نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کھانا ہضم ہونے سے پہلے مزید کھانے کی ممانعت ثابت نہیں، البتہ طبی ماہرین کی جانب سے یہ بات معروف ہے۔ جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کم کھانے اور ضرورت سے زیادہ نہ کھانے کی ترغیب ثابت ہے۔
کیا سنت میں کھانا ہضم ہونے سے پہلے مزید کھانے کی ممانعت آئی ہے؟
سوال 230874
کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی ایسی حدیث مروی ہے جس میں کھانا ہضم ہونے سے پہلے مزید کھانے سے منع کیا گیا ہو؟
جواب کا خلاصہ
جواب کا متن
ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالی کے لیے، اور دورو و سلام ہوں اللہ کے رسول پر، بعد ازاں:
ہمارے علم میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی ایسی حدیث نہیں جس میں کھانا ہضم ہونے سے پہلے مزید کھانے سے منع کیا گیا ہو۔ یہ بات طبی ماہرین کی گفتگو میں ملتی ہے، بلکہ ان کے ہاں مشہور و معروف بھی ہے۔
جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کھانے پینے میں کمی کرنے اور ضرورت سے زیادہ نہ کھانے کی ترغیب دی ہے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (انسان نے پیٹ سے برا کوئی برتن نہیں بھرا۔ ابن آدم کے لیے چند لقمے کافی ہیں جو اس کی کمر سیدھی رکھ سکیں۔ اگر زیادہ کھانا ناگزیر ہو تو پیٹ کا ایک تہائی کھانے کے لیے، ایک تہائی پینے کے لیے اور ایک تہائی سانس لینے کے لیے رکھے۔) اسے ترمذی : (2380)نے روایت کیا ہے اور صحیح قرار دیا ہے ۔ البانی نے بھی اسے ’’صحیح ترمذی‘‘ میں صحیح قرار دیا ہے۔
ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں:
’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ انسان کے لیے چند لقمے کافی ہیں جو اس کی کمر سیدھی رکھیں؛ ان سے اس کی قوت برقرار رہے گی اور وہ کمزور نہیں پڑے گا۔ اگر اس سے زیادہ کھائے تو پیٹ کا ایک تہائی حصہ کھانے سے بھرے، دوسرا تہائی پانی کے لیے اور تیسرا سانس لینے کے لیے چھوڑ دے۔ یہ جسم اور دل کے لیے نہایت مفید طریقہ ہے؛ کیونکہ جب پیٹ کھانے سے بھر جائے تو پینے کی گنجائش کم ہو جاتی ہے، پھر اس پر پانی بھی پی لیا جائے تو سانس لینے کی گنجائش کم ہو جاتی ہے۔ اس بوجھ کی وجہ سے انسان کو گھٹن اور تھکن محسوس ہوتی ہے، جیسے کوئی شخص بھاری بوجھ اٹھائے ہوئے ہو۔ اس کے ساتھ پیٹ بھر کر کھانے سے دل میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے، اعضا نیکی کے کاموں میں سستی کرنے لگتے ہیں اور پیٹ بھرنے کی وجہ سے شہوتوں کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ لہٰذا پیٹ کو کھانے سے بھر لینا دل اور جسم دونوں کے لیے نقصان دہ ہے۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: ’’زاد المعاد‘‘ (4/17)
علامہ سفارینی رحمہ اللہ ’’غذاء الألباب‘‘ (2/110) میں کہتے ہیں:
’’کھانے والے کو چاہیے کہ پیٹ کا ایک تہائی حصہ کھانے کے لیے، ایک تہائی پینے کے لیے اور ایک تہائی ہوا کے لیے رکھے؛ تاکہ تمام مخلوق کے لیے شفیق اور خیر خواہ رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے فرمان پر عمل ہو جو انہیں دین و دنیا کے فائدوں کی راہ دکھاتے ہیں۔۔۔ تبھی عرب کے طبیب حارث بن کلدہ نے کہا: پرہیز علاج کی بنیاد ہے اور بسیار خوری بیماری کی جڑ ہے۔ حارث کا یہ بھی کہنا ہے کہ : مخلوق کو جس چیز نے ہلاک کیا اور جنگل کے درندوں کو بھی موت کے گھاٹ اتارا، وہ پہلے کھانے کے ہضم ہونے سے پہلے مزید کھانا ہے۔‘‘ ختم شد
واللہ اعلم
ماخذ:
الاسلام سوال و جواب