منگل 17 شعبان 1445 - 27 فروری 2024
اردو

پبلك سوئمنگ پول ميں تيراكى كرنا

23464

تاریخ اشاعت : 13-06-2023

مشاہدات : 477

سوال

كيا پبلك ساحل يا سوئمنگ پول پر جانا جائز ہے، ميں مكمل جسم كو چھپانے والا لباس زيب تن كرتا ہوں، اور دوسرے جو لباس پہنتے ہيں اس كا اہتمام نہيں كرتا  ؟

جواب کا متن

الحمد للہ.

اللہ تعالى آپ كو توفيق سے نوازے آپ كے علم ميں ہونا چاہيے كہ مسلمان كو اپنا دين محفوظ ركھنے، اور فتنہ و فساد اور برائى والى جگہوں اور ان حرام ساحل سمندر سے دور رہنے كا حكم، كيونكہ وہاں جانے ميں مرد و عورت كا اختلاط اور ستر پوشى نہ ہونا جيسے غلط امور پائے جاتے ہيں.

پھر يہ جگہيں برائى اور بے حيائى سے بھرى ہوئى ہيںن اس ليے آپ كا وہاں جانا جائز نہيں، ہاں يہ ہو سكتا ہے اگر آپ وہاں امر بالمعروف اور نہى عن المنكر جيسا عظيم كام كرنے جانا چاہيں تو پھر جائز ہے.

نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" جو كوئى بھى تم ميں سے كسى برائى كو ديكھے تو وہ اسے اپنے ہاتھ سے روكے، اگر اس كى استطاعت نہ ركھتا ہو تو پھر اسے اپنى زبان سے روكے، اور اس كى استطاعت نہ ركھتا ہو تو پھر اسے اپنے دل سے روكے، اور يہ ايمان كا كمزور ترين حصہ ہے "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 49 ).

اور اگر آپ وہاں جا كر امر بالمعروف اور نھى عن المنكر كا كام  نہيں كرتے تو آپ بھى ان كى ساتھ گناہ ميں برابر كے شريك ہيں:

اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

{ اللہ تعالى تمہارے پاس اپنى كتاب ميں يہ حكم نازل كر چكا ہے كہ تم جب كسى مجلس والوں كو اللہ تعالى كى آيتوں كے ساتھ كفر كرتے اور مذاق اڑاتے ہوئے سنو تو اس مجمع ميں ان كے ساتھ مت بيٹھو! جب تك كہ وہ اس كے علاوہ اور باتيں نہ كرنے لگيں ( وگرنہ ) تم بھى اس وقت انہى جيسے ہو يقينا اللہ تعالى تمام كافروں اور سب منافقوں كو جہنم ميں جمع كرنے والا ہے }النساء ( 140 ).

تو اس آيت ميں اس بات كى دليل پائى جاتى ہے كہ جو شخص بھى كسى معيصت و نافرمانى كى مجلس ميں بيٹھے اور انہيں نافرمانى و معصيت سے منع نہ كرے تو وہ بھى گناہ ميں ان كے ساتھ برابر كا شريك ہے، جب وہ برائى كى بات كريں، يا برائى پر عمل كريں اور كوئى برا كام كريں تو اس كو انہيں اس سے منع كرنا چاہيے، اگر وہ انہيں منع كرنے كى قدرت و طاقت نہيں ركھتا تو پھر اسے وہاں سے اٹھ جانا چاہيے.

ديكھيں: تفسير القاسمى ( 5 / 526 ).

اور آپ كو شيطان سبز باغ دكھا كر آپ پر خلط ملط نہ كردے اور آپ كو كہنے لگے: جو دوسرے لوگ پہنتے ہيں ميں اس كا اہتمام نہيں كرتا، يہ شيطان كى جانب سے سبز باغ ہيں؛ كيونكہ جب انسان جائيگا تو ضرور ايسى چيز ديكھےگا اور اس كى نظر ايسى چيز پر ضرور پڑيگى اس كے پروردگار كى ناراضگى كا باعث ہے، اور ہو سكتا ہے ايسى نظر بھى پڑ جائے جس كا اس نے قصد نہيں بھى كيا، ليكن شيطان اس ميں اپنا داؤ لگا جائے، اور وہ فتہ و فساد اور خرابى كا باعث بن جائے، اللہ اس سے محفوظ ركھے.

اللہ تعالى سے دعا ہے كہ وہ ہميں آور آپ كو فتنوں اور گمراہيوں سے محفوظ ركھے، اور ہمارے دل كو ثابت قدمى عطا فرمائے.

اللہ تعالى ہمارے نبى محمد صلى اللہ عليہ وسلم اور ان كى آل اور صحابہ كرام پر اپنى رحمتيں نازل فرمائے.

واللہ اعلم

ماخذ: الاسلام سوال و جواب