جمعرات 17 شوال 1440 - 20 جون 2019
اردو

جو شخص حج میں کام تو کرے لیکن استطاعت نہ ہونے کی وجہ سے حج نہ کرے، اس کا کیا حکم ہے؟

223693

تاریخ اشاعت : 14-08-2016

مشاہدات : 1071

سوال

سوال: جو شخص حج میں کام تو کرے لیکن استطاعت نہ ہونے کی وجہ سے اپنی طرف سے حج نہ کرے، اس شخص کا کیا حکم ہے؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

حج صرف اسی شخص پر فرض ہے جس کے پاس حج کرنے کی استطاعت ہو؛ کیونکہ فرمانِ باری تعالی ہے:
(وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا )
ترجمہ: حج بیت اللہ کی استطاعت رکھنے والے پر اللہ تعالی کیلیے حج لازم ہے۔[آل عمران:97]

اور پہلے فتوی نمبر: (5261) میں استطاعت کی حد بندی بیان ہو چکی ہے۔

لہذا اگر کسی شخص کے پاس حج کرنے کی استطاعت ہے تو اسے جلد از جلد حج کی ادائیگی کر لینی چاہیے؛ کیونکہ اہل علم کے راجح موقف کے مطابق حج فرض ہونے کے بعد فوری ادائیگی ضروری ہے، اس سے متعلق تفصیلات فتوی نمبر: (155378) میں ملاحظہ کریں۔

یہ بات یقینی ہے کہ مکہ مکرمہ میں موجود شخص اگر حج میں کام کرے تو  غالب گمان کے مطابق یہی لگتا ہے کہ اسے کسی نہ کسی طریقے سے مناسک حج ادا کرنے کا موقع مل جائے گا؛ یا کم از کم یہ ضرور ہے کہ ایسے شخص کے پاس دیگر افراد کے مقابلے میں حج کرنے کا موقع زیادہ ہے؛ کیونکہ اسے مزید سفر کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی کسی ویزے وغیرہ کی، اس لیے جہاں ملازمت کر  رہا ہے اس سے بات کر  کے واجب ارکان ادا کرنے کی اجازت مانگ لے اور واجب ارکان ادا کرنا آسان ہے ، ان شاء اللہ، وہ اس طرح کہ یومِ عرفہ  میں اگر اس کی ڈیوٹی عرفات میں لگے  تو اس سے مقصود حاصل ہو جائے گا کہ وہ خود عرفات میں موجود ہے، لہذا وقوفِ عرفہ کیلیے اسے کچھ نہیں کرنا پڑے گا اور اگر ڈیوٹی عرفات سے دور ہے تو عرفات جا کر وقوف کر سکتا ہے؛ کیونکہ اس وقت عرفات سے باہر کاروباری سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر ہوتی ہیں۔

اسی طرح معاملہ مزدلفہ میں رات گزارنے اور جمرات کو کنکریاں مارنے کا ہے ، کہ انہیں بھی آسانی سے ادا کیا جا سکتا ہے، ان شاء اللہ۔

لیکن اگر مالک  اجازت نہ دے  تو ایسی صورت میں اس کے پاس حج کرنے کی استطاعت ہی نہیں ہے؛ جیسے کہ پہلے اس چیز کا بیان فتوی نمبر: (155378) میں گزر چکا ہے، البتہ اسے آئندہ سال کی ترتیب ایسی بنائے کہ حج کرنے کا موقع مل جائے۔

اگر ملازم کا حج اسلام ہے تو پھر مالک کو بھی چاہیے کہ  اسے حج کرنے کی اجازت دے دے؛ اس طرح سے وہ بھی اسلام کے ایک عظیم کی ادائیگی میں آسانی پیدا کرنے کی وجہ سے ثواب کا حقدار ہو گا۔

واللہ اعلم.

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں