بدھ 17 ذو القعدہ 1441 - 8 جولائی 2020
اردو

میت کو سطح زمین کے اوپر بنائی گئی [کمرہ نما] قبر میں دفن کرنے کا حکم

220106

تاریخ اشاعت : 18-07-2015

مشاہدات : 8564

سوال

سوال: ہمارے ہاں مصر کے کچھ دیہاتوں میں مُردوں کو سطح زمین کے اوپر بنی ہوئی میت کے سائز کے برابر چھوٹی چھوٹی کمرہ نما قبروں میں دفن کیا جاتا ہے، اس کیلئے انہیں کھول کر میت کو اس میں سطح زمین پر ہی رکھ دیا جاتا ہے، پھر میت کے کفن پر صرف چُلّو بھر مٹی چھڑک دی جاتی ہے، جس وقت میں نے پوچھا کہ: کیا یہ لازمی نہیں ہے کہ میت کو زمین کے نیچے دفن کیا جائے، تو انہوں نے کہا: یہاں یہ مناسب نہیں ہے، کیونکہ زرعی زمین میں پانی کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے، جبکہ زمین میں دفن کرنا ایسی جگہ مناسب ہوتا ہے جہاں زمین خشک ہو، تا کہ میت کا جسم متعفن نہ ہو، تو کیا یہ صحیح ہے یا نہیں؟ اور اگر صحیح نہیں ہے تو پانی سے تر زرعی زمین میں دفن کرنے کا کیا طریقہ ہوگا؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

مسلمان جس طریقہ پر عمل کرتے چلے آرہے ہیں وہ یہ ہے کہ مُردوں کو زمین کے نیچے دفن کیا جائے، اور یہی عمل فرمانِ باری تعالی کے موافق ہے:
( مِنْهَا خَلَقْنَاكُمْ وَفِيهَا نُعِيدُكُمْ وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً أُخْرَى )
ترجمہ: اسی [زمین]سے ہم نے تمہیں پیدا کیا، اور اسی میں لوٹا دیں گے، اورپھر  اسی سے تمہیں دوبارہ نکالیں گے۔[طہ: 55]

طاہر ابن عاشور کہتے ہیں:
"فرمانِ باری تعالی: (اور اسی میں لوٹا دیں گے)اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ مُردوں کو چھپانے کیلئے زمین میں دفنانا ہی شرعی طریقہ ہے، چاہے اس کیلئے [قبر] لحد بنائی جائے یا شِق بنائی جائی؛ کیونکہ دونوں صورتوں میں زمین کے اندر ہی انسان کو لوٹایا جاتا ہے۔
چنانچہ کچھ غیر مہذب اقوام کی جانب سے مُردوں کو آگ میں جلانا، پانی ڈبونا، یا زمین کے اوپر تابوت میں بند کرکے رکھنا یہ سب کچھ فطرت، اور سنتِ الہی سے متصادم ہے، کیونکہ  فطرتی تقاضا ہے کہ میت زمین پر ہی گرتی ہے، اس لئے اُسے زمین ہی میں دفنانا ضروری ہے۔
اسی لئے انسانی تاریخ میں پہلی تدفین اس وقت ہوئی تھی جب آدم علیہ السلام کے کسی بیٹے نے اپنے بھائی کو قتل کیا تھا، اسی بارے میں فرمانِ باری تعالی ہے: فَبَعَثَ اللَّهُ غُرَابًا يَبْحَثُ فِي الْأَرْضِ لِيُرِيَهُ كَيْفَ يُوَارِي سَوْءَةَ أَخِيهِ قَالَ يَا وَيْلَتَا أَعَجَزْتُ أَنْ أَكُونَ مِثْلَ هَذَا الْغُرَابِ فَأُوَارِيَ سَوْءَةَ أَخِي اللہ تعالی نے ایک کوّے کو بھیجا، جو زمین کھودنے لگا، تا کہ اُسے دیکھائے کہ اپنے بھائی کی نعش کو کیسے چھپائے، وہ کہنے لگا: ہائے میری ہلاکت! میں اس کوّے جیسا بھی نہ بن سکا کہ اپنے بھائی کی نعش چھپا ؤں![المائدة : 31]  چنانچہ تمام آسمانی شریعتیں  زمین میں دفن کرنے کو لازم قرار دیتی ہیں"انتہی
" التحرير والتنوير " (16/240)

