وقت کے بدلنے سے شرعی احکامات کیوں نہیں بدلتے؟

سوال 223482

اسلام ہمارے زمانے میں رونما ہونے والی تبدیلیوں سے ہم آہنگ کیوں نہیں ہوتا؟ ہم آج بھی ان احکام پر عمل پیرا ہیں جو چودہ سو سال پہلے مقرر کیے گئے تھے، جس کی وجہ سے موجودہ عالمی نظام میں ہمیں اجنبیت اور تنہائی کا احساس ہوتا ہے۔  مثلاً ترقی یافتہ ممالک کا مالیاتی نظام سود پر قائم ہے، اور ان ممالک کی معیشت نے انہیں دولت مند اور کامیاب بنا دیا ہے؛ حالانکہ سود کو اس دور کے مخصوص حالات کی وجہ سے حرام کیا گیا تھا۔ اسی طرح حجاب بھی اس زمانے کے حالات کی مناسبت سے فرض کیا گیا تھا۔ لیکن یہ احکام آج بھی اسی طرح برقرار ہیں اور تبدیل نہیں ہوئے، حالانکہ ماضی میں بعض احکام تبدیل ہوتے رہے ہیں۔ مثال کے طور پر: نمازِ تراویح گیارہ رکعت مقرر کی گئی تھی، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اسے تئیس رکعت کر دیا۔ نمازِ جمعہ کے لیے پہلے ایک ہی اذان ہوتی تھی، پھر سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے اس کے لیے دو اذانیں مقرر کر دیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے نکاحِ متعہ کی اجازت دی تھی، پھر سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے اسے حرام قرار دے دیا۔ عید کی نماز میں پہلے خطبہ نماز کے بعد ہوتا تھا، پھر مروان بن عبدالملک نے خطبہ نماز سے پہلے دینا شروع کر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں پر مساجد تعمیر کرنے سے منع فرمایا تھا، لیکن بعد میں ولید بن عبدالملک نے ایسا کر دیا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے کھانے کی بعض چیزیں حرام قرار دی تھیں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھریلو گدھے کا گوشت بھی حرام قرار دے دیا، اور اس نوعیت کی دیگر مثالیں بھی موجود ہیں۔ تو کیا مسلمانوں کے حالات کو ملحوظ رکھتے ہوئے اور زندگی میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کے مطابق شرعی احکام میں تبدیلی کرنا دین کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے؟

جواب کا متن

ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالی کے لیے، اور دورو و سلام ہوں اللہ کے رسول پر، بعد ازاں:

تمام شریعتوں، ادیان، فکری مکاتب اور فلسفیانہ افکار  میں نظریاتی، اعتقادی اور قانونی تصورات کو دو بڑے حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ ناقدین اور محققین بھی اس فرق سے بخوبی واقف ہیں:

پہلا حصہ ان مسلّمہ اصولوں، بنیادی ارکان اور مستقل تصورات پر مشتمل ہوتا ہے جو کسی نظام کا عمومی فلسفہ اور اس کے بنیادی خدوخال متعین کرتے اور اسے دوسرے نظاموں سے ممتاز بناتے ہیں۔ یہ اصول تبدیل نہیں ہوتے۔

دوسرا حصہ ان تفصیلی احکام  پر مشتمل ہوتا ہے جو بنیادی اصولوں ہی سے اخذ کیے جاتے ہیں، تاکہ پیش آنے والے جزوی واقعات اور عملی صورتِ حال کا حل پیش کیا جا سکے اور بنیادی اصولوں کے مقاصد کو عملی جامہ پہنایا جا سکے۔

مثلاً سرمایہ دارانہ نظام میں انفرادی ملکیت ایک بنیادی اور ناگزیر اصول کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ اصول تبدیل نہیں ہو سکتا؛ کیونکہ اگر اسے تبدیل کر دیا جائے تو پھر وہ سرمایہ دارانہ نظام نہیں رہے گا، بلکہ اشتراکیت یا مخلوط معاشی نظام کی طرح ایک بالکل مختلف نظام بن جائے گا۔ لہٰذا جو شخص سرمایہ دارانہ نظام سے انفرادی ملکیت ختم کرنے یا اسے کمزور کرنے کا مطالبہ کرتا ہے، وہ در حقیقت اسے کسی دوسرے نظام میں بدلنے کا مطالبہ کر رہا ہوتا ہے۔

البتہ اگر سرمایہ دارانہ نظام، انفرادی ملکیت کے بے لگام استعمال کی بعض مخصوص صورتوں سے پیدا ہونے والے منفی اثرات کی روک تھام کے لیے کچھ قوانین بنائے تو اسے پورے نظام کی تبدیلی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ہاں، اس بارے میں اختلاف ہو سکتا ہے کہ یہ قوانین سرمایہ دارانہ نظام کے بنیادی اصول سے کس حد تک ہم آہنگ ہیں یا اسے کس قدر متاثر کرتے ہیں۔ بنیادی اصول بدل دینے اور اس کی بعض عملی صورتوں کی اصلاح کرنے میں واضح فرق ہے۔

اسلامی شریعت بھی اس عمومی ضابطے سے الگ نہیں ہے۔ اسی لیے مسلم یا غیر مسلم مفکرین میں سے کوئی بھی صاحبِ عقل شخص محض زمانے اور حالات کی تبدیلی کا حوالہ دے کر اسلامی شریعت سے یہ مطالبہ نہیں کرتا کہ وہ اپنی اس بنیادی شناخت کو ترک کر دے جو اسے دنیا کے دیگر انسانی قوانین اور نظاموں سے ممتاز بناتی ہے۔ ثوابت اور متغیرات کے فرق کو نظر انداز کرتے ہوئے شریعت کے مستقل اصولوں سے دست بردار ہونے کا مطالبہ درست نہیں؛ کیونکہ اہلِ دانش جانتے ہیں کہ سرے سے کسی کو ان اصولوں میں تبدیلی کا اختیار ہی حاصل نہیں۔

شریعت کے ان مستقل اصولوں میں عقائد، توحید سے متعلق امور، شریعت کے عمومی مقاصد، جامع فقہی قواعد، شرعی اقدار اور وہ متفقہ احکام شامل ہیں جن پر امت ہر دور میں متفق رہی ہے۔ اسی طرح وہ جزوی احکام بھی اس میں شامل ہیں جن کے واجب یا حرام ہونے کا فیصلہ شریعت نے خود کیا ہے؛ کیونکہ ان احکام کا کسی مصلحت کے حصول یا کسی نقصان سے بچاؤ کے ساتھ ایسا گہرا تعلق ہوتا ہے جو کسی بھی زمانے یا جگہ میں ختم نہیں ہوتا۔

مثلاً عورتوں پر حجاب کی فرضیت ایک قطعی اور مستقل حکم ہے، جسے تبدیل کرنا جائز نہیں؛ کیونکہ اس کا تعلق انسانی فطرت اور مرد و عورت کے ایک دوسرے کی طرف فطری میلان سے ہے، اور یہ میلان ہر زمانے اور ہر معاشرے کے انسانوں میں پایا جاتا ہے۔ اس حکم کی خلاف ورزی انسان کو اخلاقی بے راہ روی کی طرف لے جاتی ہے، جس کے نتائج سے آج دنیا کے تمام ممالک کسی نہ کسی صورت میں دوچار ہیں۔

ان حالات میں یہ کہنا کیسے درست ہو سکتا ہے کہ حجاب کا حکم ختم کر دینا چاہیے، جبکہ دنیا اس حکم کی خلاف ورزی سے پیدا ہونے والی خرابیوں کا مشاہدہ کر چکی ہے؟ اس صورتِ حال سے تو مسلمانوں کے دلوں میں اس حکم پر عمل کرنے کا عزم اور اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ شریعت کی حکمت پر یقین مزید مضبوط ہونا چاہیے۔

رہی وہ مثالیں جو آپ نے اپنے سوال میں ذکر کی ہیں، تو ان کا شمار اسلام کے ان قطعی اور مستقل احکام میں نہیں ہوتا جو اسلام کی امتیازی خصوصیات ہیں۔ چنانچہ نمازِ تراویح ایسی عبادت ہے جس کی اصل ہی میں وسعت رکھی گئی ہے؛ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی رکعتوں کی کوئی ایسی متعین تعداد مقرر نہیں فرمائی جس سے تجاوز کرنا جائز نہ ہو۔

جمعہ کے دن سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی اضافہ کردہ دوسری اذان بھی اسی واجب اذان کی مزید تاکید کے لیے تھا۔ اس میں اذان کے حکم کو تبدیل نہیں کیا گیا، بلکہ اسے دہرا کر مزید توجہ دلائی گئی تھی۔

جہاں تک اموی حکمرانوں کی جانب سے عید کی نماز سے پہلے خطبہ دینے کے عمل کا تعلق ہے تو یہ ایک بدعت تھی، جسے سلف و خلف کے تمام علمائے کرام نے رد کیا اور اس کی مذمت کی۔ انہوں نے اسے دین کے ساتھ کھلواڑ اور ایک سیاسی مقصد کے لیے شریعت میں نئی بات پیدا کرنا قرار دیا، نہ کہ کسی معتبر شرعی مصلحت کے حصول کا ذریعہ۔ یہی وجہ ہے کہ بیشتر ممالک میں معاملہ دوبارہ اپنی اصل صورت پر آ گیا اور لوگ عید کی نماز خطبے سے پہلے ہی ادا کرتے رہے۔

رہا نکاحِ متعہ اور گھریلو گدھوں کے گوشت کا مسئلہ، تو ان کے احکام میں جو تبدیلی آئی وہ خود شارع کی جانب سے نسخ کے ذریعے آئی تھی، نہ کہ شریعت قبول کرنے اور اس پر عمل کرنے والے لوگوں کی جانب سے۔ چنانچہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے نکاحِ متعہ کو حرام نہیں کیا تھا، بلکہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام قرار دیا تھا۔

اس کے باوجود علمائے کرام نے اس بات سے انکار نہیں کیا کہ بعض احکام پانچ چیزوں کی تبدیلی سے بدل سکتے ہیں۔ امام ابن قیم جوزیہ رحمہ اللہ نے ان پانچ چیزوں کا ذکر کیا ہے: زمانہ، مقام، عرف و عادات، حالات اور نیتیں۔

تاہم یہ تبدیلی صرف انہی احکام میں ہو سکتی ہے جن کی نوعیت ہی حالات کے ساتھ بدلنے والی ہو، نہ کہ ان احکام میں جو شریعت کی اصل بنیاد میں مستقل اور ناقابل تبدیلی ہیں۔

تبدیلی قبول کرنے والے احکام وہ ہیں جن کی بنیاد عرف یا مصلحت پر رکھی گئی ہو اور ان کی اساس کوئی مستقل شرعی حکم نہ ہو۔ جیسا کہ امام قرافی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:  ’’ اس بات پر اجماع ہے کہ جو حکم کسی عرف اور عادت پر قائم ہو، عادت بدلنے سے وہ حکم بھی بدل جاتا ہے۔ ‘‘ دیکھیں: ’’ الفروق ‘‘ (4/103)

امام قرافی رحمہ اللہ کے الفاظ ’’جو حکم عادت پر قائم ہو‘‘ پر غور کریں؛ اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ تبدیلی صرف انہی احکام میں آتی ہے جن کی بنیاد عرف اور عادت پر رکھی گئی ہو۔

البتہ جو احکام شریعت کے کسی عمومی مقصد یا ایسی مشترکہ انسانی حقیقت پر قائم ہوں جو ہر زمانے اور ہر دور میں یکساں رہتی ہے، مثلاً سود کی حرمت، تو ایسے احکام تبدیل نہیں ہو سکتے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں اسلامی شریعت کی دونوں خصوصیات نمایاں ہوتی ہیں: حالات کے ساتھ بدلنے والے احکام میں لچک، اور زمان و مکان کی تبدیلی کے باوجود مستقل رہنے والے احکام میں پائیداری۔

اور ان اہم شرعی مقاصد میں سے ایک یہ ہے کہ مکلف اپنے آپ کو مکمل طور پر رب العالمین اور اس کی شریعت کے تابع کر دے اور خواہشِ نفس کی پیروی سے نکل آئے۔ بہت سے خالص تعبدی احکام کی بنیاد اسی مقصد پر ہے۔ احکام کا یہ شعبہ کسی صورت تبدیلی قبول نہیں کرتا، جیسا کہ شریعت، شرعی اصولوں اور شرعی حکمت سے معمولی واقفیت رکھنے والا شخص بھی جانتا ہے۔

