اس فوارے کے چھینٹوں کا حکم جس کے پانی میں کتا بیٹھا ہو

سوال 209560

میں اپنے گھر والوں کے ساتھ شہر میں چل رہی تھی۔ اور ایک کتا فوارے کے حوض میں کم از کم تین منٹ بیٹھا رہا۔ پھر فوارہ چلنے لگا اور اس  کا پانی اتنی اونچائی تک جا رہا تھا کہ تقریباً تین منزلہ عمارت کے برابر ہو جائے، یہ فوارہ بہت بڑا تھا۔ مجھے معلوم ہے کہ فوارے کا پانی بار بار گھوم کر دوبارہ اوپر جاتا ہے۔ یعنی وہی پانی جس میں کتا بیٹھا تھا اوپر اچھل کر واپس نیچے آتا تھا۔ ہوا کے ساتھ وہ پانی ہم پر بھی آ گرا حالانکہ ہم کافی فاصلے پر تھے۔ اب مجھے ڈر ہے کہ کہیں ہمارے گھر کے تمام افراد میں کتے کی نجاست نہ پھیل گئی ہو، فرش، فرنیچر، برقی آلات اور دیگر چیزیں اس نجاست سے متاثر نہ ہو گئی ہوں۔ مجھے لگتا ہے کہ میں اس طرح کی ناپاک ہو چکی ہوں کہ میں کبھی بھی پاک نہیں ہو سکوں گی اور میری چیزیں بھی ، پھر اسی وجہ سے میری نماز اور روزہ بھی صحیح نہیں ہوں گے۔ براہ کرم جلد جواب دیں، یہ بات مجھے بہت پریشانی میں ڈال رہی ہے۔

میں سب کچھ کس طرح پاک کروں؟ مجھے تو لگتا ہے کہ ہر چیز کو سات بار اور ایک بار مٹی کے ساتھ دھونا ممکن نہیں۔

جواب کا متن

ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالی کے لیے، اور دورو و سلام ہوں اللہ کے رسول پر، بعد ازاں:

کتا فوارے یا تالاب میں چاہے تین منٹ بیٹھا ہو یا کم یا زیادہ، اس سے عام طور پر پانی کی طہارت پر کوئی اثر نہیں پڑتا، کیونکہ فواروں اور تالابوں میں پانی کافی زیادہ مقدار میں ہوتا ہے۔

اس کی دلیل یہ ہے کہ امام احمد (11391)، ابو داود (67)، ترمذی (66) اور نسائی (324) نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے عرض کیا گیا: ’’آپ کے لیے بضاعہ کے کنویں سے پانی نکالا جاتا ہے، حالانکہ اس کنویں میں کتوں کا گوشت، حیض کے کپڑے اور لوگوں کا گند پھینک دیا جاتا ہے۔‘‘ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (بیشک پانی پاک ہے، اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی)۔

سنن نسائی کی روایت (325) میں ہے: ’’میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس سے گزرا جب آپ بضاعہ کے کنویں کے پانی سے وضو فرما رہے تھے۔ میں نے عرض کیا: کیا آپ اس کنویں سے وضو کرتے ہیں حالانکہ اس میں بد بو دار چیزیں پھینکی جاتی ہیں؟ آپ نے فرمایا: (پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی)۔‘‘

علامہ مبارکپوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’ بضاعہ کا کنواں ایک بڑا کنواں تھا جس میں دو قلّے سے بھی زیادہ پانی ہوتا تھا، چنانچہ ان چیزوں کے گرنے سے اس کا پانی متغیر نہ ہوتا تھا۔ اور اصول یہی ہے کہ زیادہ پانی اس وقت تک ناپاک نہیں ہوتا جب تک اس کی رنگت، ذائقہ یا بو تبدیل نہ ہو۔‘‘  ختم شد
ماخوذ از: (تحفۃ الاحوذی شرح سنن ترمذی)

علامہ ابن عبدالبر رحمہ اللہ کہتے ہیں: ’’اس پر اجماع ہے کہ جب پانی نجاست یا کسی اور چیز کے غلبے سے بدل جائے تو وہ حصولِ طہارت کے لیے قابل استعمال نہیں رہتا۔ اسی طرح سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ  سے منقول ہے کہ : ’’ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو اپنے ہاتھوں سے بضاعہ کے کنویں سے پانی پلایا تھا۔‘‘‘‘ ختم شد
ماخوذ از:  (الاستذکار 1/136)

امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’ واضح رہے کہ: بضاعہ کے کنویں والی حدیث عام ہے، لیکن اس سے وہ صورت خاص کی جاتی ہے جب پانی نجاست کی وجہ سے تبدیل ہو جائے، ایسی صورت میں اجماع کے مطابق ایسا پانی ناپاک ہے۔‘‘ (المجموع 1/129)

