ہفتہ 11 جمادی ثانیہ 1440 - 16 فروری 2019
اردو

کیا ایک رات میں دو بار تراویح پڑھنا جائز ہے؟

سوال

سوال: کیا ایک رات میں دو بار تراویح پڑھنا جائز ہے؟ کیونکہ ایک حدیث جس میں ہے کہ: ہمیں ھناد بن سری نے خبر دی ، وہ ملازم بن عمرو سے بیان کرتے ہیں اور وہ کہتے ہیں مجھے عبد اللہ بن بدر نے قیس بن طلق سے بیان کیا ، اور وہ کہتے ہیں کہ میرے والد طلق بن علی رمضان کے دنوں میں میرے پاس آئے اور ہمارے پاس ہی انہیں شام ہو گئی تو وہ اس رات ہمارے پاس ٹھہرے انہوں نے ہی ہمیں وتر پڑھائے اور پھر مسجد کی جانب چلے گئے اور وہاں اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھائی پھر جب وتروں کی باری آئی تو کسی دوسرے آدمی کو وتر پڑھانے کیلیے آگے کر دیا اور کہا انہیں وتر پڑھا دو؛ کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ : (ایک رات میں دو بار وتر نہیں ہوتے) اس روایت کو نسائی نے اپنی سنن نسائی میں : (1679) میں بیان کیا ہے، اس حدیث کا کیا حکم ہے؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

اول:

نماز تراویح  رمضان میں قیام اللیل کو ہی کہتے ہیں ، اور قیام اللیل کی نماز کیلیے رمضان یا غیر رمضان میں کوئی حد بندی نہیں ہے جس سے زیادہ پڑھنا مسلمان کیلیے منع ہو؛ لہذا مسلمان رمضان میں رات کے وقت جتنی چاہے نماز پڑھ سکتا ہے۔

اور اگر مسجد کے نمازی رمضان میں قیام اللیل کو دو حصوں میں تقسیم کر دیں جس میں ایک حصہ نماز عشا کے بعد ادا کیا جائے اور دوسرا حصہ سحری کے وقت میں ادا ہو اور عبادت کیلیے خوب محنت کریں ، آخری عشرہ میں اس طرح خصوصی طور پر اہتمام کریں اور پھر آخر میں وتر پڑھیں تو  ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

دائمی فتوی کمیٹی کے علمائے کرام کہتے ہیں:
"آخری عشرے میں پہلے دو عشروں کی بہ نسبت تراویح کی رکعات میں اضافہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، نیز اگر آخری عشرے میں دو حصوں میں تقسیم کر دیا جائے کہ ایک حصہ ابتدائے رات میں پڑھا جائے  اور بطورِ تراویح ان کی رکعات قدرے ہلکی ہوں ، اور دوسرا حصہ رات کے آخری حصہ میں پڑھا جائے اور اس کی رکعات بطورِ تہجد قدرے لمبی ہوں تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم آخری عشرے میں پہلے دو عشروں کی بہ نسبت عبادت کیلیے زیادہ محنت کرتے تھے" انتہی
" فتاوى اللجنة الدائمة – المجموعة الثانية " (6/82)

دوم:

جو شخص مسجد میں تراویح پڑھ لے اور پھر کسی اور مسجد میں ابھی تک تراویح جاری ہو اور وہ ان کے ساتھ جا کر بھی نماز پڑھ لیتا ہے تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے، تاہم یہ خیال کرے کہ دو بار وتر مت پڑھے، لہذا اگر اس نے پہلی جماعت کے ساتھ وتر پڑھ لیے ہوں تو دوسری جماعت کے ساتھ وتر مت پڑھے؛ کیونکہ ایک رات میں دو بار وتر نہیں ہوتے۔

اس کی مثال یہ ہے کہ:  اگر کوئی شخص دو مسجدوں میں امامت کرواتا ہو، یا دو جماعتوں کے ساتھ نماز تراویح ادا کرتا ہو ایک ابتدائے رات میں اور دوسری رات کے آخری حصے میں یا ایک جماعت کے ساتھ بطور مقتدی نماز پڑھتا ہو اور دوسری جماعت میں بطور امام تراویح پڑھتا ہو تو بہر صورت ایسا کرنا جائز ہے، ان شاء اللہ اس میں کوئی حرج والی بات نہیں ہے۔

ابو داود: (1439) -حدیث  کے الفاظ اسی کے ہیں-، ترمذی:  (470) ،نسائی: (1679) ، اور احمد: (16296) میں ہے کہ قیس بن طلق کہتے ہیں کہ ایک بار طلق بن علی رمضان کے دنوں میں میرے پاس آئے اور ہمارے پاس ہی انہیں شام ہو گئی تو ہمارے پاس ہی انہوں نے روزہ افطار کیا اور پھر انہوں نے ہی ہمیں قیام اللیل کروایا اور وتر بھی پڑھائے اور پھر مسجد کی جانب چلے گئے اور وہاں اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھائی پھر جب وتروں کی باری آئی تو کسی دوسرے آدمی کو وتر پڑھانے کیلیے آگے کر دیا  اور کہا کہ انہیں وتر پڑھا دو؛ کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ : (ایک رات میں دو بار وتر نہیں ہوتے) اس حدیث کو ابن ملقن نے "البد المنیر"(4/317) میں حسن قرار دیا ہے، اسی طرح حافظ ابن حجر نے "فتح الباری"(2/418) میں اسے حسن قرار دیا ہے، ایسے ہی مسند احمد کے محققین نے بھی اسے حسن کہا ہے، جبکہ البانی رحمہ اللہ نے اسے "صحیح سنن ابو داود" میں صحیح کہا ہے۔

سندی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"اس روایت کے الفاظ: " اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھائی " اس سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنے ساتھیوں کو فرض اور نوافل دونوں پڑھائے، تو اس طرح مقتدیوں کی فرض ہوگی اور امام کی نفل ہوگی" انتہی
ماخوذ از: " حاشیۃ السندی علی سنن النسائی " (3/ 230)

امام احمد رحمہ اللہ نے ایسے شخص کے بارے میں کہا  ہے جو ماہ رمضان میں کہیں تروایح پڑھاتا ہو اور وہ انہیں وتر پڑھانے کے بعد ایک اور جگہ جا کر نماز پڑھانا چاہے : "تو وہ درمیان میں کچھ وقفہ کر لے چاہے کھا پی کر یا کچھ آرام کر کے" مروزی نے اسے بیان کیا ہے۔

ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"درمیان میں وقفہ اس لیے ہے کہ وتروں کے ساتھ کسی دوسری نماز کو ملا کر پڑھنا مکروہ ہے، لہذا درمیان میں وقفہ ڈالا جاتا ہے، تا کہ وتروں اور دوسری نماز میں کچھ فاصلہ قائم رہے، نیز وقفہ ڈالنے کی ضرورت اس وقت ہوگی جب اسی جگہ پر نماز پڑھائے، لیکن اگر کسی اور جگہ جا کر نماز پڑھانی ہے تو پھر اس کا چل کر جانا ہی وقفہ اور فاصلہ بن جائے گا، تاہم وہ دو بار وتر مت پڑھے؛ کیونکہ ایک رات میں دو بار وتر نہیں ہوتے" انتہی
" بدائع الفوائد " (4/111)

اکثر فقہائے کرام اس بات کے قائل ہیں کہ یہ مطلق طور پر جائز ہے، کسی بھی صورت میں مکروہ نہیں ہے۔

مزید کیلیے دیکھیں: "فتح الباری" از ابن رجب: (6/258-259)

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"اگر آپ اپنی مسجد میں وتر پڑھ لیں ، پھر آپ کسی اور مسجد میں جائیں تو لوگوں کو نماز پڑھنے ہوئے پائیں تو ان کے ساتھ شامل ہو جائیں، اگر تو وہ طاق عدد میں نماز پڑھیں تو پھر آپ کھڑے ہو کر ایک رکعت مزید شامل کر لیں تا کہ وہ جفت بن جائیں؛ کیونکہ آپ پہلے ہی وتر پڑھ چکے ہیں" انتہی
ماخوذ از: " جلسات رمضانية "

مزید فائدے کیلیے آپ سوال نمبر: (20851) کا جواب ملاحظہ کریں۔

واللہ اعلم.

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں