بدھ 23 شوال 1440 - 26 جون 2019
اردو

مختلف تہواروں پر قائم کی جانے والی خود ساختہ سیل لگانے کا حکم

244315

تاریخ اشاعت : 16-03-2018

مشاہدات : 393

سوال

مصنوعات کی ٹیلیفون پر فروختگی کے لیے کسی بھی صارف کو قائل کرتے ہوئے یہ کہنا کہ : فلاں چیز کی قیمت ویسے تو 50 ہے لیکن عید یا کسی اور تہوار کی مناسبت سے اس کا ریٹ کم کر کے 30 کر دیا گیا ہے، حالانکہ اس کی اصل قیمت 30 ہی ہوتی ہے تو ایسا کرنا حلال ہے یا حرام؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

خریدار اور گاہک کو  دھوکا دیتے ہوئے یہ کہنا کہ اس چیز کی قیمت 50 ہے لیکن عید وغیرہ کی مناسبت سے اس کا ریٹ 30 کر دیا گیا ہے؛ حالانکہ اس کی قیمت میں کوئی کمی نہیں کی گئی ہوتی تو یہ واضح جھوٹ ہے۔

اور جھوٹ بولنا حرام ہے، جبکہ خرید و فروخت میں جھوٹ بولنا  زیادہ سنگین عمل ہے، بلکہ جھوٹ بولنے کی وجہ سے دکاندار کو جو فائدہ ہوتا ہے اس میں کوئی خیر نہیں ہوتی، بلکہ  اس کا دکاندار کو نقصان ہوتا ہے، بسا اوقات نقصان کا اسے احساس ہو جاتا ہے اور کبھی احساس بھی نہیں ہوتا کہ یہ نقصان میرے جھوٹ بولنے کی وجہ سے ہوا ہے۔

اگر خرید و فروخت کے دوران جھوٹ بولنے کی ممانعت کے لیے صرف اتنا ہی ہوتا کہ اس سے تجارت میں برکت ختم ہو جاتی ہے تو یہی کافی تھا۔

چنانچہ حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (بائع اور مشتری دونوں جب تک الگ نہیں ہو جاتے انہیں [بیع مکمل یا فسخ کرنے کا] مکمل اختیار ہے، اگر بائع اور مشتری دونوں سچ بولیں اور [بائع چیز کے بارے میں جبکہ خریدار قیمت  کے عیوب] واضح کر دیں تو ان کی تجارت میں برکت ڈال دی جاتی ہے، اور اگر وہ عیوب چھپائیں اور  جھوٹ بولیں تو ان کی تجارت میں سے برکت مٹا دی جاتی ہے) بخاری: (1973) مسلم: (1532)

اس لیے سچ بولنا اور ہر چیز واضح کر دینا روزی اور دولت میں برکت کا یقینی  ذریعہ ہے، جبکہ جھوٹ بولنا اور بات کھول کر  نہ کرنا اور چھپانا  برکت کے لیے زہر قاتل اور نقصان کا باعث ہے۔

اگر خریدار خود اس چیز کو اپنے لیے پسند نہیں کرتا تو وہ اپنے دیگر مسلمان بھائیوں کے لیے ایسی حرکت کو پسند کیوں کرتا ہے؟! یہ اس کے ناقص الایمان ہونے کی علامت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان ہے: (تم میں سے کوئی بھی [کامل] ایمان والا اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے وہی کچھ پسند نہ کرے جو اپنے لیے کرتا ہے۔)  بخاری: (13) مسلم: (45)

ایسے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان ہے: (جس شخص کو یہ بات اچھی لگتی ہے کہ وہ جہنم سے بچا لیا جائے اور جنت میں داخل کر دیا جائے، تو اسے موت اس حالت میں آئے کہ وہ اللہ  اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، نیز لوگوں سے ایسا برتاؤ کرے جیسا کہ وہ لوگوں سے امید کرتا ہے کہ اس سے پیش آئیں۔) مسلم: (1844)

اس لیے ایسی حرکتوں سے باز رہا چاہیے؛ کیونکہ اللہ تعالی کی پکڑ اس کی تاک میں ہے۔

واللہ اعلم.

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں