صارفین کو کریڈٹ کارڈ پہنچانے کی ملازمت کا حکم

سوال: 247365

میں ایک کمپنی میں ملازمت شروع کرنے جا رہا ہوں جو کورئیر اور شپنگ کا کام کرتی ہے۔ میرا کام یہ ہو گا کہ میں گاہکوں سے رابطہ کروں، ان سے وقت اور پتا لوں تاکہ کمپنی کا نمائندہ ان تک پارسل پہنچا سکے۔ یہ پارسل ’’ویزا کارڈ‘‘ یا ’’خریداری کا کارڈ‘‘ ہوتا ہے جو بینک کی طرف سے بھیجا جاتا ہے۔ یعنی کورئیر کمپنی بینک اور گاہک کے درمیان واسطہ بنتی ہے تاکہ انہیں کریڈٹ کارڈ پہنچا سکے۔ میرے علم کے مطابق ان کارڈز پر بینک کی طرف سے سود یا منافع ہوتا ہے۔ تاہم یہ کارڈ تنخواہ وصول کرنے، پیسے جمع کرنے یا خریداری کرنے کے لیے بھی استعمال ہوتے ہیں۔ آج کل بہت سی کمپنیاں اپنے ملازمین کو تنخواہیں ویزا کارڈ کے ذریعے دیتی ہیں، بینک سے کیش کی صورت میں نہیں۔ اور یہ بینک اکثر اسلامی نہیں ہوتے اور ملازم کے پاس اسلامی بینک کے انتخاب کا اختیار بھی نہیں ہوتا۔ تو میری اس نوکری کا حکم کیا ہو گا؟ یاد رہے کہ میرے پاس بھی ایک ویزا کارڈ ہے جس میں میں اپنا پیسہ جمع کرتا ہوں، لیکن جو بھی سود یا منافع آتا ہے، وہ میں بینک میں ہی چھوڑ دیتا ہوں اور نہیں لیتا، یعنی میں صرف اپنے مال ہی کو استعمال کرتا ہوں۔

جواب کا متن

ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالی کے لیے، اور دورو و سلام ہوں اللہ کے رسول پر، بعد ازاں:

اول:

مارکیٹ میں رائج کارڈز کی اقسام:

1- غیر مشمول کریڈٹ کارڈ: اس میں بینک کی طرف سے سودی قرض کی سہولت شامل ہوتی ہے، اور اس کا استعمال صرف اس وقت جائز ہے جب اس میں شرعی قباحت نہ ہو، جیسے تاخیر کی صورت میں جرمانہ یا نکالنے اور تجدید پر اصل لاگت سے زائد فیس۔ دیکھیے سوال نمبر: (242973)
2- مشمول کریڈٹ کارڈ: اس میں بینک کی طرف سے قرض کی سہولت نہیں ہوتی، اس کا استعمال جائز ہے چاہے وہ سودی بینک سے لیا گیا ہو، البتہ سودی بینک میں رقم جمع کرانا صرف اس وقت جائز ہے جب اسلامی بینک موجود نہ ہو۔
3- ڈیبٹ کارڈ (فوری کٹوتی والا کارڈ): یہ صرف تنخواہ وصول کرنے یا خریداری کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس میں قرض کی سہولت شامل نہیں، لہذا اس کا استعمال جائز ہے۔ اور جو ملازم سودی بینک کے ذریعے تنخواہ لینے پر مجبور ہو اس پر حرج نہیں، وہ اس کارڈ کا استعمال کر سکتا ہے۔

دوم:
حرام کریڈٹ  کارڈ کے لیے اعانت (مدد) جائز نہیں، چاہے وہ پہنچانے کی شکل میں ہو یا منتقل کرنے کی صورت میں ؛کیونکہ سود یا دیگر گناہوں پر مدد کرنا حرام ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ  (المائدۃ: 2)
ترجمہ: ’’نیکی اور تقویٰ پر ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی پر مدد نہ کرو، اور اللہ سے ڈرو، بیشک اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔‘‘

لہذا اس نوکری کا حکم اسی پر مبنی ہے: اگر کام صرف ان کارڈز کی ترسیل ہے جو حرام قسم کے ہیں تو یہ جائز نہیں۔ اور اگر کام صرف جائز کارڈز تک محدود ہو تو اس میں حرج نہیں۔
اور اگر کورئیر ملازم کو یہ معلوم نہ ہو کہ کارڈ جائز ہے یا ناجائز، اور وہ گاہک تک صرف پہنچا رہا ہے، تو اس پر تحقیق لازم نہیں کہ پہلے دیکھے کہ یہ کارڈ کی کون سی قسم ہے، اور اس صورت میں کورئیر ملازم پر گناہ نہیں ہے چاہے اسے پہنچانے کے لیے صارف سے رابطہ  کرے۔

سوم:
سودی بینک میں پیسہ جمع کرانا جائز نہیں چاہے سود نہ لیا جائے، الا یہ کہ حفاظت کی مجبوری ہو اور اسلامی بینک نہ ملے۔ اس صورت میں صرف کرنٹ اکاؤنٹ کھولنا جائز ہے۔
لہذا بچت یا سودی بینک کے سرمایہ کاری کے اکاؤنٹ میں پیسہ رکھنا کسی صورت میں جائز نہیں۔
اگر پہلے سودی کھاتے میں پیسہ رکھا گیا اور سود ملا تو اسے بینک میں چھوڑنا صحیح نہیں، کیونکہ وہ آپ کے نام پر ہی جمع رہتا ہے۔ بلکہ اسے نکال کر فقراء اور نیکی کے کاموں میں خرچ کرو، لیکن دوبارہ اپنا پیسہ سودی بینک میں مت رکھیں۔

واللہ اعلم

حوالہ جات

ماخذ

الاسلام سوال و جواب

answer

متعلقہ جوابات

at email

ایمیل خبرنامہ

اسلام سوال و جواب کی میلنگ لسٹ میں شامل ہوں

phone

اسلام سوال و جواب ایپ

مواد تک فوری رسائی اور آف لائن مطالعہ کے لیے

download iosdownload android