کیا بھائیوں اور دوستوں کے ساتھ مذاق میں گالی دینا اور مار پیٹ کرنا جائز ہے؟

سوال 243327

میں نے آپ کے ایک فتویٰ میں پڑھا ہے کہ گھر کے افراد کے درمیان ہلکی پھلکی مار (اگر تکلیف نہ دے) جائز ہے۔ تو میرے دو سوال ہیں:

پہلا سوال:
کیا گھر والوں کے درمیان، خصوصاً بھائیوں کے مابین، مذاق میں گالی دینا اور برے الفاظ کہنا جائز ہے؟
مثلاً یہ کہنا: ’تم پاگل ہو‘، ’تم منگول ہو‘، یا اس سے بھی زیادہ برے الفاظ جیسے ’کتا‘، ’گدھا‘، یا ’نکل یہاں سے‘ اگر یہ سب مذاق کے طور پر کہا جائے تو کیا اس کی اجازت ہے؟

دوسرا سوال:
میرے دوستوں کے درمیان اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہم آپس میں مذاق کرتے ہیں، کبھی ہنسی مذاق لڑنے جھگڑنے کی طرح کرتے ہیں، یا کشتی لڑتے ہیں، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانے میں بھی مباح تھا۔ کبھی ہاتھ سے، پاؤں سے یا سر سے ہلکا سا ضرب لگاتے ہیں، لیکن یہ سب مذاق میں ہوتا ہے۔ تو کیا اس طرح کا مذاق جائز ہے؟ اور اگر جائز ہے تو کیا اس کے کچھ شرعی ضوابط بھی ہیں؟ اور کیا اس بارے میں علماء کے اقوال بھی موجود ہیں؟

جواب کا متن

ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالی کے لیے، اور دورو و سلام ہوں اللہ کے رسول پر، بعد ازاں:

اول:

مسلمان کا اپنی زندگی گزارنے کا طریقہ ایسا ہونا چاہیے کہ وہ ہمیشہ کوشش، محنت اور نیکیوں کے اضافے میں مصروف رہے، اور آخرت کی تیاری کے لیے اپنے اوقات کو غنیمت سمجھے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَسَارِعُوا إِلَى مَغْفِرَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ
ترجمہ:’’اور اپنے رب کی مغفرت اور اس جنت کی جانب دوڑ پڑو جس کی چوڑائی آسمانوں اور زمین کے برابر ہے، جو متقین کے لیے تیار کی گئی ہے۔‘‘ (آلِ عمران: 133)

اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے کندھے کو پکڑا اور فرمایا: (دنیا میں ایسے رہو جیسے کوئی اجنبی ہو یا راہ گزرنے والا مسافر۔) اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کہا کرتے تھے: (جب شام ہو جائے تو صبح کا انتظار نہ کرو، اور جب صبح ہو جائے تو شام کا انتظار نہ کرو۔ اپنی صحت سے اپنے مرض کے لیے، اور اپنی زندگی سے اپنی موت کے لیے تیاری کر لو۔)‘‘ اسے بخاری (6416)نے روایت کیا ہے ۔

لیکن یہ جدوجہد اور سنجیدگی اس بات کی نفی نہیں کرتی کہ انسان کبھی کبھار مناسب انداز میں مزاح بھی کرے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم خود بھی کبھی کبھی اپنے صحابہ سے مزاح فرما لیا کرتے تھے۔

چنانچہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: ’’صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ تو ہم سے مذاق بھی کرتے ہیں۔ تو آپ نے فرمایا: (میں مذاق بھی کرتا ہوں، مگر سچ کے علاوہ کچھ نہیں کہتا۔)‘‘ اسے ترمذی نے روایت کیا ہے (1990)، اور اسے حسن صحیح کہا، نیز علامہ البانی نے ’’السلسلۃ الصحیحۃ‘‘ (4/304) میں اسے صحیح قرار دیا۔

اسی طرح ایک اور روایت میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (میں مزاح بھی کرتا ہوں، لیکن حق کے سوا کچھ نہیں کہتا۔) اسے طبرانی نے ’’المعجم الأوسط‘‘ (1/298) میں روایت کیا، اور علامہ البانی نے اسے ’’صحیح الجامع الصغیر‘‘ (1/489) میں صحیح کہا ہے۔

اور تاکہ مزاح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مزاح کی طرح ہو—جو سنجیدگی کے منافی نہیں بلکہ اس کی تکمیل کا باعث ہے—مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنے مزاح سے دو میں سے ایک مقصد حاصل کرے:

یا تو ساتھیوں اور بھائیوں کو مانوس کرنا مقصود ہو تاکہ محبت بڑھے اور تعلق مضبوط ہو؛ یا پھر مسلسل محنت کے بعد طبیعت کی تھکاوٹ دور کرنا، تاکہ آئندہ کے کاموں کے لیے دل و دماغ تازہ ہو جائیں، بیزاری اور اکتاہٹ دور ہو جائے۔

جیسے کہ علامہ ماوردی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’عاقل شخص کو چاہیے کہ اس کا مزاح دو حالتوں میں سے کسی ایک کے لیے ہو، ان کے بعد تیسرا کوئی مقصد نہ ہو:

پہلی حالت: ساتھیوں کو خوش کرنے اور ملنے جلنے والوں سے محبت بڑھانے کے لیے۔ اور یہ اچھے الفاظ اور پسندیدہ طرزِ عمل سے ہوتا ہے۔

سعید بن العاص نے اپنے بیٹے سے کہا تھا:
مزاح میں میانہ روی اختیار کرو؛ اس میں زیادتی تمہاری وقار کو کم کرتی ہے اور بے وقوفوں کو تم پر دلیر بنا دیتی ہے، اور اس میں کمی لوگوں کو تم سے دور کر دیتی ہے اور تمہارے ساتھیوں میں اجنبیت پیدا کر دیتی ہے۔

دوسری حالت: انسان اپنے دل پر طاری ہونے والی تھکاوٹ یا کسی غم کو دور کرنا چاہے۔ چنانچہ کہا جاتا ہے: ’’دل میں جو ہے اسے نکال کر ہلکا کرنا ضروری ہوتا ہے۔‘‘
اور ابو الفتح البستی کا شعر ہے:

أَفْدِ طَبْعَك الْمَكْدُودَ بِالْجِدِّ رَاحَةً ... يُجَمُّ ، وَعَلِّلْهُ بِشَيْءٍ مِنَ الْمَزْحِ
ولَكِنْ إذَا أَعْطَيْتَهُ الْمَزْحَ فَلْيَكُنْ ... بِمِقْدَارِ مَا تُعْطِي الطَّعَامَ مِنَ الْمِلْحِ

ترجمہ: ’’اپنی تھکی ہوئی طبیعت کو محنت کے بعد کچھ راحت دو تاکہ وہ تازہ ہو جائے، اور اسے تھوڑے سے مزاح سے بھی خوش رکھو۔
لیکن جب اسے مزاح دو تو اتنا ہی دو، جتنا کھانے میں نمک ڈالا جاتا ہے۔‘‘
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کا مزاح بھی اسی طریقے کا ہوتا تھا۔‘‘
ماخوذ از: ’’أدب الدنیا والدین‘‘ (ص 319)

پس خلاصہ یہ ہے:
مسلمان کا مزاح کسی نیک مقصد کے لیے ہونا چاہیے، نہ کہ فضول مشغلے اور وقت ضائع کرنے کے انداز میں۔
اور ایسا مزاح ہونا چاہیے جس میں جھوٹ نہ ہو، جیسا کہ ابو ہریرہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کی احادیث اس پر دلالت کرتی ہیں۔

دوم:

آپ نے جس قسم کے الفاظ کے ساتھ مزاح کا ذکر کیا ہے، اس طرح کا مزاح جائز نہیں، بلکہ اس سے روکا گیا ہے، اس کی چند وجوہات ہیں:

1۔ اس میں اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی مخالفت ہے کہ بات ہمیشہ اچھے انداز میں کی جائے اور ایک دوسرے کو برے ناموں سے نہ پکارا جائے۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَإِذْ أَخَذْنَا مِيثَاقَ بَنِي إِسْرَائِيلَ لَا تَعْبُدُونَ إِلَّا اللَّهَ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ ثُمَّ تَوَلَّيْتُمْ إِلَّا قَلِيلًا مِنْكُمْ وَأَنْتُمْ مُعْرِضُونَ
ترجمہ: ’’اور جب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو، والدین کے ساتھ نیکی کرو، اور رشتے داروں، یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ بھی، اور لوگوں سے اچھی بات کہو، اور نماز قائم کرو اور زکاۃ دو۔ پھر تم میں سے کم ہی لوگ تھے جنہوں نے اس پر عمل کیا، اور تم منہ موڑنے والے تھے۔‘‘ (البقرۃ: 83)

اور فرمایا:
يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ عَسَى أَنْ يَكُونُوا خَيْرًا مِنْهُمْ وَلَا نِسَاءٌ مِنْ نِسَاءٍ عَسَى أَنْ يَكُنَّ خَيْرًا مِنْهُنَّ وَلَا تَلْمِزُوا أَنْفُسَكُمْ وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوقُ بَعْدَ الْإِيمَانِ وَمَنْ لَمْ يَتُبْ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ
ترجمہ: ’’اے ایمان والو! کوئی قوم دوسری قوم کا مذاق نہ اڑائے، ممکن ہے وہ ان سے بہتر ہوں، اور نہ عورتیں عورتوں کا مذاق اڑائیں، ممکن ہے وہ ان سے بہتر ہوں۔ اور ایک دوسرے پر طعن نہ کرو اور نہ برے نام رکھو۔ ایمان لانے کے بعد فسق کا نام بہت برا ہے، اور جو توبہ نہ کرے، وہی ظالم ہیں۔‘‘ (الحجرات: 11)

2۔ ایسے بے ہودہ الفاظ شیطان کی دخل اندازی کا ذریعہ بنتے ہیں ؛ پھر شیطان انہی کے ذریعے  مسلمانوں کے درمیان دشمنی اور بغض ڈالتا ہے۔
جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَقُلْ لِعِبَادِي يَقُولُوا الَّتِي هِيَ أَحْسَنُ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَنْزَغُ بَيْنَهُمْ إِنَّ الشَّيْطَانَ كَانَ لِلْإِنْسَانِ عَدُوًّا مُبِينًا
ترجمہ: ’’اور میرے بندوں سے کہہ دو کہ وہ بات وہی کہیں جو بہترین ہو۔ بے شک شیطان ان کے درمیان فساد ڈالتا ہے، اور شیطان تو انسان کا کھلا دشمن ہے۔‘‘ (الإسراء: 53)

3۔ یہ الفاظ صریح ایذا رسانی، گالی اور برا بھلا کہنا ہے؛ اس لیے جائز نہیں، خواہ دوسرا شخص اس پر راضی ہی کیوں نہ ہو۔

4۔ ایسے بے ہودہ اور گندے الفاظ زبان پر لانا اور انہیں معمول بنا لینا، مؤمن کے آداب اور ایمان کے اعلیٰ اوصاف کے خلاف ہے، جنہیں اللہ اپنے بندوں میں پسند کرتا ہے۔

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: )مؤمن نہ طعن کرنے والا ہوتا ہے، نہ لعنت کرنے والا، نہ فحش گو اور نہ بد زبان۔) اسے ترمذی (1977)نے روایت کیا ہے ، اور انہوں نے کہا: ’’یہ حدیث حسن غریب ہے۔‘‘
اور علامہ البانی نے اسے ’’سلسلہ صحیحہ‘‘ (1/634) میں صحیح قرار دیا۔

سوم:

بھائیوں اور دوستوں کے ساتھ جسمانی انداز میں مزاح کرنا—جیسے ہاتھ سے ہلکا سا ضرب لگانا، سر سے ٹکر دینا، کشتی لڑنا یا اسی طرح کے دیگر افعال:

  • اگر یہ مزاح اس انداز میں ہو جو عام طور پر تکلیف دہ نہ ہو، اس میں کوئی بے ادبی نہ پائی جاتی ہو، دوسرا فریق بھی اس پر راضی ہو، اور یہ مزاح کبھی کبھار مناسب وقت میں کیا جائے، تو ایسی صورت میں اس طرح کے مزاح میں کوئی حرج نظر نہیں آتا۔
    صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں ہے کہ: ’’وہ آپس میں تربوز پھینک کر کھیلتے تھے، لیکن جب سنجیدہ امور کا وقت آتا تو وہی لوگ مردانگی کا ثبوت دیتے تھے۔‘‘
    اسے امام بخاری نے ’’الأدب المفرد‘‘ میں روایت کیا ہے اور علامہ البانی نے ’’سلسلۃ الأحاديث الصحیحۃ‘‘ (435) میں صحیح قرار دیا ہے۔

البتہ ضروری ہے کہ اس قسم کے مزاح کے لیے مناسب وقت اور مناسب حالت کا انتخاب کیا جائے، تاکہ معاملہ دشمنی اور جھگڑے میں تبدیل نہ ہو جائے۔

سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: ’’مزاح سنت ہے، لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ انسان اسے اچھے طریقے سے کرے اور صحیح موقع پر کرے۔‘‘

  • لیکن اگر اس طرح کا جسمانی مزاح عام طور پر تکلیف دینے والا ہو، یا اس میں کسی قسم کی توہین پائی جاتی ہو، تو ایسی صورت میں یہ مزاح جائز نہیں۔

اس کی چند وجہیں ہیں:

1۔ اس میں صریح ایذا رسانی اور دوسرے کو نقصان پہنچانا شامل ہے، اور بلا وجہ لوگوں کو تکلیف دینا جائز نہیں۔ مزاح کی یہ قسم محبت اور احترام بڑھانے کے بجائے وقار کو ختم کرتی ہے، چھوٹوں کو بڑوں پر دلیر کرتی ہے، اور ایسے شخص میں جرأت پیدا کرتی ہے جو حد سے بڑھ جائے۔ حالانکہ مسلمان وہ ہے ’’جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔‘‘
چنانچہ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔) اسے بخاری (10) اور مسلم (40) نے روایت کیا ہے۔

2۔ اس طرح کا مزاح کبھی کبھی ایسے حادثات کا سبب بن جاتا ہے جن کی تلافی ممکن نہیں ہوتی۔
کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ یہ مزاح اس وقت ہو جب دوسرا شخص ذہنی طور پر پریشان یا بد مزاج ہو، تو ہنسی مذاق اچانک لڑائی، جھگڑے اور دشمنی میں بدل جاتا ہے—جیسا کہ اکثر دیکھا بھی جاتا ہے۔

چنانچہ خلاصہ یہ ہے کہ:

اس طرح کا جسمانی مزاح نقصان دہ ہے، مفاسد کا باعث بنتا ہے، اور اس میں کوئی شرعی فائدہ نہیں؛ لہٰذا یہ ممنوع امور میں سے ہے۔

مزید رہنمائی کے لیے سوال نمبر : (22170) کا جواب ملاحظہ کریں، اس میں مزاح کے شرعی آداب و ضوابط ذکر کیے گئے ہیں۔

واللہ اعلم

حوالہ جات

آداب

ماخذ

الاسلام سوال و جواب

Previous
آگے
answer

متعلقہ جوابات

at email

ایمیل خبرنامہ

اسلام سوال و جواب کی میلنگ لسٹ میں شامل ہوں

phone

اسلام سوال و جواب ایپ

مواد تک فوری رسائی اور آف لائن مطالعہ کے لیے

download iosdownload android