پڑوسی کو تکلیف دینے والی ’’ٹانڈی‘‘ یا سایہ دار چھتری لگانے کا حکم

سوال 223621

کیا کھڑکیوں پر ’’ٹانڈی‘‘ (سایہ دار چھتری یا شیڈ) لگانا پڑوسی کو تکلیف دینے کے حکم میں شمار ہو گا؟ ہم نے اپنی کھڑکیوں پر ٹانڈی لگائی تاکہ اوپر والے پڑوسیوں کے سوکھنے کے لیے لٹکائے گئے کپڑوں کا پانی نیچے نہ گرے اور بچے ہمارے ایئر کنڈیشن پر کھانے  پینے کی چیزیں وغیرہ نہ پھینکیں۔ لیکن اوپر والے پڑوسی دو باتوں پر شکایت کرتے ہیں:
1- ٹانڈی کی وجہ سے وہ اس کے نیچے کا سڑک کا حصہ نہیں دیکھ پاتے۔
2- وہ اپنی خرید و فروخت کے لیے ٹوکری  نیچے نہیں اتار سکتے۔

واضح رہے کہ:

  • کپڑے سکھانے میں انہیں کوئی مشکل نہیں کیونکہ اس کے لیے جگہ کافی ہے۔
  • ٹانڈی مضبوطی سے لگی ہوئی ہے۔
  • میرے لیے اس حصے سے ٹانڈی ہٹانا بہت مشکل ہے جہاں میں اپنے گیلے کپڑے سکھانے کے لیے لٹکاتی ہوں؛ کیونکہ ان کے بچے اکثر بالکونی اور کھڑکی میں کھڑے ہو کر چیزیں نیچے پھینکتے ہیں اور مجھے بھی سخت تکلیف ہوتی ہے کہ ان کے گیلے کپڑوں کا پانی میرے کپڑوں پر گرتا ہے۔

براہ کرم راہنمائی فرمائیں، مجھے فکر ہے کہ کہیں یہ پڑوسی کو تکلیف دینے کے حکم میں نہ آتا ہو، حالانکہ اللہ گواہ ہے کہ یہ کام میری طرف سے جان بوجھ کر ایذا دینے کے لیے نہیں کیا گیا۔

جواب کا متن

ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالی کے لیے، اور دورو و سلام ہوں اللہ کے رسول پر، بعد ازاں:

فقہائے کرام  نے اس ٹانڈی جیسی ایک اور چیز  ’’روشَن‘‘ (یعنی بالکونی یا چھجا) کا ذکر کیا ہے، اور صراحت کی ہے کہ اگر یہ راہ چلنے والوں یا پڑوسیوں کو نقصان دے تو بنانا یا لگانا جائز نہیں ہے۔

شیخ محمد بن ابراہیم آل شیخ رحمہ اللہ کے فتاویٰ و رسائل (7/245) میں ہے:
’’(یعنی لکڑی کے سروں پر باہر کی طرف کوئی اُبھرا ہوا حصہ نہ نکالا جائے) جسے ’’جناح‘‘ بھی کہا جاتا ہے، اور اسے ’’طرمہ‘‘ بھی کہا جاتا ہے، خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا جائز نہیں ہے۔

تینوں ائمہ (یعنی امام ابوحنیفہ، امام مالک اور امام شافعی) کا موقف یہ ہے کہ اگر اس میں راہ گیروں یا ہمسایوں کو کوئی نقصان نہ پہنچتا ہو تو ایسا کرنا جائز ہے، اور یہی رائے راجح ہے۔

اسی طرح لکڑیوں کے بجائے اگر لمبے لوہے کے گارڈر لگائے جائیں جن کے سروں پر لکڑیاں رکھی جائیں، تو حقیقت میں یہی ’’بالکونی‘‘کہلاتی ہے، اور اس جیسے تمام وہ اضافے جو راستے کی فضا (ہوا کے حصے) سے لیے جاتے ہیں، انہی کے حکم میں داخل ہیں۔‘‘ ختم شد

’’البيان في مذهب الإمام الشافعي‘‘ (6/252) میں ہے:
’’اگر کوئی کھلی گلی میں چھجا یا شیڈ نکالتا ہے اور اس سے مسلمانوں کو نقصان نہ پہنچتا ہو تو یہ جائز ہے، یہ بنانے سے روکا نہیں جائے گا۔ یہی قول امام مالک، امام اوزاعی، امام احمد، امام اسحاق، امام ابو یوسف اور امام محمد رحمہم اللہ کا ہے۔‘‘ ختم شد

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’صحیح بات یہ ہے کہ جو چیز عرف میں رائج ہے اور جس سے لوگوں کو نقصان نہ پہنچے وہ لگانا جائز ہے، لیکن اگر نقصان دے تو جائز نہیں، خواہ حکومتی اجازت ہی کیوں نہ ہو۔‘‘  ختم شد
ماخوذ از: الشرح الممتع (9/254)

چونکہ عام طور پر لوگ ٹانڈی سورج اور بارش سے بچاؤ، پردے کے لیے اور اوپر سے آنے والی تکلیف سے بچنے کے لیے لگاتے ہیں، جیسا کہ آپ نے سوال میں ذکر کیا، اس لیے اصل حکم اس کا جواز ہے۔ البتہ بہتر یہ ہے کہ آپ اس طرح ایڈجسٹ کریں کہ اوپر والے پڑوسی اپنی بالٹی نیچے اتار سکیں، کیونکہ اس میں ان کو کھلی تکلیف ہے۔ لیکن اگر وہ اپنی طرف سے ہونے والی تکلیف کو روکنے پر تیار نہ ہوں تو پھر آپ کے لیے ٹانڈی رکھنا جائز ہے، کیونکہ آپ نے یہ ان کو تکلیف دینے کے لیے نہیں بلکہ اپنے اوپر آنے والی ایذا کو دور کرنے کے لیے لگائی ہے۔

واللہ اعلم

حوالہ جات

پڑوسی کے حقوق
معاملات

ماخذ

الاسلام سوال و جواب

Previous
آگے
at email

ایمیل خبرنامہ

اسلام سوال و جواب کی میلنگ لسٹ میں شامل ہوں

phone

اسلام سوال و جواب ایپ

مواد تک فوری رسائی اور آف لائن مطالعہ کے لیے

download iosdownload android