ایسے شخص کے لیے نصیحت جو نیک عمل دنیاوی مفادات کے لیے کرتا ہے رضائے الہی اس کا مطلوب و مقصود نہیں

سوال 224589

یہ ایک عجیب سا رجحان ہے جسے ہم اس زمانے میں بکثرت دیکھنے لگے ہیں، اور وہ ہے صرف دنیاوی فائدے حاصل کرنے کے لیے ’’ظاہری دینداری‘‘ اختیار کرنا۔ چنانچہ بہت سے نمازی ایسے ہیں جو نماز اس لیے پڑھتے ہیں کہ دعا کے ذریعے اپنی خواہشات پوری کر لیں، مال حاصل ہو جائے، اچھا گھر مل جائے، خوبصورت بیوی مل جائے، اور زندگی کی رونقیں اور آسائشیں بے حد و حساب میسر آ جائیں۔۔۔

ان میں سے بہت سے لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں کہ اگر انہیں یہ محسوس ہو کہ ’’دینداری اختیار کرنے‘‘ کے بعد انہیں کچھ حاصل نہیں ہوا اور ان کی مادی زندگی میں کوئی بہتری نہیں آئی تو وہ رک جاتے ہیں، بلکہ بعض تو نماز ہی چھوڑ دیتے ہیں یا دین سے پھر جاتے ہیں۔ اور ان میں کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں کہ اگر انہیں دنیا کی رنگینیوں میں سے کچھ مل جائے تو وہ اسی وقت نماز کو ترک کر دیتے ہیں۔ واللہ المستعان۔

ایسے لوگوں کو نہ نصیحت فائدہ دیتی ہے اور نہ وعظ، اور وہ اس بات کو جانتے ہی نہیں کہ اپنے دین کو سیکھنا کیا ہوتا ہے، اور علم کی مجلسوں میں حاضر ہونا کیا معنی رکھتا ہے؛ تاکہ انسان دنیا میں بھی کامیاب ہو، قیامت کے دن بھی نجات پا جائے، اور ایسی جنت حاصل کرے جس کی نعمتیں کبھی ختم نہ ہوں اور جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہے۔

ہم ایسے ’’نیم دیندار‘‘ لوگوں کے لیے کوئی نصیحت چاہتے ہیں جس سے ہم خود بھی سبق حاصل کریں اور لوگوں کو بھی اس کی تعلیم دے سکیں۔

جواب کا متن

ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالی کے لیے، اور دورو و سلام ہوں اللہ کے رسول پر، بعد ازاں:

اسلام میں نماز کا مقام بہت عظیم ہے۔ یہ دین کے بڑے ارکان میں سے ایک رکن ہے، اور ایمان و کفر کے درمیان حدِ فاصل ہے۔ اسی لیے اس کی پابندی کرنا ایمان کی نشانیوں میں سے ہے۔ اسے صرف اسلام کی ظاہری علامتوں میں سے ایک علامت نہیں کہا جا سکتا، اور نہ ہی اس کی پابندی اور محافظت کو محض ظاہری دینداری کہا جا سکتا ہے۔ بلکہ نماز کی پابندی دراصل ایمان کی سب سے عظیم شاخوں میں سے ایک شاخ کی پابندی ہے، اور ایسا عمل ہے جو شہادتین کے بعد اہلِ ایمان کے اعمال میں سب سے افضل ہے۔

اس کے باوجود ہم اس بات کا انکار نہیں کرتے کہ بہت سے مسلمان نماز پڑھنے کے باوجود شرک میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ اس بات کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح فرمایا ہے۔ چنانچہ ابن ماجہ (4204) نے ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، وہ بیان کرتے ہیں: ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، جبکہ ہم مسیح دجال کا ذکر کر رہے تھے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں جو میرے نزدیک تم پر مسیح دجال سے بھی زیادہ خوفناک ہے؟) ہم نے عرض کیا: کیوں نہیں! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (وہ چھپا ہوا شرک ہے، کہ آدمی نماز پڑھنے کے لیے کھڑا ہو اور اپنی نماز کو اس وجہ سے مزین کرے کہ کوئی شخص اسے دیکھ رہا ہے۔)‘‘ اس حدیث کو علامہ البانی نے ’’صحیح ابن ماجہ‘‘ میں حسن قرار دیا ہے۔

چنانچہ ممکن ہے کہ انسان نماز پڑھتے ہوئے بھی شرک میں مبتلا ہو سکتا ہے، چاہے اسے اس کا شعور ہو یا نہ ہو۔

اور سوال نمبر (183713) کے جواب میں پہلے یہ گزر چکا ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے نیک عمل کے ذریعے صرف دنیا ہی چاہے اور آخرت کا ارادہ اس کے دل میں بالکل نہ ہو، تو اس کا عمل صحیح نہیں ہوتا اور نہ ہی وہ قبول کیا جاتا ہے، یہاں تک کہ وہ اس عمل سے اللہ تعالیٰ کی رضا کا ارادہ کرے۔

البتہ اگر کوئی شخص عمل کرتے وقت دنیا اور آخرت دونوں کی بھلائی کا ارادہ رکھے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔

لیکن جو شخص ریاکاری کے طور پر نماز پڑھتا ہے، یا اس لیے نماز پڑھتا ہے کہ لوگ اس کے بارے میں کہیں: فلاں شخص نمازی ہے، اور لوگوں میں اس کی اچھی شہرت ہو؛ یا وہ اس نیت سے نماز پڑھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے قریب ہو جائے تاکہ اس کی ضروریات پوری ہو جائیں، پھر جب اس کی ضرورت پوری ہو جائے تو نماز چھوڑ دے؛ یا وہ اس امید پر نماز پڑھتا ہے کہ اس کی حالت بہتر ہو جائے، پھر جب اس کی حالت بہتر نہ ہو تو نماز چھوڑ دیتا ہے: تو ایسا شخص دراصل اللہ کے لیے عمل نہیں کر رہا۔ چنانچہ امام احمد (20715) نے اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (اس امت کو عزت، بلندی، دین کی سربلندی، نصرت اور زمین میں اقتدار کی بشارت دے دو، لیکن جو ان میں سے آخرت کا عمل دنیا کے لیے کرے گا، اس کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہو گا۔) اس حدیث کو علامہ البانی نے ’’صحیح الجامع‘‘ (2825) میں صحیح قرار دیا ہے۔

الشیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں:
’’جو شخص اس لیے نماز پڑھے کہ اسے کوئی دنیاوی فائدہ حاصل ہو، یا اس لیے اذان دے کہ اس کے بدلے کچھ لے: تو اس کے لیے آخرت میں کوئی اجر نہیں ہو گا؛ کیونکہ اس نے اپنے عمل کے ذریعے دنیا کا ارادہ کیا، لہٰذا اسے وہی ملے گا جس کا اس نے ارادہ کیا۔ ‘‘ یہ اقتباس ’’فتاوى نور على الدرب‘‘ (8/2، ترتیب: الشاملة) سے نقل کیا گیا ہے۔

اصل اصول یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ وہی عمل قبول فرماتا ہے جو خالص ہو اور جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی رضا مطلوب ہو۔ چنانچہ مسلم (2985) میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے: میں شرک سے سب شریکوں سے زیادہ بے نیاز ہوں، جس نے کوئی ایسا عمل کیا جس میں اس نے میرے ساتھ کسی اور کو شریک کیا تو میں اسے اور اس کے شرک کو چھوڑ دیتا ہوں۔)

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں:
’’عبادت میں اللہ کے لیے اخلاص کا مطلب یہ ہے کہ بندے کو عبادت پر آمادہ کرنے والی چیز صرف اللہ تعالیٰ کی محبت، اس کی تعظیم، اس کے ثواب کی امید اور اس کی رضا کی طلب ہو۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں کے بارے میں فرمایا ہے: مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ تَرَاهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانًا ترجمہ: ’’محمد اللہ کے رسول ہیں، اور جو لوگ آپ کے ساتھ ہیں وہ کافروں پر سخت اور آپس میں رحم دل ہیں۔ آپ انہیں اللہ کا فضل اور اس کی رضا جستجو میں رکوع و سجود کرتے دیکھیں گے ۔‘‘ [الفتح: 29]
’’مجموع فتاوى ورسائل العثيمين‘‘ (21/19) سے اقتباس ختم ہوا۔

لہٰذا مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنے دل اور اپنے عمل دونوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ کرے، اپنے عمل سے اللہ تعالیٰ کی رضا اور آخرت مقصود بنائے، اور امید رکھے کہ اللہ تعالیٰ اس کے دنیاوی معاملات میں بھی اسے کامیابی عطا فرمائے گا۔ اس طرح وہ دین کے ذریعے اپنے دنیاوی امور میں مدد حاصل کرے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ ترجمہ:’’اور صبر اور نماز کے ذریعے مدد طلب کرو‘‘[البقرة: 45]

ابن کثیر رحمہ اللہ کہتے ہیں:
’’اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ دنیا اور آخرت کی جس بھلائی کی امید رکھتے ہیں، اس کے حصول کے لیے صبر اور نماز کے ذریعے مدد حاصل کریں۔‘‘
’’تفسير ابن كثير‘‘ (1/251) سے اقتباس ختم ہوا۔

چنانچہ مومن اللہ کے لیے عمل کرتا ہے، پھر دنیا اس کے پیچھے پیچھے خود بخود آ جاتی ہے۔ یہ اس کے اخلاص اور کارکردگی کا نتیجہ ہوتا ہے؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ اسے دنیا اور آخرت دونوں کی بھلائی عطا فرماتے ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُمْ بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ
ترجمہ:’’جو شخص نیک عمل کرے، خواہ مرد ہو یا عورت، بشرطیکہ وہ مومن ہو، تو ہم اسے ضرور پاکیزہ زندگی عطا کریں گے اور انہیں ان کے بہترین اعمال کے مطابق اجر دیں گے۔‘‘ [النحل: 97]

ابن کثیر رحمہ اللہ کہتے ہیں:
’’یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے وعدہ ہے اس شخص کے لیے جو نیک عمل کرے کہ اللہ اسے دنیا میں پاکیزہ زندگی عطا فرمائے گا، اور آخرت میں اس کے بہترین اعمال کے مطابق بدلہ دے گا۔ یہاں مذکورہ پاکیزہ زندگی میں ہر قسم کی راحت شامل ہے، چاہے وہ کسی بھی صورت میں ہو۔‘‘
’’تفسير ابن كثير‘‘ (4/601) سے اقتباس ختم ہوا۔

اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا * وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ
ترجمہ:’’اور جو اللہ سے ڈرے، اللہ اس کے لیے نکلنے کا راستہ بنا دیتا ہے، اور اسے وہاں سے رزق دیتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوتا، اور جو اللہ پر بھروسا کرے تو وہ اس کے لیے کافی ہے۔‘‘ [الطلاق: 2-3]

اور ترمذی (2465) نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (جس شخص کی فکر آخرت ہو جائے، اللہ اس کے دل میں بے نیازی رکھ دیتا ہے، اس کے معاملات کو یکجا کر دیتا ہے، اور دنیا اس کے پاس ذلیل ہو کر آتی ہے۔ اور جس شخص کی فکر دنیا ہو جائے، اللہ اس کی محتاجی اس کی آنکھوں کے سامنے کر دیتا ہے، اس کے معاملات کو منتشر کر دیتا ہے، اور اسے دنیا میں سے وہی ملتا ہے جو اس کے لیے مقدر کر دیا گیا ہے۔) اس حدیث کو علامہ البانی نے ’’صحیح الترمذي‘‘ میں صحیح قرار دیا ہے۔

لیکن جو شخص کوئی عمل اس نیت سے کرتا ہے کہ اسے دنیا کا بدلہ ملے، تو اسے دنیا میں بھی وہی ملتا ہے جو اللہ نے اس کے لیے لکھ دیا ہے، اور وہ اپنے عمل کے ساتھ نامراد اور خسارے میں لوٹتا ہے؛ کیونکہ اس نے اس عمل سے اللہ تعالیٰ کی رضا کا ارادہ نہیں کیا۔ اور ہر وہ چیز جو اللہ کی رضا کے علاوہ کسی اور کے لیے کی جائے وہ باطل ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
مَنْ كَانَ يُرِيدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّلْنَا لَهُ فِيهَا مَا نَشَاءُ لِمَنْ نُرِيدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهُ جَهَنَّمَ يَصْلَاهَا مَذْمُومًا مَدْحُورًا * وَمَنْ أَرَادَ الْآخِرَةَ وَسَعَى لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَئِكَ كَانَ سَعْيُهُمْ مَشْكُورًا
ترجمہ:’’جو شخص جلد ملنے والی دنیا چاہتا ہے تو ہم اس میں سے جسے چاہتے ہیں جتنا چاہتے ہیں جلد دے دیتے ہیں، پھر ہم اس کے لیے جہنم مقرر کر دیتے ہیں جس میں وہ ملامت زدہ اور دھتکارا ہوا داخل ہو گا۔ اور جو شخص آخرت چاہے اور اس کے لیے جیسی کوشش کرنی چاہیے ویسی کوشش کرے اور وہ مومن بھی ہو، تو ایسے ہی لوگوں کی کوشش کی قدر کی جائے گی۔ ‘‘ [الإسراء: 18-19]

اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
مَنْ كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ الْآخِرَةِ نَزِدْ لَهُ فِي حَرْثِهِ وَمَنْ كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ الدُّنْيَا نُؤْتِهِ مِنْهَا وَمَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ نَصِيبٍ
ترجمہ:’’جو شخص آخرت کی کھیتی چاہتا ہے ہم اس کی کھیتی میں اضافہ کر دیتے ہیں، اور جو شخص دنیا کی کھیتی چاہتا ہے ہم اسے اس میں سے کچھ دے دیتے ہیں، لیکن آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہوتا۔‘‘ [الشورى: 20]

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:
’’جس شخص کی نیت درست نہ ہو اور اس کا عمل اللہ کے لیے نہ ہو تو وہ یا تو فاسد عمل ہو گا یا اللہ کے علاوہ کسی اور کے لیے ہو گا، اور ایسا ہی عمل باطل ہوتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: إِنَّ سَعْيَكُمْ لَشَتَّى ترجمہ: ’’یقیناً تمہاری کوششیں مختلف ہیں۔ ‘‘ تو مذکورہ تمام اعمال باطل ہیں اور کافروں کے اعمال جیسے ہیں۔‘‘
’’مجموع الفتاوى‘‘ (28/169) سے اقتباس ختم ہوا۔

اور ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں:
’’جو شخص اپنے عمل سے اللہ کی رضا کے علاوہ کسی اور چیز کا ارادہ کرے، اور اللہ کے قریب ہونے اور اس سے اجر طلب کرنے کے بجائے کسی اور مقصد کی نیت کرے تو اس نے اپنی نیت اور ارادے میں شرک کر لیا۔
کیونکہ اخلاص یہ ہے کہ : انسان اپنے افعال، اقوال، ارادے اور نیت میں اللہ کے لیے خالص ہو جائے۔ یہی حنیفیت ہے، یعنی ابراہیم علیہ السلام کی ملت، جسے اپنانے کا اللہ تعالیٰ نے اپنے تمام بندوں کو حکم دیا ہے، اور اللہ اس کے علاوہ کسی سے کچھ قبول نہیں فرماتا۔ یہی اسلام کی حقیقت ہے:وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ ترجمہ: ’’اور جو اسلام کے علاوہ کوئی اور دین چاہے گا تو وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا، اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو گا۔‘‘ [آل عمران: 85] اور یہی ابراہیم علیہ السلام کی ملت ہے، جس سے جو شخص روگردانی کرے وہ سب سے بڑے بے وقوفوں میں سے ہے۔‘‘
’’الجواب الكافي‘‘ (ص 135) سے اقتباس مکمل ہوا۔

چنانچہ ایسے لوگوں سے کہا جائے گا جو اپنی دنیاوی ضرورتیں پوری کرنے کے لیے نمازیں پڑھتے ہیں کہ : اپنے دین کے بارے میں اللہ سے ڈرو، اور اپنی جانوں کے بارے میں بھی اللہ سے ڈرو، اور یہ جان لو کہ جو شخص اللہ کی رضا کے لیے عمل کرتا ہے وہ دنیا اور آخرت دونوں کی نعمتیں حاصل کرتا ہے۔ لیکن جو شخص اللہ کی رضا کے علاوہ کسی اور مقصد کے لیے عمل کرتا ہے اور دنیا کی فانی متاع کی خواہش رکھتا ہے تو اسے دنیا میں بھی وہی ملتا ہے جو اللہ نے اس کے لیے مقدر کیا ہے، اور اس کا عمل اس کے لیے دنیا و آخرت میں خسارے کے سوا کچھ نہیں لاتا۔

اور اس شخص سے بھی کہا جائے گا جو اپنی مراد پوری نہ ہونے کی وجہ سے دین سے پھر جاتا ہے یا نماز، عبادت اور اطاعت چھوڑ دیتا ہے: اس بات سے ڈرو کہ کہیں تم ان لوگوں میں سے نہ ہو جاؤ جو کنارے پر کھڑے ہو کر اللہ کی عبادت کرتے ہیں۔ اگر انہیں کوئی بھلائی مل جائے تو مطمئن ہو جاتے ہیں، اور اگر کوئی آزمائش آ جائے تو منہ کے بل پھر جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَعْبُدُ اللَّهَ عَلَى حَرْفٍ فَإِنْ أَصَابَهُ خَيْرٌ اطْمَأَنَّ بِهِ وَإِنْ أَصَابَتْهُ فِتْنَةٌ انْقَلَبَ عَلَى وَجْهِهِ خَسِرَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةَ ذَلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِينُ
ترجمہ:’’اور لوگوں میں سے کچھ ایسے ہیں جو اللہ کی عبادت کنارے پر رہ کر کرتے ہیں؛ اگر انہیں کوئی بھلائی پہنچے تو اس پر مطمئن ہو جاتے ہیں، اور اگر کوئی آزمائش آ جائے تو منہ کے بل پھر جاتے ہیں۔ وہ دنیا اور آخرت دونوں میں خسارے والا ہوا، اور یہی کھلا ہوا خسارہ ہے۔‘‘ [الحج: 11]

شیخ سعدی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
’’یعنی بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کا ایمان کمزور ہوتا ہے، ایمان ان کے دل میں پوری طرح داخل نہیں ہوا اور ایمان کی شیرینی ان کے دل میں رچی بسی نہیں ہوتی۔ چنانچہ اگر اس کا رزق کشادہ رہے اور اسے کوئی ناگوار چیز پیش نہ آئے تو وہ اس بھلائی پر مطمئن ہو جاتا ہے، اپنے ایمان پر نہیں۔ ایسے شخص کے بارے میں ممکن ہے کہ اللہ اسے عافیت دے دے اور اسے ایسی آزمائشوں میں نہ ڈالے جو اسے اس کے دین سے پھیر دیں۔ اور اگر اسے کوئی تکلیف پہنچ جائے یا کوئی محبوب چیز چھن جائے تو وہ اپنے دین سے پھر جاتا ہے، ایسا شخص دنیا اور آخرت دونوں میں خسارہ اٹھاتا ہے۔‘‘
’’تفسیر سعدی‘‘ (ص 534) سے اقتباس مکمل ہوا۔

مزید معلومات کے لیے سوال نمبر (14258) اور (39775) کا جواب بھی ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔

واللہ اعلم

حوالہ جات

اخلاص نیت
شرک اور اس کی اقسام

ماخذ

الاسلام سوال و جواب

Previous
آگے
answer

متعلقہ جوابات

at email

ایمیل خبرنامہ

اسلام سوال و جواب کی میلنگ لسٹ میں شامل ہوں

phone

اسلام سوال و جواب ایپ

مواد تک فوری رسائی اور آف لائن مطالعہ کے لیے

download iosdownload android