علامہ مصطفیٰ زرقا رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

’’ اسلامی فقہ میں یہ بات مسلمہ ہے کہ زمانے کے حالات اور صورتِ حال کی تبدیلی بہت سے اجتہادی شرعی احکام پر گہرا اثر ڈالتی ہے؛ کیونکہ یہ احکام دراصل شریعت کے مقرر کردہ ایسے ضوابط ہیں جن کا مقصد عدل قائم کرنا، مصالح کا حصول اور مفاسد کا سدباب ہے۔ اسی لیے ان کا اپنے دور کے حالات، وسائل اور معاشرتی اخلاق سے گہرا تعلق ہوتا ہے۔ چنانچہ کتنے ہی احکام ایسے ہیں جو کسی خاص دور اور ماحول میں مؤثر تدبیر اور کامیاب علاج تھے، لیکن ایک یا کئی نسلوں کے بعد حالات، وسائل اور اخلاقی اقدار بدل جانے سے وہ اپنے مطلوبہ مقصد تک پہنچانے کے قابل نہ رہے، یا الٹا اس کے برخلاف نتائج پیدا کرنے لگے۔

اسی بنا پر مختلف فقہی مذاہب کے متاخر فقہائے کرام نے بہت سے مسائل میں اپنے مذاہب کے ائمہ اور متقدم فقہائے کرام کے فتاویٰ سے مختلف فتوے دیے۔ ان متاخرین نے خود وضاحت کی ہے کہ ان کے فتوے سابقہ فقہائے کرام سے مختلف ہونے کی وجہ زمانے کی تبدیلی اور اخلاقی بگاڑ ہے۔ اس لیے حقیقت میں وہ اپنے مذاہب کے سابق فقہائے کرام کی مخالفت نہیں کر رہے تھے؛ بلکہ اگر متقدم ائمہ متاخرین کے دور میں موجود ہوتے اور زمانے اور لوگوں کے اخلاق میں آنے والی تبدیلی کو دیکھتے تو وہ بھی اسی رائے کو اختیار کرتے جو متاخر فقہائے کرام نے اختیار کی۔

اسی بنیاد پر یہ فقہی قاعدہ وضع کیا گیا ہے: زمانے کی تبدیلی سے احکام میں آنے والی تبدیلی کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔

تمام فقہی مذاہب کے فقہائے کرام اس بات پر متفق ہیں کہ زمانے اور لوگوں کے اخلاق بدلنے سے وہی اجتہادی احکام تبدیل ہوتے ہیں جو قیاس یا مصلحت پر مبنی ہوں؛ یعنی جنہیں قیاس یا مصلحت کے تقاضوں کی بنیاد پر اجتہاد کے ذریعے متعین کیا گیا ہو۔ مذکورہ فقہی قاعدے سے یہی احکام مراد ہیں۔

اس کے برخلاف وہ بنیادی احکام، جنہیں قائم اور مستحکم کرنے کے لیے شریعت میں واضح امر و نہی کی نصوص وارد ہوئی ہیں؛ زمانے کی تبدیلی سے نہیں بدلتے۔ مثلاً مطلق حرام چیزوں کی حرمت، معاملات میں باہمی رضامندی کا ضروری ہونا، انسان کا اپنے معاہدے کا پابند ہونا، کسی دوسرے کو پہنچائے گئے نقصان کی تلافی کرنا، کسی شخص کے اقرار کا صرف اسی کے خلاف معتبر ہونا، دوسروں کو اذیت دینے سے روکنا، جرائم کی سرکوبی کرنا، فساد کے ذرائع بند کرنا، حاصل شدہ حقوق کا تحفظ، ہر مکلف کا اپنے عمل اور کوتاہی کا ذمہ دار ہونا اور کسی بے گناہ کو دوسرے کے جرم کی سزا نہ دینا۔ اسی طرح دیگر وہ مستقل شرعی احکام اور اصول بھی تبدیل نہیں ہوتے جنہیں قائم کرنے اور ان کی خلاف ورزی کا سدباب کرنے کے لیے شریعت آئی ہے۔ یہ وہ بنیادی اصول ہیں جن کے ذریعے شریعت ہر زمانے اور ہر نسل کی اصلاح کرتی ہے۔ البتہ ان اصولوں کو عملی جامہ پہنانے کے وسائل اور طریقے نئے حالات کے مطابق بدل سکتے ہیں۔

مثلاً حقوق کے تحفظ کا ایک ذریعہ عدالتی نظام ہے۔ پہلے عدالتیں ایک قاضی پر مشتمل ہوتی تھیں اور اس کا فیصلہ قطعی اور آخری شمار ہوتا تھا۔ بعد میں زمانے کی مصلحت کے مطابق اجتماعی عدالتی نظام اور عدالتوں کے متعدد درجات اختیار کیے جا سکتے ہیں؛ کیونکہ دیانت داری میں کمی کے باعث اب زیادہ احتیاط کی ضرورت پیش آ سکتی  ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ زمانے کی تبدیلی کے ساتھ بدلنے والے شرعی احکام کی صورتیں خواہ کتنی ہی بدل جائیں، ان کی بنیاد میں کارفرما شرعی اصول ایک ہی رہتا ہے، یعنی حق کو قائم کرنا، مصالح حاصل کرنا اور مفاسد کا سدباب کرنا۔

لہٰذا احکام میں اس تبدیلی کا حقیقی مفہوم صرف ان وسائل اور طریقوں کی تبدیلی ہے جو شریعت کے مقصود تک پہنچاتے ہیں۔ اسلامی شریعت نے عموماً ان وسائل اور طریقوں کو متعین نہیں کیا، بلکہ انہیں کھلا رکھا ہے، تاکہ ہر دور میں نظام کو بہتر طریقے سے چلانے اور خرابیوں کی مؤثر اصلاح کے لیے موزوں ترین طریقہ اختیار کیا جا سکے۔‘‘ ختم شد

ماخوذ از: ’’ المدخل الفقهي العام‘‘ (940-942)

ڈاکٹر عابد سفیانی لکھتے ہیں:

’’ شریعت نے حالات اور زمانوں کی تبدیلی کو نظر انداز نہیں کیا، بلکہ ہر حالت کے لیے اس کے مناسب احکام مقرر کیے ہیں۔ مسلمانوں پر کبھی قوت کا دور آتا ہے اور کبھی کمزوری کا؛ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے حالتِ قوت کے لیے مخصوص احکام رکھے ہیں اور حالتِ کمزوری کے لیے اس کے مناسب احکام۔ اسی طرح قحط اور ضرورت کے حالات کے احکام الگ ہیں اور خوش حالی و خود کفالت کے حالات کے احکام الگ۔

تاہم شریعت کی جانب سے زمانے، حالات اور انسانی استطاعت کی رعایت کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ شریعت نے مصلحت کا تعین اور احکام سازی کا اختیار انسانی عقل کے سپرد کر دیا ہے۔ ہرگز نہیں! شریعت نے عبادات میں بھی یہ اختیار انسانی عقل کو نہیں دیا اور معاملات میں بھی نہیں۔

کسی پیش آنے والے واقعے کے حالات و حقائق کا جائزہ لینے کے بعد یہ بات مختلف طور پر سامنے آ سکتی ہے کہ اس پر کون سا شرعی حکم منطبق ہوتا ہے؛ اسی بنا پر فتویٰ بھی بدل سکتا ہے۔ مقصد یہ ہوتا ہے کہ ہر صورتِ حال کو اس شرعی حکم کے تحت رکھا جائے جو حقیقتاً اس پر لاگو ہوتا ہے۔ لیکن اس کا اس دعوے سے کوئی تعلق نہیں کہ زمانہ بدلنے سے مصالح بدل جاتے ہیں، لہٰذا شرعی احکام بھی تبدیل ہو جاتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ اسلامی فقہ جمود کا شکار نہیں ہوتی، بلکہ نئے حالات اور پیش آمدہ مسائل کے احکام بیان کرنے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے۔ شریعت ہر نئے واقعے کی مخصوص صورتِ حال اور اس کے حقائق کا جائزہ لیتی ہے، پھر یہ دیکھتی ہے کہ اس میں کس شرعی حکم کے اطلاق کی بنیاد پائی جاتی ہے، اور اسی کے مطابق اسے متعلقہ حکم کے تحت رکھتی ہے۔ اگر کسی دوسرے زمانے میں اسی نوعیت کا واقعہ کسی نئی صورت میں پیش آئے اور اس کے حالات و حقائق کی جانچ سے معلوم ہو کہ اس پر کسی دوسرے شرعی حکم کا اطلاق ہوتا ہے تو اسے اس دوسرے حکم کے تحت رکھا جائے گا۔ یہ سلسلہ ہمیشہ جاری رہتا ہے۔ یوں ہر واقعے کا حکم اس کی حقیقی صورتِ حال اور متعلقہ شرعی اصول کی روشنی میں متعین ہوتا ہے، اور یہی طریقہ ہر زمانے میں حقیقی مصلحت کو یقینی بناتا ہے۔ ‘‘ ختم شد

ماخوذ از: ’’ الثبات والشمول‘‘ (ص: 540) سے اقتباس مکمل ہوا۔

مزید تفصیل کے لیے ہزاع الغامدی کا مقالہ ’’محاولات التجديد في أصول الفقه‘‘ (ص: 823-828) ملاحظہ کیا جا سکتا ہے، جس میں اس مسئلے پر تفصیلی گفتگو کی گئی ہے۔

یہاں محترم سائل اور ہمارے ساتھ اس مسئلے پر تحقیق کرنے والے شخص کے لیے یہ بات یاد رکھنا بھی ضروری ہے کہ مغربی تہذیب کو حاصل ہونے والی عارضی کامیابی سودی سرمایہ دارانہ نظام کی مرہونِ منت نہیں۔ سوویت یونین کے دور میں اشتراکی نظام نے بھی ایک طاقت ور ریاست اور مستحکم معیشت قائم کرنے میں بڑی کامیابی حاصل کی تھی، لیکن وقت نے ان انسان ساختہ نظاموں کی سنگین ناکامی ثابت کر دی اور واضح کر دیا کہ ان کی کامیابی محض ایک عارضی چمک دمک تھی، جس کی حقیقت جلد یا بدیر سامنے آ جاتی ہے۔

آخری عالمی مالیاتی بحران کے بعد آج بہت سے ممتاز معاشی تجزیہ کار اور مفکر عالمی سرمایہ دارانہ مالیاتی نظام کے زوال کو اسی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اس بحران کے اثرات سے ممالک اس حد تک متاثر ہوئے کہ وہ مطلوبہ شرحِ نمو حاصل کرنے سے بھی عاجز آ گئے۔ صورتِ حال یہاں تک پہنچی کہ یورپی باشندہ بھی کسی ایسے ملک کی طرف ہجرت کا سوچنے لگا جہاں اسے اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے مناسب روزگار مل سکے۔ ان حالات کو انٹرنیٹ پر شائع ہونے والی متعدد تحقیقات اور دستاویزی پروگراموں میں بھی نمایاں کیا گیا ہے۔

اگر محترم سائل یہ بات بھی پیشِ نظر رکھے کہ موجودہ عالمی سرمایہ دارانہ مالیاتی نظام کی عمر سو برس سے کچھ ہی زیادہ ہے تو اسے معلوم ہو جائے گا کہ آج تک حاصل ہونے والے نتائج کی بنیاد پر یہ دعویٰ کرنا ابھی بہت قبل از وقت ہے کہ سود ہی مطلوبہ معاشی ترقی کا ذریعہ ہے۔ اگر بالفرض یہ بات تسلیم بھی کر لی جائے تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ سود سے پاک نظام اس سے زیادہ خوش حالی اور بہتر ترقی حاصل نہیں کر سکتا۔ جو شخص اس امکان کی نفی کرتا ہے، وہ ایک غیر علمی اور بے دلیل دعویٰ کرتا ہے۔ کیونکہ خلافتِ عثمانیہ اور تاریخ کی دیگر اسلامی خلافتوں نے دین و دنیا کی تعمیر و ترقی میں بے مثال کامیابیاں حاصل کیں، حالانکہ ان کے معاشی نظام سود کے تصور سے مکمل طور پر پاک تھے۔

بلکہ سرے سے کوئی ایسی دلیل موجود ہی نہیں جس سے ثابت ہو کہ مالیاتی معیشت میں سود ہی مجموعی معاشی ترقی کا مثبت عامل ہے۔ جو شخص سرمایہ دارانہ معاشروں کی حقیقی صورتِ حال اور سود کے تباہ کن اثرات کا جائزہ لے، وہ اس حقیقت کو بخوبی سمجھ سکتا ہے۔ آخر انسانیت کی اس میں کیا بھلائی ہے کہ دولت چند سود خوروں اور سرمایہ داروں کے ہاتھوں میں جمع ہو جائے، جو ملکوں کے وسائل لوٹتے اور انسانوں کی صلاحیتوں کو نچوڑتے رہیں، تاکہ صرف صفر اعشاریہ پانچ سے پانچ فیصد تک محدود ایک چھوٹے سے طبقے کی دولت مسلسل بڑھتی رہے، جبکہ لوگوں کی غالب اکثریت خوش حالی اور باعزت زندگی کے مواقع سے محروم رہے!؟

واللہ اعلم

حوالہ جات

اصول فقہ

ماخذ

الاسلام سوال و جواب

Previous
آگے
at email

ایمیل خبرنامہ

اسلام سوال و جواب کی میلنگ لسٹ میں شامل ہوں

phone

اسلام سوال و جواب ایپ

مواد تک فوری رسائی اور آف لائن مطالعہ کے لیے

download iosdownload android