بدھ 24 صفر 1441 - 23 اکتوبر 2019
اردو

نیک اعمال کا ثواب تمام مسلمانوں کو ہدیہ کرنے کا حکم

226347

تاریخ اشاعت : 01-08-2015

مشاہدات : 3069

سوال

سوال: ایک شخص میقات سے احرام باندھتا ہے، اور اپنے عمرے کا ثواب تمام مسلمانوں کو ہدیہ کرنے کی نیت کرتا ہے، تو کیا اس کا عمرہ مقبول ہوگا؟ اور کیا اس کے اس عمل کا اجر مسلمانوں کو پہنچے گا؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

نیک اعمال کا ثواب کسی زندہ یا فوت شدہ مسلمان کو  ہدیہ کرنے کے بارے میں  اہل علم رحمہم اللہ کا اختلاف ہے، اور اس مسئلہ کے بارے میں ویب سائٹ پر پر تفصیلی گفتگو  گزر چکی ہے، اور وہاں پر اس بات کو راجح قرار دیا گیا ہے کہ میت کو  صرف انہیں نیک اعمال کا ثواب پہنچتا ہے جن کے بارے میں نصوص  موجود ہیں، جیسے کہ صدقہ ، دعا وغیرہ؛ اسکی بنیادی وجہ اللہ تعالی کا یہ فرمان ہے کہ: وَأَنْ لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَىاور انسان کیلئے صرف وہی ہے جس کی اس نے خود کوشش کی۔ [النجم : 39]
مزید کیلئے آپ سوال نمبر: (46698) اور (103966) کا مطالعہ کریں۔

چنانچہ  نیک اعمال کا ثواب تمام مسلمانوں  کیلئے ہدیہ  کرنا تو بالاولی  منع ہوگا، بلکہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ  نے ذکر کیا ہے کہ ایصالِ ثواب کا یہ طریقہ سلف صالحین میں سے کسی سے ثابت نہیں ہے۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ سے ایک شخص کے بارے میں پوچھا گیا، جو مکمل قرآن مجید یا کچھ حصہ پڑھ کر کہتا ہے: " یا اللہ! جو کچھ میں نے پڑھا ہے اسے  میری طرف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدیہ فرما دے، یا زمین پر موجود مشرق سے مغرب تک تمام لوگوں کو میری طرف سے یہ ہدیہ کر دے" تو کیا اس طرح کرنا  جائز ہے؟ یا مستحب ہے؟ کیا ایسے شخص کو اس کے عمل سے روکنا ضروری ہے؟ اور کیا کسی مسلمان عالم نے پہلے ایسے  کیا ہے؟
تو ابن تیمیہ نےجواب میں درج ذیل گفتگو فرمائی:
"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن مجید پڑھنے کا ثواب ہدیہ کرنا، یا تمام اہل زمین کو ہدیہ کرنا بعض کے نزدیک ایسے ہے، جیسے نفل روزوں ، نمازوں، اور دیگر [بدنی]نفل عبادات کا ثواب ہدیہ کیا جائے،  اور کچھ نے اسے صدقہ ، غلام آزاد کرنا، اور حج  [یعنی: مالی عبادات]کا ثواب ہدیہ کرنے  سے مشابہ قرار دیا ہے، [یعنی: اس کے بارے میں دو اقوال ہیں] ہمیں سلف صالحین، صحابہ کرام، تابعین عظام یا  تبع تابعین کسی سے بھی ایسی بات نہیں ملی کہ انہوں نے ایسے کیا ہو، سب سے پہلے جس نے -ہمارے  علم کے مطابق- یہ کام  کیا وہ علی بن موفق ہیں  جو کہ احمد الکبار   کے ہم عصر، اور جنید  کے مشایخ میں سے ہیں۔۔۔۔ (آگے فرماتے ہیں)لیکن ۔۔ تمام لوگوں کو  نیک اعمال کا ثواب ہدیہ کرنا !  اس بارے میں کبھی  نہیں سنا کہ کسی نے ایسا کیا ہو، اور نہ یہ بات میں نے سنی ہے کہ کوئی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو  ثواب ہدیہ کیا کرتا تھا، ماسوائے علی بن موفق  وغیرہ کے، اور [یہ بات مسلم ہے کہ] صحابہ کرام، تابعین عظام، اور تبع تابعین  کی اقتدا  ان کی اقتدا سے بہتر ہے، چنانچہ انسان کو وہی عمل کرنا چاہیے  جو شرعی طور پر صحیح ہو، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام پڑھے، کیونکہ اسی کے بارے میں اللہ تعالی اور خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے، چنانچہ سنن میں یہ روایت موجود ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (جمعہ کے دن اور رات میں مجھ پر کثرت سے درود پڑھا کرو، کیونکہ تمہارا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے۔۔۔)

اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم  -آپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں-پر درود پڑھنے کے  فضائل  اتنے زیادہ ہیں کہ اس کیلئے یہاں اتنی گنجائش نہیں ہے، اسی طرح مؤمن مرد وخواتین کیلئے  دعا کرنا، ان کیلئے اللہ سے بخشش طلب کرنا بھی ایسا عمل ہے جس کے بارے میں  کتاب و سنت میں ترغیب   دلائی گئی ہے، چنانچہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:
وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْبِكَ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ
ترجمہ: اور اپنے گناہوں کی،اور مؤمن مرد و خواتین کیلئے بخشش طلب کریں۔ [محمد : 19]۔۔۔۔
 چنانچہ ایک مؤمن کو شریعت میں ثابت شدہ افعال   ہی  تلاش  کرنے چاہییں۔ واللہ اعلم" انتہی
" جامع المسائل لابن تيمية " (4/209- 213)

مذکورہ بالا تفصیل کے بعد :
 عمرے کا ثواب تمام مسلمانوں کو ہدیہ نہیں کرنا چاہیے،  تاہم اس شخص  نے جو عمل کر لیا ہے، اس کے بارے میں اللہ تعالی سے دعا گو ہیں کہ  اسکی اچھی نیت پر  ثواب سے نوازے، لیکن اسے چاہیے کہ دوبارہ ایسا مت کرے، اور انہیں باتوں پر اکتفا کرے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لیے شرعی قرار دی ہیں، جیسے کہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:
" چنانچہ ایک مؤمن کو شریعت میں ثابت شدہ افعال   ہی  تلاش  کرنے چاہییں "

واللہ اعلم.

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں