ایک شخص کا سوال ہے کہ: کیا عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام بنی آدم میں سے شمار ہوں گے؛ کیونکہ آپ بغیر والد کے پیدا ہوئے ہیں؟

سوال: 237051

میں کچھ افراد کے ساتھ گفتگو میں تھا، اور یہ معاملہ پیش آیا جو بظاہر بدیہی اور مسلّم معلوم ہوتا ہے۔

اور وہ یہ کہ: کیا عیسیٰ ابن مریم بنی آدم میں سے ہیں یا وہ آدم کی طرح ہیں جنہیں اللہ نے براہِ راست پیدا کیا؟
میں نے انہیں جواب دیا کہ وہ تو مولود ہیں، قرآن کریم نے ان کی نسبت مریم کی طرف کی ہے، اور مریم عمران کی بیٹی ہیں، اور عمران یعقوب کی اولاد میں سے ہیں، اور یعقوب نوح کی ذریت میں سے ہیں، اور نوح آدم کی ذریت میں سے ہیں۔ انہوں نے کہا: نسل تو صرف مردوں سے ہوتی ہے۔ اب اس صورت حال میں صحیح بات کی وضاحت مطلوب ہے۔

جواب کا متن

ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالی کے لیے، اور دورو و سلام ہوں اللہ کے رسول پر، بعد ازاں:

اول:
اللہ تعالی کے نبی عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام اولوالعزم رسولوں میں سے ہیں، اور سب کے سب رسول انسان اور بنی آدم میں سے ہیں۔ اس طرح عیسیٰ علیہ السلام بھی آدم، نوح اور ابراہیم علیہم السلام کی ذریت میں سے ہیں۔ ہمیں مسلمانوں کے مابین اس بارے میں کسی قسم کا اختلاف معلوم نہیں۔

اللہ تعالیٰ نے ابراہیم خلیل علیہ السلام کے بارے میں فرمایا:
وَوَهَبْنَا لَهُ إِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ كُلًّا هَدَيْنَا وَنُوحًا هَدَيْنَا مِنْ قَبْلُ وَمِنْ ذُرِّيَّتِهِ دَاوُودَ وَسُلَيْمَانَ وَأَيُّوبَ وَيُوسُفَ وَمُوسَى وَهَارُونَ وَكَذَلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ * وَزَكَرِيَّا وَيَحْيَى وَعِيسَى وَإِلْيَاسَ كُلٌّ مِّنَ الصَّالِحِينَ * وَإِسْمَاعِيلَ وَالْيَسَعَ وَيُونُسَ وَلُوطًا وَكُلًّا فَضَّلْنَا عَلَى الْعَالَمِينَ
ترجمہ:’’اور ہم نے ابراہیم کو اسحاق اور یعقوب عطا کیے، ان میں سے ہر ایک کو ہم نے ہدایت دی، اور نوح کو بھی اس سے پہلے ہم نے ہدایت دی، اور اس کی ذریت میں داؤد، سلیمان، ایوب، یوسف، موسیٰ اور ہارون کو (بھی ہدایت دی)، اور ہم حسن کارکردگی کے حاملین کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں۔ اور زکریا، یحییٰ، عیسیٰ اور الیاس کو بھی، یہ سب نیکو کاروں میں سے تھے۔ اور اسماعیل، یسع، یونس اور لوط کو بھی (ہدایت دی)، اور ہم نے ان سب کو جہان والوں پر فضیلت بخشی۔‘‘(الأنعام 84 - 86)

یہ آیات نص صریح ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام ابراہیم یا نوح علیہما السلام کی ذریت میں سے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ: وَمِن ذُرِّيَّتِهِ میں ضمیر بعض کے نزدیک نوح علیہ السلام کی طرف لوٹتی ہے کیونکہ آپ قریب تر مذکور ہیں، اور بعض کے نزدیک ابراہیم علیہ السلام کی طرف، کیونکہ آیات آپ ہی کے بارے میں ہیں۔

ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’عیسیٰ علیہ السلام کا ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں یا دوسرے قول کے مطابق نوح علیہ السلام کی ذریت میں ذکر ہونا اس بات پر دلیل ہے کہ بیٹیوں کے بیٹے بھی مردوں کی ذریت اور نسل میں شمار ہوتے ہیں۔ کیونکہ عیسیٰ علیہ السلام تو صرف اپنی ماں مریم علیہا السلام کے واسطے سے ابراہیم علیہ السلام کی نسل میں شامل ہوتے ہیں، کیونکہ عیسیٰ علیہ السلام کے والد نہیں تھے۔
ابن ابی حاتم نے ابو حرب بن ابو الاسود سے روایت کیا کہ حجاج نے یحییٰ بن یعمر کو بلایا اور کہا: مجھے خبر ملی ہے کہ تم کہتے ہو کہ حسن اور حسین نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی ذریت میں سے ہیں، اور تمہارا دعوی ہے کہ یہ چیز تمہیں قرآن مجید میں ملی ہے، حالانکہ میں نے قرآن کریم کو شروع سے آخر تک پڑھا مگر مجھے تو ایسی کوئی بات نہیں ملی؟ یحییٰ بن یعمر رحمہ اللہ نے کہا: کیا تم سورت الانعام نہیں پڑھتے: انہوں نے تلاوت شروع کی : وَمِنْ ذُرِّيَّتِهِ دَاوُودَ وَسُلَيْمَانَ اور پڑھتے پڑھتے : وَيَحْيَى وَعِيسَى تک پہنچ گئے ۔ اس پر حجاج نے کہا: ہاں بالکل ٹھیک ان آیات کو میں نے پڑھا ہے۔ تو یحییٰ بن یعمر رحمہ اللہ نے کہا: کیا عیسیٰ؛ ابراہیم کی ذریت میں سے نہیں، حالانکہ ان کا کوئی باپ نہیں تھا؟ اس پر حجاج نے کہا: تم نے سچ کہا۔
پس اسی لیے اگر کوئی شخص اپنی ذریت کے لیے وصیت کرے، یا اپنی ذریت پر وقف کرے، یا انہیں کچھ ہبہ کرے، تو بیٹیوں کی اولاد بھی اس میں داخل ہو گی۔‘‘ ختم شد
تفسیر ابن کثیر (3/298)

مزید یہ بھی دلیل ہے کہ آدم علیہ السلام تمام انسانوں کے والد ہیں، اور عیسیٰ علیہ السلام بھی انسان ہیں۔

حدیث شفاعت میں آتا ہے:
’’قیامت کے دن مومنوں کو روک لیا جائے گا، حتی کہ وہ سخت پریشانی محسوس کریں گے، پھر وہ کہیں گے: کیوں نہ ہم اپنے رب کے ہاں سفارش کریں تاکہ وہ ہمیں اس جگہ سے راحت دے؟ پھر وہ آدم کے پاس آئیں گے اور کہیں گے: آپ آدم ہیں، تمام انسانوں کے والد ہیں۔۔۔‘‘ (بخاری 7440)
اور ایک اور روایت میں ہے: ’’آپ آدم ہیں، اور ساری انسانیت کے والد ہیں۔۔۔‘‘ (بخاری 7516)

دوم:
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: إِنَّ مَثَلَ عِيسَىٰ عِندَ اللَّهِ كَمَثَلِ آدَمَ خَلَقَهُ مِن تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهُ كُن فَيَكُونُ
ترجمہ:’’بے شک عیسیٰ کی مثال اللہ کے نزدیک آدم کی طرح ہے، اللہ نے اسے مٹی سے پیدا کیا، پھر اس سے کہا کہ ہو جا، تو وہ ہو گیا۔‘‘(آل عمران 59)

اس آیت کا مقصد کفار پر حجت قائم کرنا ہے جو یہ دعویٰ کرتے تھے کہ عیسیٰ اللہ کے بیٹے ہیں کیونکہ وہ بغیر والد کے پیدا ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر واضح فرما دیا کہ ان کا بغیر والد کے پیدا ہونا تو اللہ کی ربوبیت، قدرت اور وحدانیت کی نشانی ہے، جیسے کہ اللہ نے آدم کو بغیر ماں باپ کے پیدا کیا۔

ابن کثیر رحمہ اللہ کہتے ہیں:
’’فرمانِ باری تعالی ہے: إِنَّ مَثَلَ عِيسَىٰ عِندَ اللَّهِ یعنی عیسیٰ علیہ السلام کی مثال اللہ کے نزدیک آدم کی مثال کی طرح ہے، یعنی اللہ نے اپنی قدرت سے انہیں بغیر والد کے پیدا کیا، جیسے آدم کو بغیر والدین کے پیدا کیا ، بلکہ مٹی سے پیدا کیا، پھر کہا ’ہو جا‘ تو وہ ہو گیا۔ اور جس نے آدم کو پیدا کیا، وہ عیسیٰ کو پیدا کرنے پر بدرجہ اولیٰ قادر ہے۔ اگر عیسیٰ کو بغیر والد کے پیدا ہونے کی وجہ سے بیٹا ماننا درست ہو، تو آدم کو اس سے بھی زیادہ بیٹا ماننا لازم آتا، حالانکہ یہ سب کو معلوم ہے کہ یہ بالاتفاق باطل نظریہ ہے۔ تو پھر عیسیٰ کے بارے میں یہ دعویٰ اور بھی زیادہ باطل اور فاسد ہے۔ بلکہ اللہ عزوجل نے اپنی مخلوق پر اپنی قدرت ظاہر کرنا چاہی کہ آدم کو نہ مرد سے پیدا کیا نہ عورت سے، حوا کو مرد سے بغیر عورت کے پیدا کیا، عیسیٰ کو عورت سے بغیر مرد کے پیدا کیا، اور باقی تمام مخلوق کو مرد و عورت دونوں سے پیدا کیا۔ اسی لیے سورہ مریم میں فرمایا: وَلِنَجْعَلَهُ آيَةً لِلنَّاسِ  ترجمہ: ’’اور تاکہ ہم اسے لوگوں کے لیے نشانی بنا دیں۔‘‘ (مریم 21) ‘‘ ختم شد
تفسیر ابن کثیر (2/49)

اس بارے میں مزید کے لیے آپ سوال نمبر: (10277) کا جواب ملاحظہ کریں۔

واللہ اعلم

حوالہ جات

ماخذ

الاسلام سوال و جواب

answer

متعلقہ جوابات

at email

ایمیل خبرنامہ

اسلام سوال و جواب کی میلنگ لسٹ میں شامل ہوں

phone

اسلام سوال و جواب ایپ

مواد تک فوری رسائی اور آف لائن مطالعہ کے لیے

download iosdownload android