بدھ 21 رجب 1440 - 27 مارچ 2019
اردو

روزے کی حالت میں اسے بیہوش کیا گیا اور پھر ہوش میں لانے کیلیے مخصوص چیز سنگھائی گئی

سوال

سوال: ایک شخص کی نکسیر پھوٹ گئی اور اسے ہسپتال لے جایا گیا، وہاں اسے بیہوش کر دیا گیا، پھر اسے ہوش میں لانے کیلیے مخصوص چیز سنگھائی گئی اور اسے اس کا ذائقہ بھی محسوس ہوا، تو کیا وہ روزہ پورا کرے یا روزہ چھوڑ دے؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

طبی تشخیص یا آپریشن کیلیے مریض کو بے حس کئی طریقوں سے کیا جاتا ہے:

- بے حس کرنے کا ایک طریقہ جس میں ناک کے ذریعے مریض کو گیس چڑھا کر بیہوش کیا جاتا ہے۔

- چائنی طریقہ علاج آکوپنکچر کے ذریعے بے حس کرنا۔

- ٹیکے لگا کر بیہوش کرنا ، اس میں بسا اوقات مخصوص عضو کو سن کیا جاتا ہے تو کبھی پورے جسم کو بے ہوش کیا جاتا ہے۔

ان تمام چیزوں کے بارے میں راجح یہی ہے کہ ان سے روزہ نہیں ٹوٹتا؛ کیونکہ ان میں سے کوئی بھی چیز کھانا پینا نہیں ہے اور نہ ہی کھانے یا پینے میں انہیں شامل کیا جا سکتا ہے۔

-  لیکن اگر  بے ہوش کرنے والے مادے کے ساتھ غذائی انجکشن بھی لگایا گیا -جیسے  کہ عام طور پر ایسا ہی ہوتا ہے- تو اس سے روزہ ٹوٹ جائے گا؛ کیونکہ یہ کھانے پینے میں شمار ہو گا۔
مزید کیلیے آپ سوال نمبر: (49706) کا مطالعہ کریں۔

- اسی طرح اگر اسے کوئی چیز ہوش میں لانے کیلیے سنگھائی جاتی ہے تو اس سے بھی روزہ نہیں ٹوٹے گا؛ کیونکہ یہ تو دمہ کے اسپرے کی طرح ہو گا، ما سوائے اس صورت کہ یہ نمی والی کوئی چیز ہو اور اس کی نمی معدے تک جائے  تو اس بارے میں معالج سے رجوع کرنا چاہیے۔

اصول یہ ہے کہ: ہر ایسی چیز جسے کھانا یا پینا  نہیں ہے اور نہ ہی وہ کھانے پینے کے مفہوم میں شامل کی جا سکتی ہے تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹے گا، یہاں پر حلق یا پیٹ میں ذائقے کے احساس کا اعتبار نہیں  ہوگا۔

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"[روزے کے بارے میں] جو چیزیں کھائی یا پی نہیں جاتیں ان کا ذائقہ حلق  میں محسوس ہونے کا اعتبار نہیں ہے" انتہی
"مجموع فتاوى ورسائل ابن عثیمین" (20/ 284)

ایک مقام پر کہتے ہیں:
"روزے دار سرمہ ڈال سکتا ہے، آنکھوں میں قطرے ڈال سکتا ہے، اسی طرح کان میں بھی قطرے ڈال سکتا ہے، اگرچہ اس سے حلق میں ذائقہ محسوس ہوتا ہے لیکن اس سے روزہ نہیں ٹوٹے گا؛ کیونکہ یہ کھانا یا پینا نہیں ہے، اور نہ ہی کھانے پینے کے حکم میں شامل ہے؛ کیونکہ شرعی دلیل  میں کھانے پینے سے روکا گیا ہے لہذا کھانے پینے میں ایسی چیز شامل نہیں کی جا سکتی جو کھانے پینے میں شمار نہ ہو سکے، ہم نے جو موقف بیان کیا ہے اسے شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اختیار کیا ہے اور یہی صحیح ہے" انتہی
"مجموع فتاوى ورسائل ابن عثیمین" (19/ 205)

ایک اور مقام پر کہتے ہیں:
"اگر روزے دار کو سانس لینے میں تنگی ہو اور وہ سانس لینے میں آسانی کیلیے منہ میں کی جانے والی اسپرے لے تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹے گا؛ کیونکہ یہ معدے تک نہیں پہنچتی ، اس لیے اسے کھانا یا پینا  نہیں کہا جا سکتا" انتہی
"مجموع فتاوى ورسائل ابن عثیمین" (19/206)

مزید وضاحت کیلیے آپ سوال نمبر: (65632) اور  (78459)کا مطالعہ کریں۔

واللہ اعلم.

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں