اول:
مارکیٹ میں رائج کارڈز کی اقسام:
1- غیر مشمول کریڈٹ کارڈ: اس میں بینک کی طرف سے سودی قرض کی سہولت شامل ہوتی ہے، اور اس کا استعمال صرف اس وقت جائز ہے جب اس میں شرعی قباحت نہ ہو، جیسے تاخیر کی صورت میں جرمانہ یا نکالنے اور تجدید پر اصل لاگت سے زائد فیس۔ دیکھیے سوال نمبر: (242973)
2- مشمول کریڈٹ کارڈ: اس میں بینک کی طرف سے قرض کی سہولت نہیں ہوتی، اس کا استعمال جائز ہے چاہے وہ سودی بینک سے لیا گیا ہو، البتہ سودی بینک میں رقم جمع کرانا صرف اس وقت جائز ہے جب اسلامی بینک موجود نہ ہو۔
3- ڈیبٹ کارڈ (فوری کٹوتی والا کارڈ): یہ صرف تنخواہ وصول کرنے یا خریداری کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس میں قرض کی سہولت شامل نہیں، لہذا اس کا استعمال جائز ہے۔ اور جو ملازم سودی بینک کے ذریعے تنخواہ لینے پر مجبور ہو اس پر حرج نہیں، وہ اس کارڈ کا استعمال کر سکتا ہے۔
دوم:
حرام کریڈٹ کارڈ کے لیے اعانت (مدد) جائز نہیں، چاہے وہ پہنچانے کی شکل میں ہو یا منتقل کرنے کی صورت میں ؛کیونکہ سود یا دیگر گناہوں پر مدد کرنا حرام ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ (المائدۃ: 2)
ترجمہ: ’’نیکی اور تقویٰ پر ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی پر مدد نہ کرو، اور اللہ سے ڈرو، بیشک اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔‘‘
لہذا اس نوکری کا حکم اسی پر مبنی ہے: اگر کام صرف ان کارڈز کی ترسیل ہے جو حرام قسم کے ہیں تو یہ جائز نہیں۔ اور اگر کام صرف جائز کارڈز تک محدود ہو تو اس میں حرج نہیں۔
اور اگر کورئیر ملازم کو یہ معلوم نہ ہو کہ کارڈ جائز ہے یا ناجائز، اور وہ گاہک تک صرف پہنچا رہا ہے، تو اس پر تحقیق لازم نہیں کہ پہلے دیکھے کہ یہ کارڈ کی کون سی قسم ہے، اور اس صورت میں کورئیر ملازم پر گناہ نہیں ہے چاہے اسے پہنچانے کے لیے صارف سے رابطہ کرے۔
سوم:
سودی بینک میں پیسہ جمع کرانا جائز نہیں چاہے سود نہ لیا جائے، الا یہ کہ حفاظت کی مجبوری ہو اور اسلامی بینک نہ ملے۔ اس صورت میں صرف کرنٹ اکاؤنٹ کھولنا جائز ہے۔
لہذا بچت یا سودی بینک کے سرمایہ کاری کے اکاؤنٹ میں پیسہ رکھنا کسی صورت میں جائز نہیں۔
اگر پہلے سودی کھاتے میں پیسہ رکھا گیا اور سود ملا تو اسے بینک میں چھوڑنا صحیح نہیں، کیونکہ وہ آپ کے نام پر ہی جمع رہتا ہے۔ بلکہ اسے نکال کر فقراء اور نیکی کے کاموں میں خرچ کرو، لیکن دوبارہ اپنا پیسہ سودی بینک میں مت رکھیں۔
واللہ اعلم