ہفتہ 15 شعبان 1440 - 20 اپریل 2019
اردو

ام المؤمنین خدیجہ کے لیے “خدیجۃ الکبری” کے لقب کا کوئی ثبوت نہیں

224808

تاریخ اشاعت : 18-12-2016

مشاہدات : 1489

سوال

خدیجہ رضی اللہ عنہا جن کو لوگ خدیجۃ الکبری کہ کر پکارتے تھے ،اسے بنیاد بنا کر کیا میں بھی اپنی بیوی کو "کبری "کہہ سکتا ہوں یا کہ یہ لقب ان کے ساتھ خاص تھا ۔چنانچہ میری بیوی کا نام نورا ہے اور میں اسے خوش کرنے کے لئے "نورا الکبری" کہنا چاہتا ہوں ، کیا اس کی گنجائش ہے ؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

پہلی بات تو یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یا ابتدائی دور کے مسلمانوں میں سے کسی سے بھی ام المؤمنین خدیجہ کا لقب خدیجۃ الکبری ثابت نہیں ہے ۔بلکہ یہ لقب اکثر  رافضی شیعہ ہی استعمال کرتے ہیں ،اگرچہ بعض اہل سنت علماء نے بھی اس لقب کو استعمال کیا ہے  ۔

"الطبقات السنیۃفی تراجم الحنفیہ"  ( 1/51)- مکتبہ شاملہ کی ترتیب کے مطابق – میں مذکور ہے:
"عائشہ رضی اللہ عنہا ،خدیجۃ الکبری کے بعد سب عورتوں سے افضل اور مؤمنوں کی ماں ہیں، آپ بد اخلاقی اور رافضیوں کے الزامات سے پاک اور بری ہیں " انتہی

ابن قنفذ کی کتاب "الوفیات"(1/32)میں ہے:
"خدیجۃ الکبری کی وفات ہجرت سے تین سال قبل ہوئی "

محمد امین بن فضل اللہ نے بھی اپنی کتاب "خلاصۃ الأثر فی أعیان القرن الحادی عشر" (3/254)میں آپ رضی اللہ عنہا کو "الکبری" کہا ہے ۔

دوم:

آپ اپنی بیوی کی عزت افزائی اور خوش کرنے کے لئے اسے  "نورا الکبری " کہہ  سکتے ہیں  اس میں کوئی حرج نہیں ،لیکن یہ اعتقاد نہ ہو کہ اس لقب کی کوئی خاص فضیلت ہے ،یا اس میں ام المؤمنین خدیجہ رضی اللہ عنہا کے لقب کے ساتھ مشابہت ہے کیونکہ ان کے لیے یہ لقب ثابت ہی نہیں ہے جیسے کہ بیان کر دیا گیا ہے ۔

واللہ اعلم.

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں