download iosdownload android