فقہائے کرام نے اس ٹانڈی جیسی ایک اور چیز ’’روشَن‘‘ (یعنی بالکونی یا چھجا) کا ذکر کیا ہے، اور صراحت کی ہے کہ اگر یہ راہ چلنے والوں یا پڑوسیوں کو نقصان دے تو بنانا یا لگانا جائز نہیں ہے۔
شیخ محمد بن ابراہیم آل شیخ رحمہ اللہ کے فتاویٰ و رسائل (7/245) میں ہے:
’’(یعنی لکڑی کے سروں پر باہر کی طرف کوئی اُبھرا ہوا حصہ نہ نکالا جائے) جسے ’’جناح‘‘ بھی کہا جاتا ہے، اور اسے ’’طرمہ‘‘ بھی کہا جاتا ہے، خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا جائز نہیں ہے۔
تینوں ائمہ (یعنی امام ابوحنیفہ، امام مالک اور امام شافعی) کا موقف یہ ہے کہ اگر اس میں راہ گیروں یا ہمسایوں کو کوئی نقصان نہ پہنچتا ہو تو ایسا کرنا جائز ہے، اور یہی رائے راجح ہے۔
اسی طرح لکڑیوں کے بجائے اگر لمبے لوہے کے گارڈر لگائے جائیں جن کے سروں پر لکڑیاں رکھی جائیں، تو حقیقت میں یہی ’’بالکونی‘‘کہلاتی ہے، اور اس جیسے تمام وہ اضافے جو راستے کی فضا (ہوا کے حصے) سے لیے جاتے ہیں، انہی کے حکم میں داخل ہیں۔‘‘ ختم شد
’’البيان في مذهب الإمام الشافعي‘‘ (6/252) میں ہے:
’’اگر کوئی کھلی گلی میں چھجا یا شیڈ نکالتا ہے اور اس سے مسلمانوں کو نقصان نہ پہنچتا ہو تو یہ جائز ہے، یہ بنانے سے روکا نہیں جائے گا۔ یہی قول امام مالک، امام اوزاعی، امام احمد، امام اسحاق، امام ابو یوسف اور امام محمد رحمہم اللہ کا ہے۔‘‘ ختم شد
شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’صحیح بات یہ ہے کہ جو چیز عرف میں رائج ہے اور جس سے لوگوں کو نقصان نہ پہنچے وہ لگانا جائز ہے، لیکن اگر نقصان دے تو جائز نہیں، خواہ حکومتی اجازت ہی کیوں نہ ہو۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: الشرح الممتع (9/254)
چونکہ عام طور پر لوگ ٹانڈی سورج اور بارش سے بچاؤ، پردے کے لیے اور اوپر سے آنے والی تکلیف سے بچنے کے لیے لگاتے ہیں، جیسا کہ آپ نے سوال میں ذکر کیا، اس لیے اصل حکم اس کا جواز ہے۔ البتہ بہتر یہ ہے کہ آپ اس طرح ایڈجسٹ کریں کہ اوپر والے پڑوسی اپنی بالٹی نیچے اتار سکیں، کیونکہ اس میں ان کو کھلی تکلیف ہے۔ لیکن اگر وہ اپنی طرف سے ہونے والی تکلیف کو روکنے پر تیار نہ ہوں تو پھر آپ کے لیے ٹانڈی رکھنا جائز ہے، کیونکہ آپ نے یہ ان کو تکلیف دینے کے لیے نہیں بلکہ اپنے اوپر آنے والی ایذا کو دور کرنے کے لیے لگائی ہے۔
واللہ اعلم