اور صدیق حسن خان رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"قبر کے گڑھے میں میت کو دفنانا  واجب ہے، تا کہ میت کو درندوں  کے کھا نے سے محفوظ کیا جا سکے، اور عام طور پر سیلاب  کی وجہ دفنائے ہوئے مردے باہر بھی نہیں آتے، اور اس مسئلے میں کوئی اختلاف بھی نہیں ہے، یہ بات شریعت میں بالکل واضح طور پر ثابت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان ہے کہ: ([قبر کے]گڑھے کو گہرا، اور اچھی طرح کھودو) "نسائی نے روایت کیا اور ترمذی نے صحیح بھی کہا ہے" انتہی
" الروضة الندية " (1/174)

نووی رحمہ اللہ  کہتے ہیں:
"تدفین کیلئے کم از کم یہ ہے کہ میت کو ایسے گڑھے میں دفن کیا جائے جہاں سے میت کی بو نہ آئے، اور درندوں سے محفوظ رہے"انتہی
" روضة الطالبين " (1/191)

رملی رحمہ اللہ  کہتے ہیں:
"[المنہاج کے مؤلف امام نووی کے ]قول "گڑھے" سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مردے کو زمین کی سطح پر رکھ کر اسے اِن دونوں [یعنی: مردے کی بو، اور درندوں ]سے بچانے کیلئے اس پر [کمرہ نما قبر] تعمیر کرنا کافی نہیں ہے"انتہی
اور ابن عابدین رحمہ اللہ  کہتے ہیں:
"[مردے کو]سطح زمین پر رکھ کر تدفین کیلئے اس  پر [کمرہ نما قبر]تعمیر کرنا کافی نہیں ہے"انتہی
" حاشیہ ابن عابدين " (2/233)

خلاصہ یہ ہے کہ :
میت کو سطح زمین پر کمرہ نما قبر میں دفن کرنا جائز نہیں ہے، اور اس کام کی ممانعت علمائے کرام نے واضح لفطوں میں ذکر کی ہے۔

اور آپ نے ذکر کیا ہے کہ وہ اس طرح اس لئے کرتے ہیں کہ زرعی زمین ہے، اسکا مطلب یہ ہو کہ وہ جب  بھی قبر کیلئے زمین کی کھدائی کرتے ہیں تو وہ پانی سے بھر جاتی ہے، تو یہ زمین کی سطح پر دفن کرنے کیلئے مقبول عذر  ہے، جس کی وجہ سے آپکے ذکر کردہ طریقہ کے مطابق دفن کیا جاسکتا ہے۔

لیکن اس سے پہلے ضروری ہے کہ شرعی طریقہ کار کے مطابق مُردوں کی تدفین کیلئے اس مسئلے کے حل کی پوری کوشش کی جائے، اور اس کیلئے انجینئرز کی خدمات حاصل کریں، ویسے اس مسئلے کا حل یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس جگہ پر کافی  مقدار میں ریت ڈال کر قبرستان کو ارد گرد کی زمین سے اونچا کر دیا جائے، یہ طریقہ متعدد قبرستانوں میں استعمال کیا گیا ہے۔

چنانچہ کسی بھی بستی یا شہر کے لوگوں کو یہ کوشش کرنی چاہئے کہ وہ اپنے مُردوں کو شریعت کے مطابق دفن کریں، شریعت سے متصادم  انداز میں دفن مت کریں۔

اور جب تک اس مسئلے کا حل نہیں ہوتا اس وقت تک آپ کے ذکر کردہ طریقے کے مطابق ضرورت کی بنا پر دفن کیا جاسکتا ہے۔

اور سوال نمبر: (103880) اور (203334) بھی دیکھیں

واللہ اعلم.

ماخذ: الاسلام سوال و جواب