’’ چاروں فقہی مذاہب اس بات پر متفق ہیں کہ اگر نجاست خارج ہونے کی اپنی جگہ سے آگے بڑھ جائے اور کافی پھیل جائے، تو اس صورت میں صرف ڈھیلوں کا استعمال کافی نہیں ہوتا، بلکہ اسے دھونا ہی لازم ہوتا ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ ڈھیلوں کا استعمال ایک رخصت ہے جو عموم بلویٰ کی بنا پر دی گئی ہے، اس لیے یہ رخصت اسی صورت تک محدود رہتی ہے جس میں عام طور پر مشقت پائی جاتی ہو، اور جو نجاست اس حد سے بڑھ جائے اس کو زائل کرنے کا طریقہ اصل قاعدے کے مطابق ہو گا، یعنی نجاست کو دھونے کے ذریعے ہی زائل کیا جائے گا۔ ‘‘ ختم شد
ماخوذ از:’’الموسوعة الفقهية‘‘ (4/121)
عورت کے لیے پاخانہ کرنے کے بعد ڈھیلوں کا استعمال کافی ہونا بالاتفاق درست ہے، اس کی وجہ واضح ہے۔
البتہ پیشاب کے بارے میں فقہاء کا اختلاف ہے:
مالکی فقہائے کرام کے نزدیک عورت کے پیشاب میں ڈھیلوں کا استعمال کافی نہیں ہوتا، خواہ وہ کنواری ہو یا شادی شدہ؛ کیونکہ ان کے نزدیک عورت کا پیشاب عموماً پیشاب نکلنے کی جگہ سے آگے پھیل جاتا ہے۔
شافعی فقہائے کرام کے نزدیک اگر عورت کنواری ہو تو پیشاب کرنے کی صورت میں پیشاب کو زائل کر دینا کافی ہے، خواہ کپڑے کے ذریعے ہو یا کسی اور چیز سے۔ البتہ شادی شدہ عورت کے بارے میں اگر یہ بات متحقق ہو جائے کہ پیشاب اندام نہانی تک پہنچ گیا ہے، جیسا کہ عموماً ہوتا ہے، تو اس صورت میں استجمار کافی نہیں ہو گا، اور اگر پیشاب وہاں تک نہ پہنچا ہو تو استجمار کافی ہو جائے گا۔ تاہم اس حالت میں بھی دھونا مستحب ہے۔
جبکہ حنابلہ کے نزدیک شادی شدہ عورت کے بارے میں دو قول ہیں:
پہلا قول یہ ہے کہ اس کے لیے استجمار ہی کافی ہے۔
دوسرا قول یہ ہے کہ اس جگہ کو دھونا واجب ہے۔
یہ تفصیل بھی ’’الموسوعة الفقهية‘‘ (4/122) سے لی گئی ہے۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھیے:
’’مواهب الجليل‘‘ از حطّاب (1/284)، اور ’’منح الجليل‘‘ از علیش (1/105)۔‘‘
ابن قدامہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’کنواری عورت کا حکم مرد ہی کی طرح ہے؛ کیونکہ اس کاکنوارہ پن پیشاب کے پھیلاؤ کو روکے رکھتا ہے۔
رہی شادی شدہ عورت، تو اگر پیشاب تیزی سے نکلا ہو اور پھیلا نہ ہو تو اس کا حکم بھی یہی ہے۔
اور اگر پیشاب حیض نکلنے کے مقام تک پہنچ جائے تو ہمارے اصحاب کہتے ہیں کہ اس حصے کو دھونا واجب ہے؛ کیونکہ حیض اور ولادت کا مقام پیشاب کے مقام کے علاوہ ہے۔
اور اس بات کا بھی احتمال ہے کہ دھونا واجب نہ ہو؛ اس لیے کہ عورت کے ہاں ایک معمول کی بات ہے، تو اس میں استجمار ہی کافی ہو گا، جیسے دوسروں کے حق میں معمول کی صورت میں ہوتا ہے۔ نیز اگر عورت پر دھونا لازم ہوتا کیونکہ عورت کے ساتھ یہ معاملہ پیش آتا ہی رہتا ہے ، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم اسے اپنی ازواج مطہرات کے لیے ضرور واضح فرما دیتے؛ کیونکہ یہ ان امور میں سے ہے جن کا جاننا بہت ضروری ہے۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: ’’المغنی‘‘ (1/118)
راجح بات یہ ہے کہ اس مسئلے میں عورت کا حکم مرد ہی کی طرح ہے، خواہ وہ کنواری ہو یا شادی شدہ۔
یہی وہ رائے ہے جسے محقق اہلِ علم کی ایک جماعت نے اختیار کیا ہے، جیسے مجد ابن تیمیہ — جو شیخ الاسلام ابن تیمیہ کے دادا ہیں — اور مرداوی رحمہم اللہ وغیرہ، تفصیلات کے لیے دیکھیے:’’الإنصاف‘‘ (1/160)
شیخ عبد اللہ الطیار حفظہ اللہ تعالیٰ سے سوال کیا گیا:
یہ کہا جاتا ہے کہ عورت کے لیے پیشاب کے بعد پانی کے ساتھ استنجا کرنا شرط ہے، اور یہ بات وہ لوگ کہتے ہیں جو اپنے آپ کو مالکی فقہ کی طرف منسوب کرتے ہیں؛ تو کیا یہ بات درست ہے؟
تو انہوں نے جواب دیا:
’’میں اس بات کی کوئی اصل نہیں جانتا؛ عورت بھی دیگر لوگوں ہی کی طرح ہے، وہ پانی کے ساتھ استنجا بھی کر سکتی ہے، اور ڈھیلوں کے ساتھ استجمار بھی۔ اور اگر وہ ڈھیلوں کے بعد پانی بھی استعمال کر لے تو یہ زیادہ کامل ہے۔‘‘ ختم شد
مزید فائدے کے لیے سوال نمبر (9645) اور (111813) کے جوابات بھی ملاحظہ کیے جا سکتے ہیں۔
واللہ اعلم