جمعہ 17 ذو القعدہ 1440 - 19 جولائی 2019
اردو

كيا بيٹا اپنا قرض ادا كرنے كے ليے والد كى زكاۃ لے سكتا ہے ؟

22160

تاریخ اشاعت : 05-02-2011

مشاہدات : 3245

سوال

كيا اگر كوئى مقروض ہو تو وہ قرض كى ادائيگى كے ليے اپنے والد كى زكاۃ وصول سے سكتا ہے يا نہيں ؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ تعالى سے مندرجہ بالا سوال كيا گيا تو ان كا جواب تھا:

اگر بيٹا مقروض ہو اور وہ ادائيگى نہ كرسكتا ہو تو امام احمد وغيرہ كے دو اقوال ميں سے ظاہر قول كے مطابق اپنے والد كى زكاۃ لے سكتا ہے.

اور اگر وہ نفقہ و خرچہ كا محتاج ہو اور اس كے والد كے پاس خرچ كے ليے كچھ نہ ہو تو اس ميں نزاع اور اختلاف ہے، اور ظاہر يہى ہے كہ اس كے ليے والد كى زكاۃ لينا جائز ہے.

ليكن اگر وہ اپنے والد كے نفقہ سے مستغنى ہو تو پھر اسے اس كى زكاۃ كى كوئى ضرورت نہيں .

ماخذ: ديكھيں: فتاوى الكبرى ( 5 / 288 )

تاثرات بھیجیں