سوموار 17 شعبان 1440 - 22 اپریل 2019
اردو

قرآنی سورتوں کے فضائل سے متعلق ضعیف احادیث سے تنبیہ

سوال

کیا اس ویب سائٹ پر موجود سورتوں کے فضائل صحیح ثابت ہیں؟ اور کیا جو شخص سورہ رحمن، واقعہ اور الحدید تسلسل کے ساتھ پڑھے تو یہ عمل اس کے لیے جنت الفردوس میں جگہ پکی ہو جانے کا ضامن ہے؟ نیز قرآنی سورتوں کے فضائل جاننے کیلیے معتمد مصدر اور ماخذ کون سا ہے جہاں پر قرآنی سورتوں کے صحیح فضائل بیان کیے گئے ہوں؟
ویب سائٹ کا لنک یہ ہے: (۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔)

جواب کا متن

الحمد للہ:

اول:

اس ویب سائٹ کو دیکھنے کے بعد ہمیں معلوم ہوا کہ یہ ویب سائٹ اللہ تعالی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کذب بیانی سے بھری پڑی ہے؛ کیونکہ اس ویب سائٹ پر ہر سورت کے متعلق فضیلت ذکر کی گئی  ہے جو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بہتان بازی ہے، یا پھر یہ فضیلت جناب علی رضی اللہ عنہ یا جعفر صادق رحمہ اللہ یا کسی اور شخصیت سے منقول ہے۔

انہی جھوٹ کے پلندوں میں سے یہ ہے کہ:

"جو شخص ہر جمعہ کو سورت النساء پڑھے تو وہ قبر کے دباؤ سے محفوظ رہے گا، جو شخص سورت مائدہ  پڑھے  تو وہ پوری دنیا میں موجود زندہ یہودی اور عیسائیوں  کی تعداد سے بھی دس گنا زیادہ اجر و ثواب پائے گا، اتنی مقدار میں اس کی خطائیں بخش دی جائیں گی، ایسے ہی سورت اعراف کو عرق گلاب سے لکھنا یا زعفران سے لکھ کر اپنے پاس محفوظ رکھنے پر انسان دشمنوں اور موذی جانوروں سے محفوظ رہتا ہے، جو شخص ہر ماہ سورت انفال اور سورت توبہ پڑھے تو وہ نفاق سے محفوظ رہتا ہے، اور سورت  "ص" کی تلاوت داود علیہ السلام کے پہاڑ  کے برابر وزن رکھتی ہے، اور جو شخص سورہ زمر پڑھے تو وہ جہنم میں داخل نہیں ہو گا، اور جو شخص ہر تین دن میں سورت غافر  پڑھے تو اس کے گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں، اور جو شخص سورت سجدہ پڑھے تو اس کے سامنے روزِ قیامت تک نور روشن ہو جاتا ہے۔۔۔" اس علاوہ دیگر بہت سے جھوٹ انہوں نے ذکر کیے ہوئے ہیں۔

دوم:

یہ کہنا کہ " جو شخص  سورہ رحمن، واقعہ اور الحدید تسلسل کے ساتھ پڑھے تو یہ عمل اس کے لیے جنت الفردوس میں جگہ پکی ہو جانے کا ضامن ہے " یہ بے بنیاد اور بے دلیل بات ہے، بلکہ یہ اللہ تعالی پر بہتان لگانے کے زمرے میں آتا ہے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ  بولنے کے مترادف ہے۔

ہمیں ان سورتوں کے فضائل میں کہیں یک جا یا الگ الگ ایسی کوئی فضیلت معلوم نہیں ہو سکی۔

جبکہ یہ حدیث کہ: (ہر چیز کی دلہن ہوتی ہے اور قرآن مجید کی دلہن سورت رحمن ہے) یہ منکر روایت ہے، مزید تفصیلات کیلیے دیکھیں: سلسلہ احادیث ضعیفہ از البانی رحمہ اللہ (1350)

اور یہ حدیث کہ : (جو شخص سورت واقعہ ہر رات کو پڑھے تو اسے کبھی فاقہ کشی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا) یہ بھی ضعیف ہے اس کی مزید تفصیلات کیلیے دیکھیں:  سلسلہ احادیث ضعیفہ از البانی رحمہ اللہ (289)

یہ حدیث کہ : (جو شخص سورت حدید پڑھے تو وہ ان لوگوں میں شمار ہو گا جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے) یہ من گھڑت روایت ہے، اس بارے میں تفصیلات جاننے کیلیے دیکھیں:  "السراج المنیر" (4/ 219) از خطیب شربینی ، اور اسی طرح "الفتح السماوی" (921) از مناوی ۔

سوم:

ائمہ کرام نے فضائل قرآن کے متعلق متعدد تصانیف کی ہیں جن میں سے اہم ترین  یہ ہیں:

فضائل قرآن ، از :قاسم بن سلام

فضائل قرآن ، از :ابو الفضل رازی

فضائل قرآن ، از :ضیاء مقدسی

فضائل قرآن ، از :فریابی

فضائل قرآن ، از :ابن ضریس

فضائل قرآن ، از :مستغفری

فضائل قرآن ، از :محمد بن عبدالوہاب

ان کتب میں صحیح اور ضعیف  دونوں قسم کی روایات موجود ہیں، تاہم کچھ کتابوں کی مجموعی حیثیت دیگر کتابوں سے بہتر ہے۔

فضائل قرآن کے بارے میں صحیح ترین تصانیف  میں سے کچھ درج ذیل ہیں:

1- فضائل قرآن ، از :حافظ ابن کثیر دمشقی

2- الصحيح والسقيم في فضائل القرآن الكريم،  از:  جمعية الحديث الشريف

3- الصحيح المسند من فضائل السور، از حسان بن عبد الرحيم

4- صحيح فضائل القرآن، از : مؤيد عبد الفتاح حمدان

مزید فائدے کیلیے آپ سوال نمبر: (47618) اور (129502)  سوال نمبر کا مطالعہ بھی کریں۔

واللہ اعلم.

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں