اول:
ناخن تراشنا فطری سنتوں میں سے ہے، جیسا کہ صحیح بخاری (5889) اور صحیح مسلم (257) میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (فطرت پانچ چیزیں ہیں یا فرمایا کہ: پانچ چیزیں فطرت میں سے ہیں: ختنہ کرنا، زیر ناف بال مونڈنا، بغل کے بال اکھاڑنا، ناخن تراشنا اور مونچھیں کترنا۔)
مزید فائدے کے لیے سوال نمبر (114810) کا جواب بھی ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔
دوم:
ناخن تراشتے وقت انہیں بالکل جڑ سے کاٹنا شرط نہیں ہے، بلکہ مطلوب یہ ہے کہ ناخن کا وہ حصہ ہٹا دیا جائے جو انگلی کے سرے سے بڑھا ہوا ہو، کیونکہ اسی کے نیچے میل کچیل جمع ہوتا ہے۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں:
’’اس سے مراد یہ ہے کہ ناخن کا وہ زائد حصہ ہٹا دیا جائے جو انگلی کے سرے سے آگے بڑھا ہوا ہو، کیونکہ اس میں میل جمع ہوتا ہے اور وہ ناپسندیدہ ہوتا ہے، بلکہ بعض اوقات یہ اس حد تک پہنچ جاتا ہے کہ طہارت میں جن اعضا کو دھونا ضروری ہے ان تک پانی پہنچنے سے بھی مانع بن جاتا ہے… اور مستحب یہ ہے کہ انہیں اچھی طرح کاٹا جائے، لیکن اس حد تک کہ انگلی کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: فتح الباری: (10/345(
علامہ مناوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’(ناخن تراشنا) کا لفظ قَلْم (کاٹنے) سے نکلا ہے، اور اس سے مراد یہ ہے کہ ناخن کا وہ حصہ ہٹایا جائے جو انگلی کے سرے سے بڑھا ہوا ہو، کیونکہ اسی میں میل جمع ہوتا ہے۔
ابن العربی کہتے ہیں: ناخن کاٹنا بالاجماع سنت ہے، اور ہم کسی کو نہیں جانتے جو اسے بذاتِ خود واجب قرار دیتا ہو، البتہ اگر ناخن میں موجود میل پانی کو جلد تک پہنچنے سے روک دے تو طہارت کے لیے اس کا ہٹانا واجب ہو جاتا ہے۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: فیض القدیر: (3/455)
سوم:
مسلمان کے لیے مناسب یہ ہے کہ جب بھی ناخن بڑھ جائیں تو وہ انہیں کاٹنے کا اہتمام کرتا رہے، کیونکہ ناخن کاٹنا فطری سنتوں میں سے ہے، اور یہ صفائی کی تکمیل اور اس کے حسن کا بھی حصہ ہے۔
علامہ عراقی رحمہ اللہ ’’طرح التثریب‘‘ (2/83) میں فرماتے ہیں:
’’صاحب المفہم کہتے ہیں: مستحب یہ ہے کہ جمعہ سے جمعہ تک اس کا جائزہ لیا جائے (یعنی ناخنوں کو دیکھا جائے)، اور اگر ایسا نہ کیا جائے تو اس کے لیے علماء کے نزدیک کوئی متعین حد نہیں ہے، البتہ جب یہ (ناخن) زیادہ بڑھ جائیں تو انہیں تراش دیا جائے۔ اسی طرح امام نووی رحمہ اللہ نے شرح مسلم میں فرمایا: راجح بات یہ ہے کہ اس کا اعتبار ضرورت اور ناخن کے بڑھنے کے مطابق کیا جائے۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: الآداب الشرعية لابن مفلح: ( 3/328-330)
لیکن اگر کوئی شخص ناخنوں کی دیکھ بھال چھوڑ دے یا کچھ عرصہ تک انہیں نہ کاٹے، تو مناسب یہ ہے کہ یہ مدت بہت زیادہ طویل نہ ہو، اور اس کی زیادہ سے زیادہ حد چالیس دن ہے۔
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: (ہمیں مونچھیں کترنے، ناخن تراشنے، بغل کے بال اکھاڑنے اور زیر ناف بال مونڈنے کے بارے میں یہ وقت مقرر کیا گیا کہ ہم چالیس راتوں سے زیادہ انہیں نہ چھوڑیں۔) صحیح مسلم (258)
امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’اس کا مطلب یہ ہے کہ انہیں چالیس دن سے زیادہ نہ چھوڑا جائے، البتہ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انہیں چالیس دن تک چھوڑنا ہے۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: شرح مسلم:( 3/149)
واللہ اعلم