سوموار 15 رمضان 1440 - 20 مئی 2019
اردو

جدید مسلمان کے قضا شدہ فرائض کی ادائیگی

سوال

چالیس برس کی عمرمیں ایک شخص نے اسلام قبول کیا توکیا وہ فوت شدہ نمازوں کی ادائيگي کرے گا ؟

جواب کا متن

الحمدللہ

اسلام قبول کرنے والے شخص کی ایام کفرمیں فوت شدہ نمازيں ، روزے ، اورزکاۃ وغیرہ کی کوئ‏ قضاء اورادائيگي نہیں ہے اس لیے کہ اللہ سبحانہ وتعالی کافرمان ہے :

آپ ان کافروں سے کہہ دیجیۓ ! کہ اگر یہ لوگ باز آجائيں توان کےوہ سارے گناہ معاف کردیے جائيں گے جوپہلے ہوچکے ہیں الانفال ( 38 ) ۔

اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :

( اسلام پہلے تمام گناہوں کومٹا دیتا ہے ) صحیح مسلم حديث نمبر ( 121 ) ۔

اوراس لیے بھی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی ایک بھی صحابی کومسلمان ہونے کے بعدایام کفرمیں فوت شدہ اسلامی شعائر کی قضا اورادائيگي گا حکم نہیں دیا ، اوراہل علم کا اجماع بھی اسی پر ہے کہ اس کے ذمہ کوئ قضا نہیں ۔ واللہ اعلم .

ماخذ: دیکھیں فتاوی اللجنۃ الدائمۃ ( مستقل فتوی کمیٹی ) ( 6 / 400 )

تاثرات بھیجیں