اتوار 18 ربیع الثانی 1441 - 15 دسمبر 2019
اردو

مسجد کی اذان صحیح وقت پر ہوتی ہے یا الیکٹرونک آلات کی؟

سوال

سوال: میں سحری کا وقت ختم ہونے کیلئے اپنی قریبی مسجد کی اذان پر اعتماد کرتا ہوں، لیکن اس میں اور میرے موبائل میں ہونے والی اذان میں پانچ منٹ کا فرق ہے، موبائل میں اذان مشہور پروگرام Islamic Finder کے ذریعے ہوتی ہے، سوال یہ ہے کہ اگر میں اپنے علاقے کی مسجد کی اذان پر اعتماد کروں اور وہ موبائل پر ہونے والی اذان سے کچھ لیٹ ہوتی ہے تو کیا میرا روزہ درست ہوگا؟ یا میں موبائل کی اذان پر اعتماد کروں اور اس کے مطابق اذان سے کچھ دیر قبل ہی کھانے پینے سے رک جاؤں ؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

اگر مؤذن آپ کے علاقے  میں مشہور وقت کے مطابق  اذان دیتا ہے اور  نمازوں کے دائمی اوقات آپ کے علاقے میں  رائج  اسی کے مطابق ہیں ،یعنی  مؤذن  اذان کو غلطی یا اپنی صواب دید  کی بنا پر ان اوقات سے مؤخر نہیں کرتا، بلکہ  آپ کے علاقے میں موجود نمازوں کے دائمی اوقات کار اسی کے مطابق ہیں تو اس  مؤذن کی اذان پر اعتماد کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، چاہے اذان مذکورہ  پروگرام  کے اوقات کار سے متاخر  ہی کیوں نہ ہو۔

ہاں اگر مؤذن  اوقات کی پابندی اور اہتمام  نہ کرتا ہو تو ایسے مؤذن کی اذان پر اعتماد نہ کیا جائے؛ آپ ذکر کردہ پروگرام پر اعتماد کر یں۔

اور احتیاط بھی  اسی بات میں ہے کہ آپ اس پروگرام  کے اوقات کار پر اعتماد کریں؛ کیونکہ یہ پروگرام  پر اعتماد اور انتہائی درست معلومات کیساتھ بنائے جاتے ہیں ، اور ویسے بھی مذکورہ صورت میں وقت سے پہلے سحری  کے دوران کھانے پینے سے  ہاتھ روک لینا  طلوعِ فجر کے بعد کھاتے پیتے رہنے سے بہتر ہے، کیونکہ مسجد کی اذان  موبائل کی اذان سے لیٹ ہورہی ہے۔

شیخ ابن باز رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ:
"جب سحری کرنے والا شخص  فجر کی اذان سنے اور اسے معلوم ہو کہ اذان طلوعِ فجر پر ہی ہوتی ہے تو کھانے پینے سے ہاتھ روک لینا واجب ہے، اور اگر مؤذن طلوعِ فجر سے پہلے ہی  اذان دے دیتا ہو تو پھر واجب نہیں ہے، چنانچہ ایسا شخص طلوعِ فجر تک  کھا پی سکتا ہے۔

یہ بات سب کیلئے عیاں ہے کہ شہروں میں رہنے والے لوگ لائٹوں  کی وجہ سے  طلوع فجر فوری طور پر محسوس نہیں کر سکتے، لیکن ایسے لوگوں کیلئے اذان یا نمازوں کے اوقات منٹ اور گھنٹہ کیساتھ بیان کرنے والے کیلنڈروں کے مطابق عمل کریں، اس کی دلیل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے کہ: (جس چیز میں شک ہو اسے چھوڑ دو، اور جس میں شک نہ ہو اسے لے لو) اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (جو شخص شبہات سے بچا تو اس نے اپنے دین اور آبرو کو محفوظ کر لیا)" انتہی
" مجموع فتاوى ابن باز " (15/ 286)

مزید کیلئے سوال نمبر: (66202) اور (66891) کا مطالعہ کریں۔

واللہ اعلم.

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں