مسجد میں ممنوع گفتگو کے بارے میں

سوال: 225714

میرا سوال دراصل سوال نمبر (4448) کی وضاحت سے متعلق ہے۔ میں نے سنا اور پڑھا ہے کہ صحابہ کرام مسجد نبوی کے اندر دنیاوی باتیں کیا کرتے تھے، اور مسجد میں کرتب دکھانے والے کھیل بھی ہوتے تھے، جیسا کہ حبشیوں کا واقعہ ہے، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو ان کا مشاہدہ کرنے کی اجازت بھی دی تھی۔ اگر یہ سب باتیں درست ہیں تو پھر وہ کون سی دنیاوی باتیں ہیں جن سے مسجد میں گفتگو کرنے سے شریعت نے منع فرمایا ہے؟

جواب کا متن

ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالی کے لیے، اور دورو و سلام ہوں اللہ کے رسول پر، بعد ازاں:

اول:

مساجد مسلمانوں کے عبادت، اطاعت اور اپنے رب کے ذکر کے لیے اجتماع کا مقام ہیں، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان کی تعظیم اور توقیر کا حکم دیا ہے، چنانچہ فرمایا:

فِي بُيُوتٍ أَذِنَ اللَّهُ أَنْ تُرْفَعَ وَيُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ يُسَبِّحُ لَهُ فِيهَا بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ رِجَالٌ لَا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ وَإِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ يَخَافُونَ يَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِيهِ الْقُلُوبُ وَالْأَبْصَارُ
ترجمہ: ’’ایسے گھروں میں جن کے بارے میں اللہ نے حکم دیا ہے کہ ان کو بلند کیا جائے اور ان میں اس کا نام لیا جائے، ان میں صبح و شام ایسے لوگ تسبیح کرتے ہیں جنہیں نہ تجارت اور نہ خرید و فروخت اللہ کے ذکر، نماز قائم کرنے اور زکاۃ دینے سے غافل کرتی ہے، وہ اس دن سے ڈرتے ہیں جس میں دل اور آنکھیں الٹ پلٹ جائیں گی۔‘‘  [النور: 36-37]

اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (یہ [یعنی مساجد] صرف اللہ کے ذکر، نماز اور قرآن کی تلاوت کے لیے ہیں) صحیح مسلم: (285)

اللہ تعالیٰ نے مسجد کی تعظیم کے لیے چند خاص احکام مقرر فرمائے ہیں اور بعض امور سے روکا ہے کہ  یہ مسجد میں نہ کیے جائیں، ان میں سے چند یہ ہیں:

1- گمشدہ چیز  کی تلاش کا اعلان:

یعنی مسجد میں کسی گمشدہ چیز کو تلاش کرنے کے لیے بلند آواز سے اعلان کرنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:  (جو شخص کسی کو مسجد میں گمشدہ چیز تلاش کرتے ہوئے سنے تو کہے: ’’اللہ کرے یہ چیز تجھے واپس نہ ملے‘‘، کیونکہ مسجدیں اس مقصد کے لیے نہیں بنائی گئیں)۔ صحیح مسلم: (568)

حدیث کے عربی متن  میں "يَنْشُدُ" کا مطلب ہے: بلند آواز سے پکارنا۔

اصمعی  کہتے ہیں: ’’ہر وہ چیز جس کے لیے تو نے آواز بلند کی، تو نے اس کا نشدان کیا، چاہے وہ گم شدہ چیز ہو یا کوئی اور‘‘ ختم شد
ماخوذ از: ’’ شرح سنن ابن ماجہ ‘‘ از مغلطائی (1/1279)

چنانچہ اگر کوئی شخص پست آواز سے کسی قریبی شخص یا امام سے دریافت کرے، تو اس میں کوئی حرج نہیں۔

علامہ الباجی ’’المنتقی شرح الموطأ‘‘ (1/312) میں فرماتے ہیں:
’’امام مالک نے فرمایا: اگر کوئی شخص مسجد میں گمشدہ چیز بلند آواز سے تلاش کرتا ہے، تو یہ منع ہے، البتہ اگر وہ اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے لوگوں سے آہستگی سے پوچھتا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مسجد میں بلند آواز سے بات کرنا ممنوع ہے اس کی وجہ ہم پہلے بیان کر چکے ہیں،  تاہم اگر کوئی شخص اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے شخص سے معمول کی آواز میں استفسار کرے تو یہ ممنوع نہیں، بشرطیکہ آہستہ آوازیں بھی شور شرابہ کی حد کو نہ پہنچیں۔‘‘ ختم شد

اسی طرح : گم شدہ چیز ملنے پر اس کے مالک کی تلاش  میں اعلان کرتے ہوئے آواز بلند کرنا بھی منع ہے، چنانچہ کسی شخص کو مسجد میں کوئی چیز ملے تو وہ بلند آواز سے کہے: ’’مجھے فلاں چیز ملی ہے‘‘ یا ’’کس کی فلاں چیز گم ہوئی ہے؟‘‘

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’جب تمہیں کوئی چیز ملے تو مسجد کے دروازے پر تین دن تک اس کا اعلان کرو، اگر کوئی آ کر اس کی نشاندہی کر دے تو اسے دے دو، ورنہ تم خود اس کا جو چاہے فیصلہ کرو‘‘  مصنف عبد الرزاق: (18620)

امام مالک رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: ’’کیا گمشدہ چیز ملنے پر اس کے مالک کی تلاش میں مسجد کے اندر اعلان کیا جائے؟ تو انہوں نے جواب میں فرمایا: ’’مجھے مسجد میں بلند آواز پسند نہیں، البتہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حکم دیا تھا کہ مسجد کے دروازے پر اس کے مالک کی تلاش میں اعلان کیا جائے، اور اگر وہ شخص مسجد میں بیٹھے ہوئے حلقوں کے پاس جا کر آہستگی سے بتا دے تو میرے نزدیک اس میں کوئی حرج نہیں۔‘‘ ختم شد
التاج والإکلیل: (8/42)

اس بارے میں مزید کے لیے آپ سوال نمبر: (5049) کا جواب ملاحظہ کریں۔

2- مسجد میں خرید و فروخت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (جب تم کسی کو مسجد میں خریداری یا فروخت کرتا دیکھو تو کہو: اللہ تیری تجارت میں نفع نہ دے) اس حدیث کو ترمذی : (1321) نے روایت کیا ہے اور البانی  نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔

3- مسجد میں شعر و شاعری:

نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے : (مسجد میں اشعار کے باہمی تبادلے سے منع فرمایا ہے) اس حدیث کو نسائی: (415) نے روایت کیا ہے اور البانی  نے اسے حسن قرار دیا ہے۔
اشعار کے تبادلے کا مطلب ہے کہ ایک شخص شعر پڑھے اور پھر دوسرا جواب میں شعر پڑھے اس طرح گویا مسجد ایک ادبی محفل بن جائے گی حالانکہ یہاں پر ذکرِ الہی اور تلاوت قرآن ہونی چاہیے تھی۔

’’القاموس‘‘ (1/322) میں حدیث کے عربی لفظ ’’ تَنَاشُدِ‘‘کا معنی ذکر کرتے ہوئے  بیان کیا کہ: ’’تناشدوا‘‘ یعنی لوگوں نے ایک دوسرے کو اشعار سنائے۔

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مسجد کے کنارے ایک کشادہ جگہ بنائی جسے ’’بطیحاء‘‘ کہا جاتا تھا، اور فرمایا: ’’جو شخص شور کرنا چاہے، یا اشعار پڑھنا چاہے، یا آواز بلند کرنا چاہے، وہ یہاں باہر نکل کر کرے‘‘
موطا امام مالک: (93) میں بلاغیات کے طور پر موجود ہے، دیگر محدثین نے اس اثر کو موصولا روایت کیا ہے۔

ابن رجب رحمہ اللہ ’’فتح الباری‘‘ (3/334) میں ابن عبد البر رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں:
’’مسجد میں اشعار کبھی کبھار (یعنی مسلسل نہ ہوں) تو جائز ہیں‘‘۔

اگر اشعار میں غزل، ہجو، یا دیگر فتنہ انگیز مضامین ہوں تو ممانعت سخت ہو جاتی ہے، اور اگر جائز اشعار ہوں تو کوئی حرج نہیں۔

ابن رجب رحمہ اللہ ’’فتح الباری‘‘ (3/335) میں کہتے ہیں:
’’جمہور علمائے کرام کے نزدیک جائز اشعار کا مسجد میں پڑھنا درست ہے‘‘۔

اور اگر اشعار میں حسن اخلاق ، دفاعِ اسلام، اسلامی دعوت، فضائل دین، زہد و تقویٰ، اخلاق فاضلہ یا علمی متون ہوں تو یہ مستحب اور مشروع ہے۔

چنانچہ سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے شاعر تھے۔ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں اشعار سے روکا تو فرمایا:
’’میں تو اس (یعنی مسجد) میں اس وقت بھی اشعار پڑھتا تھا، جب یہاں آپ سے بھی بہتر شخصیت موجود تھی (یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم)‘‘   بخاری:( 3212)

امام نووی ’’المجموع‘‘ (2/177) میں فرماتے ہیں:
’’اگر اشعار نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم یا اسلام کی مدح میں ہوں، یا حکمت پر مشتمل ہوں، یا اخلاق فاضلہ، زہد، یا دیگر نیکی کی باتوں پر مشتمل ہوں تو مسجد میں پڑھنے میں کوئی حرج نہیں، البتہ وہ اشعار جن میں کسی مسلمان کی ہجو، شراب کی توصیف، عورتوں یا بے ریش لڑکوں کا ذکر، ظالم کی مدح، یا ناجائز فخر ہو، تو وہ حرام ہیں۔‘‘ ختم شد

4- دنیاوی گفتگو اس قدر زیادہ ہو کہ  عمومی عادت بن جائے:

اگر مسجد میں بیٹھنے والوں کا عمومی مشغلہ دنیاوی باتیں کرنا بن جائے، اور اس گفتگو کے ساتھ شور، ہنگامہ، اور آواز بلند کرنے کی کیفیت ہو، یہاں تک کہ مسجد ایک دنیاوی مجلس کی شکل اختیار کر لے، تو یہ ممنوع ہے، کیونکہ مساجد اس مقصد کے لیے نہیں بنائی گئیں۔

امام بخاری رحمہ اللہ نے صحیح بخاری میں ایک عنوان قائم کیا: ’’باب: مسجدوں میں آواز بلند کرنے کا بیان‘‘
پھر اس کے تحت حدیث (470) میں سائب بن یزید سے روایت نقل کی:  ’’میں مسجد میں کھڑا تھا تو کسی نے مجھے کنکری ماری۔ میں نے دیکھا تو وہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تھے۔ انہوں نے کہا: جاؤ، ان دونوں کو میرے پاس لاؤ۔ میں انہیں لایا تو انہوں نے پوچھا: تم کون ہو یا کہاں سے ہو؟ انہوں نے جواب دیا: ہم طائف کے رہنے والے ہیں۔ حضرت عمر نے فرمایا: اگر تم مدینہ کے رہنے والے ہوتے تو میں تمہیں سخت سزا دیتا، تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی مسجد میں آواز بلند کرتے ہو؟‘‘

ابن مفلح ’’الآداب الشرعية‘‘ (3/382) میں فرماتے ہیں:
’’سنت یہ ہے کہ مسجد کو شور و غوغا، فضول گفتگو، اور ناپسندیدہ آوازوں سے محفوظ رکھا جائے۔‘‘ ختم شد

لیکن اگر دنیاوی باتیں معمولی ہوں، ان کا غلبہ نہ ہو، اور ان میں نمازیوں یا ذکر کرنے والوں کے لیے کوئی خلل یا شور نہ ہو، تو ایسی گفتگو جائز ہے۔

جیسا کہ جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے: ’’نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم فجر کی نماز سے فارغ ہونے کے بعد اس جگہ سے نہ اٹھتے جہاں نماز ادا کی ہوتی، یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جاتا۔ جب سورج نکل آتا تو آپ اٹھتے۔ اس دوران صحابہ کرام آپس میں گفتگو کرتے، اور کبھی کبھی دورِ جاہلیت کی باتیں بھی کرتے، اس پر وہ ہنستے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی مسکراتے۔‘‘ صحیح مسلم: (670)

امام نووی ’’المجموع‘‘ (2/177) میں فرماتے ہیں:
’’مسجد میں مباح گفتگو کرنا، دنیاوی امور پر بات کرنا، اور مساجد میں مباح قسم کا ہنسی مذاق کرنا جائز ہے، بشرطیکہ وہ مباح ہو، جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث اس پر دلیل ہے‘‘۔

5- عمومی طور پر مسجد میں بلند آواز سے گفتگو منع ہے، خواہ قرآن کی تلاوت ہو یا ذکر، اگر اس سے دوسرے نمازیوں کو خلل پہنچے، تو منع ہے، سوائے ان چیزوں کے جن میں شرعی طور پر آواز بلند کرنے کی اجازت ہے، جیسے اذان، جہری نماز، اور خطبہ وغیرہ۔

حدیث میں آتا ہے:
’’اور تم مساجد میں بازاروں جیسا شور و ہنگامہ  نہ کرو‘‘صحیح مسلم: (432)

امام نووی ’’شرح صحیح مسلم‘‘ (4/156) میں کہتے ہیں:
’’اس سے مراد بازاروں میں  ہونے والا آوازوں کا اختلاط، جھگڑے، شور، ہنگامہ، فتنہ اور فساد ہے۔‘‘ ختم شد

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے مسجد میں اعتکاف کیا، تو سنا کہ کچھ لوگ بلند آواز سے قرآن پڑھ رہے ہیں۔ آپ نے پردہ اٹھایا اور فرمایا: ’’خبردار! تم میں سے ہر ایک اپنے رب سے سرگوشی کر رہا ہے، لہٰذا کوئی دوسرے کو تکلیف نہ دے، اور نہ ہی کوئی اپنی تلاوت دوسرے کی آواز سے بلند کرے۔ [راوی کہتے ہیں:] یا آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے نماز کی قراءت کے بارے میں کہا۔‘‘  اس حدیث کو ابو داود: (1332) نے روایت کیا ہے اور البانی  نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔
امام نووی ’’المجموع‘‘ (2/175) میں فرماتے ہیں: ’’مسجد میں جھگڑا اور آواز بلند کرنا مکروہ ہے‘‘ ختم شد

اس بارے میں مزید کے لیے آپ سوال نمبر: (38521) کا جواب ملاحظہ کریں۔

دوم:

جس کھیل کا ذکر سوال میں آیا ہے کہ نوجوانوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے سامنے نیزوں سے کھیل پیش کیا، وہ کوئی تماشائی کرتب نہ تھے، جیسا کہ سوال کرنے والے نے گمان کیا ہے، بلکہ وہ جنگی مشقیں تھیں۔

جیسے کہ صحیح بخاری (5190) میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ’’حبشی نیزوں کے ساتھ کھیلتے تھے‘‘۔

ابن حجر ’’فتح الباری‘‘ (2/445) میں لکھتے ہیں:
’’اس حدیث سے اس بات پر دلیل لی گئی ہے کہ ہتھیاروں کے ساتھ کھیلنے کی اجازت ہے، بطور چھلانگ لگانے کے، تاکہ جنگ کی تیاری ہو اور اس کی مشق بھی ہو۔ اور اسی حدیث  سے  ہتھیاروں کے ذریعے اسلحہ چلانے کی مشق کی مشروعیت بھی ثابت ہوتی ہے، کیونکہ اس سے جنگی ہتھیاروں کو استعمال کرنے کی عملی تربیت ہوتی ہے‘‘ ختم شد

’’مرقاة المفاتيح‘‘ (5/2120) میں ہے:
’’انہیں اس لیے اجازت دی گئی کہ ان کا نیزوں سے کھیل اللہ کے دشمنوں کے خلاف جنگ کی تیاری میں شمار ہوتا تھا، لہٰذا نیت کے لحاظ سے یہ عبادت بن گیا، بالکل ایسے ہی جیسے تیر اندازی‘‘ ختم شد

اور بعض لوگوں کو غلط فہمی اس وجہ سے ہوتی ہے کہ وہ شرعی نصوص کے الفاظ کو اپنے دور کے مطابق سمجھتے ہیں ، ان الفاظ کا وہ معنی اور مفہوم نہیں  لیتے جو وحی نازل ہونے وقت اس ماحول میں موجود تھا۔

اس حوالے سے مزید مطالعہ کرنے کے لیے دیکھیے: ’’مجموع الفتاوى‘‘ از ابن تیمیہ (7/106)

واللہ اعلم

حوالہ جات

ماخذ

الاسلام سوال و جواب

answer

متعلقہ جوابات

at email

ایمیل خبرنامہ

اسلام سوال و جواب کی میلنگ لسٹ میں شامل ہوں

phone

اسلام سوال و جواب ایپ

مواد تک فوری رسائی اور آف لائن مطالعہ کے لیے

download iosdownload android