اتوار 13 شوال 1440 - 16 جون 2019
اردو

صفا کی بجائے مروہ سے سعی شروع کرنے والے کا حکم

سوال

سوال: جو شخص عمرہ کرتے ہوئے سعی صفا کی بجائے مروہ سے شروع کرے تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

صفا مروہ کی سعی کرتے ہوئے وہیں سے ابتدا کرنا لازمی امر ہے جہاں سے اللہ نے اور رسول للہ صلی  اللہ علیہ وسلم نے شروع کیا، کیونکہ اللہ تعالی نے صفا کا ذکر پہلے کیا اور بعد میں مروہ کا چنانچہ فرمایا:
إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا وَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَإِنَّ اللَّهَ شَاكِرٌ عَلِيمٌ
ترجمہ: صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں ۔ لہذا جو شخص کعبہ کا حج کرے یا عمرہ کرے تو اس پر کچھ گناہ نہیں کہ وہ ان دونوں کا طواف کرے  اور جو شخص خوشی سے نیکی کا کوئی کام کرے تو بےشک اللہ بڑا قدر دان ہے اور ہر بات کو جاننے والا ہے ۔ [البقرة : 158]

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنی سعی صفا سے شروع کر تے ہوئے فرمایا تھا: (أَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللهُ بِهِ)[یعنی: میں بھی وہیں سے شروع کرتا ہوں جہاں سے اللہ تعالی نے شروع کیا] ، چنانچہ صحیح ترین موقف یہ ہے کہ سعی کیلئے ترتیب ملحوظ خاطر رکھنا  واجب ہے، لہزا اگر کسی نے مروہ سے سعی کی ابتدا کی تو وہ شخص پہلا چکر شمار ہی نہ کرے، اور دوسرے چکر سے سعی شمار کرے۔

اس بارے میں شیخ محمد امین شنقیطی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"یہ بات یاد رکھیں کہ جمہور اہل علم سعی کیلئے ترتیب کو شرط قرار دیتے ہیں، یعنی سعی کی ابتدا صفا سے کرنی ہے اور مروہ پر ختم کرنی ہے، چنانچہ جو شخص مروہ سے شروع کرے تو اس چکر کو شمار ہی نہ کرے، ترتیب کو شرط قرار دینے والوں میں مالک، شافعی، احمد، اور ان کے شاگردان، و حسن بصری، اوزاعی، داود، اور جمہور علمائے کرام ہیں۔

لیکن ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے قدرے مختلف رائے منقول ہے،  اس بارے میں فقہ حنفی کے مایہ ناز صاحب کتاب: " تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق " میں کہتے ہیں کہ :  اگر مروہ سے سعی شروع کرے تو  پہلے چکر کو شمار نہ کرے، کیونکہ اس طرح صفا سے سعی شروع کرنے کے حکم کی مخالفت ہے" انتہی

شیخ شہاب الدین احمد شلبی اپنے "حاشیہ علی  تبيين الحقائق" میں کہتے ہیں کہ :
"مصنف کا یہ کہنا کہ: " اگر مروہ سے سعی شروع کرے تو  پہلے چکر کو شمار نہ کرے " کے بارے میں کرمانی کی کتاب: المناسک میں ہے کہ: ہمارے نزدیک ترتیب شرط نہیں ہے، چاہے مروہ سے شروع کر کے صفا تک آئے تو یہ اس کا ایک چکر ہو جائے اور اسے شمار بھی کیا جائے گا، لیکن سنت ترک ہونے کی وجہ سے ایسا کرنا مکروہ ہے ، اس لئے دوبارہ ایک چکر کاٹنا مستحب ہے"

سروجی رحمہ اللہ نے "الغایہ" میں لکھا ہے کہ:
"کرمانی کی اس بات کی کوئی بنیاد نہیں ہے"

جبکہ امام رازی نے "احکام القرآن " میں لکھا ہے کہ:
"اگر سعی صفا کی بجائے مروہ سے شروع کرے تو ہمارے فقہائے کرام کے ہاں مشہور روایت کے مطابق اس چکر کو شمار نہ کرے، جبکہ ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ : "اس چکر کو دوباہ لوٹائے، تاہم اگر نہیں لوٹاتا تو اس پر کوئی حرج نہیں ہے، انہوں نے اس کو وضو کرتے ہوئے اعضائے میں ترتیب  پر محمول کیا ہے"، اس لئے سروجی کا یہ کہنا کہ کرمانی کی بات کوئی بنیاد نہیں ہے، قابل  نظر ہے۔" انتہی

جمہور علمائے کرام کے ہاں ترتیب لازمی قرار دینے  کی دلیل یہ ہے کہ:
"نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سعی کرتے ہوئے فرمایا: (أَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللهُ بِهِ)[یعنی: میں بھی وہیں سے شروع کرتا ہوں جہاں سے اللہ تعالی نے شروع کیا]  جبکہ نسائی کی ایک روایت میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیتے ہوئے فرمایا: (تم سعی وہیں سے شروع کرو جہاں سے اللہ تعالی نے شروع کیا ہے) بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا تھا: (تم مجھ سے اپنے حج و عمرے کا طریقہ سیکھ لو) اس لیے ہمارے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کو اپنانا لازمی ہے، چنانچہ ہم وہیں سے ابتدا کرینگے جہاں سے اللہ تعالی نے ابتدا فرمائی اور قرآن مجید پر عمل کرتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سعی شروع فرمائی"انتہی
" أضواء البيان " ( 5 / 250 ، 251 )

اور دائمی کمیٹی کے علمائے کرام  نے ایک شخص جس نے صفا کی بجائے مروہ سے سعی شروع کی اور آخر میں آٹھواں چکر بھی لگا یا کے بارے میں کہا ہے کہ:
"اگر معاملہ ایسے ہی ہے  کہ آپ نے سعی کے سات چکر صحیح طرح مکمل کرنے کیلئے آٹھواں چکر  بھی لگا لیا تو آپ کی سعی درست ہے؛ کیونکہ جس پہلے چکر کی ابتدا آپ نے مروہ سے کی تھی وہ کالعدم ہوگا؛ اور جہاں سے شرعی طور پر درست سعی شروع ہونی تھی وہاں سے آپ کی سعی کا شمار کیا جائے گا"

شیخ عبد العزیز بن عبد الله بن باز ، شیخ عبد الرزاق عفیفی، شیخ عبد الله بن غدیان ۔

" فتاوى اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإفتاء " ( 11 / 259 ، 260 )

واللہ اعلم.

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں