ہفتہ 11 جمادی ثانیہ 1440 - 16 فروری 2019
اردو

صوفی سلسلے اور انکی طرف نسبت رکھنے کا حکم

سوال

سوال: صوفی سلسلوں میں ایک سلسلہ سیاریا (syari'a) ہے جسے طریقت، حقیقت، اور معرفت بھی کہتے ہیں، کیا یہ درست ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام کو خود ان سلسلوں کے بارے میں تعلیم دی تھی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان سلسلوں سے وہی مراد لیتے تھے جو آجکل صوفی مراد لیتے ہیں؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

سب سے پہلے ہمارے لئے یہ جاننا لازمی ہے کہ "صوفی" کی نسبت  صوف یعنی اون سے بنے  لباس  کی طرف ہے، کسی اور چیز کی جانب نہیں ہے۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"لفظ"صوفی" صحیح موقف کے مطابق صوف یعنی اون کے لباس کی طرف نسبت ہے، کچھ نے یہ بھی کہا ہے کہ "صفوۃ الفقہاء" کی طرف نسبت ہے، اور یہ بھی موقف ہے کہ "صوفہ بن اد بن طانجہ" نامی ایک عرب قبیلہ کی طرف  نسبت ہے، یہ لوگ بہت زیادہ عبادت گزار تھے، کچھ کا کہنا ہے کہ "اہل صفہ" کی طرف نسبت ہے، اور بعض نے کہا ہے کہ  "صفا" یا "صفوہ" کی طرف نسبت ہے، جبکہ کچھ کا کہنا ہے کہ  صوفی کی نسبت اللہ کے حضور صف اول میں رہنے والوں کی طرف  ہے، تاہم یہ سب اقوال کمزور ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر ایسے ہی ہوتا تو انہیں صفی، صفائی، صفوی، یا صفیّ [یا کی تشدید کیساتھ] کہا جاتا ، صوفی نہ کہا جاتا" انتہی
" مجموع الفتاوى " ( 11 / 195 )

تصوّف کا ظہور پہلی تین فضیلت والی صدیوں کے گزرنے کے بعد ہوا ہے، ان تین صدیوں کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (سب سے اچھے لوگ میری صدی کے لوگ ہیں، پھر جو انکے بعد آئیں گے، اور پھر ان کے بعد  آنے والے لوگ ۔۔۔) بخاری: ( 2652 ) اور مسلم: ( 2533 ) نے اسے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں :
"لفظ "صوفی" پہلی تین صدیوں میں مشہور نہیں تھا، بلکہ بعد میں یہ لفظ زبان زد عام ہوگیا"
" مجموع الفتاوى " ( 11 / 5 )

سوال میں مذکور سلسلہ اور دیگر سلسلے بدعتی سلسلے ہیں، کتاب و سنت سے متصادم ہیں،  اور فضیلت والی صدیوں میں موجود سلف صالحین کے منہج  کے خلاف ہیں، کیونکہ  ان سلسلوں کے ہر شیخ نے  ایک الگ ورد ، جماعت، اور سلسلہ بنایا ہوا ہے، جن کی وجہ سے وہ اپنے آپ کو دیگر سلسلوں سے ممتاز رکھتے ہیں، جو  کہ شریعت کے منافی ، اور اتحاد و اتفاق کے خاتمے کا باعث ہے۔

اللہ تعالی نے اس امت پر یہ احسان کیا ہے کہ  اس کا دین  مکمل فرما کر اپنی کامل نعمتیں انہیں عطا فرما دیں ،  لہذا جو شخص بھی ایسی کوئی عبادت کا  طریقہ کار ایجاد کرتا ہے جو کہ شریعت میں موجود نہیں ہے، تو ایسا شخص  اللہ تعالی کے فرمان کی تکذیب اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر خیانت کا الزام لگاتا ہے۔

بلکہ ان کی یہ بدعت ساتھ میں دروغ گوئی اور بہتان بازی بھی ہے، کیونکہ  اگر کوئی یہ کہے کہ انہوں نے یہ سلسلہ ِطریقت  نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے لیا ہے، یا اس طریقت کے ذریعے  خلفائے راشدین کے نقش قدم پر چلتے ہیں تو یہ سراسر خلاف حقیقت بات ہے۔