علامہ ابن قدامہ رحمہ اللہ کا کہنا ہے کہ: ’’ ابن منذر رحمہ اللہ کہتے ہیں : اہل علم کا اجماع ہے کہ جب زیادہ پانی مثلاً سمندر یا دریا وغیرہ کا حصہ ہو، اور اس پانی میں نجاست پڑے اور اس کے رنگ، ذائقہ یا بو میں کوئی تبدیلی نہ ہو تو وہ اپنی حالت پر باقی رہتا ہے اور اس کے ذریعے طہارت حاصل کی جا سکتی ہے۔‘‘ (المغنی 1/39)

فتاویٰ اللجنۃ الدائمہ (5/84) میں ہے: ’’پانی کی اصل حالت پاکیزگی ہے، اگر اس کا رنگ، ذائقہ یا بو نجاست سے بدل جائے تو وہ ناپاک ہے، خواہ پانی کم ہو یا زیادہ، لیکن اگر اس میں نجاست کی وجہ سے تبدیلی نہ آئے تو وہ پاک ہے۔‘‘ ختم شد

لہٰذا مذکورہ دلائل کی روشنی میں: فوارے یا اس جیسی کسی جگہ سے اڑنے والا پانی اپنی اصل کے اعتبار سے صرف پاک ہی نہیں ہوتا ہے بلکہ ’’طَهور‘‘ ہوتا ہے۔ [’’طَهور‘‘ سے مراد شریعت کی اصطلاح میں ایسا پانی ہے جو نہ صرف خود پاک ہو بلکہ دوسروں کو بھی پاک کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ مترجم]  لہٰذا اسے وضو اور غسل کے لیے استعمال کرنا درست ہے، اور یہ پانی چیزوں سے نجاست دور کرنے میں بھی کام آ سکتا ہے، جب تک یقین سے معلوم نہ ہو جائے کہ کوئی نجاست اس کے کسی وصف (رنگ، ذائقہ یا بو) کو بدل چکی ہے۔ اور آپ کے ذکر کردہ معاملے میں ایسا ہونا ممکن ہی نہیں، یعنی چلتے وقت فوارے کے چھینٹے آپ پر پڑنے سے پانی تبدیل نہیں ہوا۔

اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بضاعہ کے کنویں سے وضو کرتے تھے، باوجودیکہ اس میں نجاستیں ڈالی جاتی تھیں، جو اس بات کی دلیل ہے کہ زیادہ پانی تھوڑی نجاست سے متاثر نہیں ہوتا۔

علامہ شیرازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’جب پانی کے پاک ہونے کا یقین ہو اور ناپاک ہونے میں شک ہو تو اس سے وضو جائز ہے، کیونکہ اصل یہی ہے کہ پانی پاک ہے۔ اور اگر پاکی یا ناپاکی دونوں میں سے کسی پر بھی یقین نہ ہو تب بھی اس سے وضو جائز ہے، کیونکہ اصل حکم پانی کی پاکیزگی ہی ہے۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: (المہذب 1/221)

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ نے کہا: ’’۔۔۔جب تک یقین نہ ہو کہ کپڑوں پر ناپاکی لگی ہے تو اصل یہ ہے کہ کپڑے پاک ہیں، انہیں دھونا لازم نہیں، ان کپڑوں میں نماز پڑھ سکتے ہیں اور اس میں کوئی حرج نہیں۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: (مجموع فتاویٰ ابن عثیمین 11/108)

اس بارے میں مزید کے لیے آپ سوال نمبر: (133869) کا جواب ملاحظہ کریں۔

بندے کو چاہیے کہ وہ اپنی عبادتوں میں ہی نہیں بلکہ دنیاوی معاملات میں بھی وسوسوں کو جگہ نہ دے، کیونکہ جب وسوسہ انسان پر قابو پا لیتا ہے تو اس کی پوری زندگی کو بگاڑ دیتا ہے۔

مزید تفصیل کے لیے سوال نمبر: (10160) اور (62839) کے جوابات ملاحظہ کریں۔

واللہ اعلم

حوالہ جات

طہارت و پاکيزگی

ماخذ

الاسلام سوال و جواب

Previous
آگے
answer

متعلقہ جوابات

at email

ایمیل خبرنامہ

اسلام سوال و جواب کی میلنگ لسٹ میں شامل ہوں

phone

اسلام سوال و جواب ایپ

مواد تک فوری رسائی اور آف لائن مطالعہ کے لیے

download iosdownload android