مذی نجس ہے اور اس کے خارج ہونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ اس کی دلیل سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں: ’’مجھے کثرت سے مذی آتی تھی، اس لیے میں بار بار غسل کرتا، حتیٰ کہ میری کمر کی جلد پھٹنے لگی ۔ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا، یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس کا ذکر کیا گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (ایسا نہ کرو۔ جب تم مذی دیکھو تو اپنی شرم گاہ دھو لو اور نماز کے لیے وضو کر لو۔)‘‘ اسے ابو داود: (206) نے روایت کیا ہے، اور شیخ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔
اسی طرح سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
’’مجھے مذی کے باعث بہت مشقت اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا تھا، اس لیے میں کثرت سے غسل کیا کرتا تھا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا اور اس کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اس سلسلے میں تمہارے لیے صرف وضو کافی ہے۔) میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے کپڑے پر لگنے والی مذی کا کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (تمہارے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ ایک چلو پانی لے کر کپڑے کی اس جگہ پر چھڑک دو جہاں تمہیں مذی لگنے کا گمان ہو۔)‘‘ اسے ابو داود: (210) اور ترمذی: (115) نے روایت کیا ہے، اور شیخ البانی رحمہ اللہ نے ’’صحیح ابو داود‘‘ میں اسے حسن قرار دیا ہے۔
علمائے کرام نے ان احادیث سے مذی کے نجس ہونے پر استدلال کیا ہے۔ اس سلسلے میں ابن حجر رحمہ اللہ کی ’’فتح الباری‘‘: (1؍381)، ’’عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری‘‘: (3؍220)، ’’سبل السلام‘‘: (1؍93) اور امام نووی رحمہ اللہ کی ’’المجموع‘‘: (2؍164) ملاحظہ کریں۔
ان احادیث سے مذی کے نجس ہونے پر استدلال بالکل واضح ہے؛ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شرم گاہ دھونے اور کپڑے پر لگنے والی مذی کی جگہ پانی چھڑکنے کا حکم دیا ہے، اور یہ اس کے نجس ہونے کی دلیل ہے۔
نیز مذی کے نجس ہونے پر علمائے کرام کا اجماع ہے۔
امام نووی رحمہ اللہ ’’المجموع‘‘: (2؍571) میں فرماتے ہیں:
’’امت کا مذی کے نجس ہونے پر اجماع ہے۔‘‘
البتہ بعض شیعہ نے شاذ موقف اختیار کرتے ہوئے احادیث اور اجماع کی مخالفت کی ہے۔
امام شوکانی رحمہ اللہ ’’نیل الاوطار‘‘: (1؍73) میں لکھتے ہیں:
’’علمائے کرام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ مذی نجس ہے۔ اس مسئلے میں صرف بعض امامیہ نے اختلاف کیا ہے۔ ان کا استدلال یہ ہے کہ پانی چھڑکنے سے مذی زائل نہیں ہوتی، اور اگر وہ نجس ہوتی تو اسے زائل کرنا واجب ہوتا۔
لیکن اس استدلال کی بنیاد پر انہیں انسانی پاخانے کو بھی پاک قرار دینا پڑے گا؛ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جوتے کو زمین پر رگڑ کر اس سے نجاست صاف کرنے اور پھر اسی جوتے میں نماز پڑھنے کا حکم دیا ہے، حالاں کہ رگڑنے سے نجاست زائل نہیں ہوتی، اور انسانی پاخانے کو پاک قرار دینا بالاتفاق باطل ہے۔
اہلِ علم کے درمیان اس کپڑے کے حکم میں اختلاف ہے جسے مذی لگ جائے۔ امام شافعی، امام اسحاق اور دیگر اہلِ علم کا کہنا ہے کہ کپڑے کو دھونا ہی کافی ہوگا؛ کیونکہ انہوں نے دھونے کا حکم دینے والی روایت کو اختیار کیا ہے۔ تاہم دھونے کی روایت دراصل شرم گاہ کے بارے میں ہے، نہ کہ اس کپڑے کے بارے میں جو یہاں اختلاف کا محل ہے۔ نیز اس باب میں مذکور پانی چھڑکنے والی روایت کے مقابلے میں کوئی دوسری روایت موجود نہیں؛ لہٰذا کپڑے پر پانی چھڑکنے کو کافی سمجھنا صحیح اور کفایت کرنے والا موقف ہے۔‘‘ ختم شد
اور ایسا کپڑا جسے پیشاب یا کوئی اور نجاست لگ جائے، تو اگرچہ نجاست والی جگہ خشک ہو چکی ہو، پھر بھی اسے دھو کر پاک کیے بغیر اس کپڑے میں نماز ادا کرنا جائز نہیں۔ اس مسئلے کے دلائل سوال نمبر: (195117) میں پہلے بیان کیے جا چکے ہیں۔
واللہ اعلم