دائمی فتوی کمیٹی سے پوچھا گیا:
"کیا اسلام میں شاذلی، خلوتی وغیرہ  صوفی سلسلے پائے جاتے ہیں؟ اور اگر اس قسم کے سلسلوں کی کوئی شرعی حیثیت ہے تو انکے وجود کی دلیل کیا ہے؟، اور اللہ تعالی کا یہ فرمان ہے :
وَأَنَّ هَذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيماً فَاتَّبِعُوهُ وَلا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيلِهِ ذَلِكُمْ وَصَّاكُمْ بِهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ بیشک میرا یہی سیدھا راستہ ہے؛ چنانچہ اسی کی اتباع کرو، دیگر راستوں پر مت چلو، یہ تمہیں  اللہ کے راستے سے  منتشر کر دیں گے، اللہ تعالی تمہیں اسی بات کی نصیحت کرتا ہے، تا کہ تم متقی بن جاو۔[الأنعام : 153] کا کیا معنی ہے؟
اسی طرح اللہ تعالی کے فرمان : وَعَلَى اللَّهِ قَصْدُ السَّبِيلِ وَمِنْهَا جَائِرٌ وَلَوْ شَاءَ لَهَدَاكُمْ أَجْمَعِينَ اور سیدھا راستہ بتلانا اللہ کے ذمہ ہے اور کچھ ان میں ٹیڑھے ہیں اور اگر وہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت دے دیتا ۔[النحل :9]ان آیات کا کیا مطلب ہے، پہلی آیت میں مذکور مختلف راستوں سے کیا مراد ہے ،  مزید برآں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  سے ابن مسعود کی روایت کردہ اس  حدیث کا کیا حکم ہے، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خط زمین پر کھینچا، اور فرمایا: (یہ بھلائی کا راستہ ہے) اس کے بعد اس خط کے دائیں بائیں متعدد خطوط بنائے، اور پھر فرمایا: (یہ مختلف راستے ہیں، اور ہر راستے کی طرف دعوت دینے کیلئے شیطان   مقرر ہے)"
تو فتوی کمیٹی نے جواب دیا:
"اسلام میں مذکورہ اور اسی جیسے دیگر سلسلوں کی کوئی حقیقت نہیں ہے، اسلام میں جو کچھ موجود ہے وہ وہی ہے جو آپکی ذکر کردہ دونوں آیات، اور حدیث میں موجود ہے، اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان میں ہے: (یہود اکہتّر فرقوں میں بٹے، عیسائی بہتّر فرقوں میں اور  میری امت تہتّر فرقوں میں بٹے گی، ایک فرقے کے علاوہ سب کے سب جہنم میں جائیں گے) کہا گیا: "وہ کونسا فرقہ ہوگا؟" تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (جو اس منہج پر ہوگا جس پر آج میں  اور میرے صحابہ ہیں)

اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (میری امت میں سے ایک گروہ  حق پر غالب رہے گا، انہیں رسوا کرنے کی کوشش کرنے والا یا انکی مخالفت کرنے والا کوئی شخص  انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا، اور وہ حق پر غالب رہیں گےیہاں تک  کہ اللہ کا حکم  آجائے گا) اور حق یہ ہے کہ قرآن مجید اور صحیح ثابت شدہ احادیث مبارکہ کی اتباع کی جائے، یہی اللہ کا راستہ ہے، یہی صراطِ مستقیم ہے، اور یہی بہترین راستہ ہے، ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث میں خط مستقیم سے مراد یہی  ہے،اور اسی راستے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، تابعین، تبع تابعین، سلف صالحین، اور انکے نقش قدم پر چلنے والے لوگ گامزن ہیں، انکے طریقے اور فرقے کے علاوہ جتنے بھی فرقے  اور طریقے ہیں  سب  اللہ تعالی کے اس فرمان کا مصداق ہیں: وَلا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيلِهِ
ترجمہ: دیگر راستوں پر مت چلو، یہ تمہیں  اللہ کے راستے سے  منتشر کر دیں گے [الأنعام :153]" انتہی
" فتاوى اللجنة الدائمة " ( 2 / 283 ، 284 )

واللہ اعلم.

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں