یہ کہنا کہ بندہ اپنی قدرت اور ارادے کے ساتھ حقیقت میں فاعل ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ ہی اس بندے کا، اس بندے کی طاقت اور اس کے ارادے کا خالق ہے یہ اہلِ سنت و جماعت کا موقف ہے۔
چنانچہ علامہ سَفّارینی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’ سلفِ امت، ائمہ کرام اور تقدیر پر ایمان رکھنے والے تمام اہلِ سنت ان سب کا مذہب یہ ہے کہ بندہ اپنے فعل کا واقعۃً اور حقیقۃً فاعل ہے، اور اس کے پاس حقیقی قدرت اور حقیقی استطاعت ہے۔ ‘‘ ختم شد
ماخوذ از: ’’لوامع الأنوار البہیہ‘‘ (1/312)
رہی یہ بات کہ بندہ مجازاً فاعل ہے، تو یہ باطل موقف ہے اور کتاب و سنت کے خلاف ہے، اصل میں یہ جبریہ اور ان کے ہم خیال لوگوں کا عقیدہ ہے۔ اس قول سے بہت سے فاسد اور باطل لوازم لازم آتے ہیں، جو دین میں الحاد اور کفر کے دروازے کھول دیتے ہیں، مثلاً:
1۔ اگر بندہ حقیقت میں فاعل نہ ہو، اور حقیقی فاعل اللہ تعالیٰ ہی ہو، تو لازم آئے گا کہ نماز پڑھنے والا، روزہ رکھنے والا اور عبادت کرنے والا حقیقت میں اللہ ہی ہو، اور اسی طرح زنا کرنے والا، چوری کرنے والا اور قتل کرنے والا بھی اللہ ہی ہو اور یہ اللہ تعالیٰ کی شان میں بہت بڑا ظلم ہے، اللہ تعالیٰ اس سے بہت بلند و برتر ہے۔
2۔ اگر بندہ واقعی فاعل نہ ہو تو اس کو معاصی پر عذاب دینا ظلم ہو گا، اور نیکیوں پر ثواب دینا عبث قرار پائے گا۔
3۔ اگر بندہ حقیقت میں فاعل ہی نہ ہو تو پھر رسولوں کی بعثت، کتابوں کا نازل ہونا، خوش خبری اور ڈرانا؛ سب بے معنی ہو جائیں گے، کیونکہ حقیقت میں نہ کوئی مطیع باقی رہے گا نہ کوئی عاصی!
اور یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ بندہ با اختیار بھی ہو اور پھر کہا جائے کہ وہ محض مجازاً فاعل ہے؟! اس طرح تو اس کی طرف کوئی فعل منسوب ہی نہ رہے گا!
اور اس میں حرج ہی کیا ہے کہ کہا جائے: بندہ اپنی طرف سے حقیقتاً فاعل ہے، مگر اس کا اور اس کی قدرت و ارادے کا خالق اللہ تعالیٰ ہے؟ خالق تو بہرحال اللہ ہی ہے؛ اور جو ہستی کامل سبب کو پیدا کرنے والی ہے، وہی اُس کے نتیجے (مسبَّب) کو بھی پیدا کرنے والی ہے۔
پھر یہ باطل قول ہر عقل رکھنے والا شخص اپنی آنکھوں سے دیکھ کر رد کر سکتا ہے ہم دیکھتے ہیں کہ زید کھاتا پیتا اور نکاح کرتا ہے، تو حقیقت میں یہ کام کون کرتا ہے؟! کیا یہ سب افعال حقیقت میں کسی فاعل کے بغیر ہو رہے ہیں؟! یہ تو اللہ تعالی پر واضح بہتان ہے۔
اور اس بات کا قائل شخص اگر خود زید کے ہاتھوں مار کھا لے، یا وہ اس کی بے عزتی کر دے، تو کیا وہ اسے ملامت کرے گا یا یہ کہے گا کہ تم تو حقیقت میں فاعل ہی نہیں، اس لیے تم پر کوئی گرفت نہیں؟!
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’ بندے حقیقت میں فاعل ہیں، اور اللہ تعالیٰ ان کے افعال کا خالق ہے۔ بندہ خواہ مومن ہو یا کافر، نیک ہو یا بد کار، نماز پڑھنے والا ہو یا روزہ رکھنے والا سبھی اپنے اعمال کی قدرت بھی رکھتے ہیں اور ارادہ بھی، لیکن اللہ ہی ان کا خالق ہے، اور اسی نے ان کی قدرت اور ارادہ بھی پیدا کیا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
لِمَنْ شَاءَ مِنْكُمْ أَنْ يَسْتَقِيمَ * وَمَا تَشَاؤُونَ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ ’’تم میں سے جو سیدھے راستے پر آنا چاہے (وہ آ سکتا ہے)، اور تم کچھ بھی نہیں چاہ سکتے مگر جو اللہ ربّ العالمین چاہے۔‘‘ (سورۃ التکویر: 28–29)
اور تقدیر کے اس درجے کا سب قَدَریہ انکار کرتے ہیں، انہی کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس امت کا مجوسی قرار دیا ہے۔ ‘‘ ختم شد
ماخوذ از: ’’ عقیدہ واسطیہ‘‘
شیخ عبد الرحمن بن سعدی رحمہ اللہ نے ’’التعليق على الواسطية‘‘ (ص 100) میں فرمایا:
’’ یہ بات واضح کرنے کے لیے عرض ہے کہ بندہ جب نماز پڑھتا ہے، روزہ رکھتا ہے، نیک اعمال انجام دیتا ہے، یا کسی معصیت کا ارتکاب کرتا ہے، تو اس نیک عمل اور اس برے عمل کا کرنے والا حقیقت میں وہ خود ہی ہوتا ہے۔
اور یہ اس کا مذکورہ فعل — بلا شبہ — اس کے اپنے اختیار سے صادر ہوتا ہے، اور وہ لازماً اپنے اندر یہ احساس پاتا ہے کہ وہ فعل کرنے یا چھوڑنے پر مجبور نہیں ہے، اور یہ کہ اگر وہ چاہتا تو اسے نہ کرتا۔ اور جیسے یہ بات واقعہ کے اعتبار سے درست ہے، اسی طرح یہی بات ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں صراحت فرمائی ہے، اور اسی پر اس کے رسول نے بھی صراحت فرمائی ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اعمال — خواہ نیک ہوں یا برے — بندوں کی طرف منسوب کیے ہیں، اور خبر دی ہے کہ وہی ان کے کرنے والے ہیں، اور یہ کہ اگر اعمال نیک ہوں تو ان پر بندے قابلِ تعریف ہوتے ہیں اور ان پر ثواب دیے جاتے ہیں، اور اگر اعمال برے ہوں تو وہ قابلِ مذمت ہوتے ہیں اور ان پر سزا دی جاتی ہے۔
پس اس کے ذریعے یہ بات کھل کر واضح ہو گئی اور ثابت ہو گئی کہ اعمال بندوں ہی سے صادر ہوتے ہیں، ان کے اختیار سے صادر ہوتے ہیں، اور یہ کہ وہ چاہیں تو کریں اور چاہیں تو چھوڑ دیں، اور یہ بات عقلی طور پر، حسی طور پر ، شرعی طور پر اور مشاہدے ہر اعتبار سے ثابت ہے۔
اس کے باوجود اگر آپ یہ جاننا چاہو کہ اعمال اسی طرح بندوں سے صادر ہوتے ہیں؛ کیونکہ کوئی اعتراض کرنے والا اعتراض کرے اور کہے: پھر یہ اعمال تقدیر میں کیسے داخل ہیں؟ اور مشیتِ الٰہی کے تحت کیسے ہیں؟
تو اس سے کہا جائے گا: بندوں سے صادر ہونے والے یہ اعمال — نیک ہوں یا برے — آخر کس چیز کے ذریعے واقع ہوئے؟
تو جواب یہ ہو گا کہ یہ ان کی قدرت اور ان کی ارادے کے ذریعے واقع ہوئے ہیں، اور اس بات کا ہر شخص اعتراف کرتا ہے۔
اس کے بعد پھر یہ کہا جائے گا: کیا اللہ تعالیٰ نے بندوں کی قدرت اور ان کی مشیت و ارادے کو پیدا نہیں کیا؟
تو اس کا جواب بھی یہی ہو گا، اور ہر شخص اس کا اعتراف کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی نے ان کی قدرت اور ان کے ارادے کو پیدا کیا ہے، اور وہی ہے جس نے وہ تمام اسباب پیدا کیے جن کے ذریعے افعال واقع ہوتے ہیں، جیسے کہ وہ خود افعال کا بھی خالق ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جو اشکال کو حل کر دیتی ہے، اور جس کے ذریعے بندہ اپنے دل سے تقدیر، قضا اور اختیار کے اجتماع کو سمجھ سکتا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے مؤمنین کو مختلف قسم کے اسباب، لطف و کرم اور اعانتیں عطا فرمائیں، اور ان سے رکاوٹوں کو دور فرما دیا، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:(جو شخص سعادت والوں میں سے ہوتا ہے، اس کے لیے سعادت والوں کے اعمال آسان کر دیے جاتے ہیں)
اور اسی طرح اللہ تعالیٰ نے فاسق لوگوں کو بے سہارا چھوڑ دیا، انہیں ان کے اپنے حال پر چھوڑ دیا، اور ان کی مدد نہ کی، کیونکہ وہ اللہ تعالی پر ایمان نہیں لائے اور نہ ہی اللہ تعالی پر توکل کیا، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اسی کے حوالے کر دیا جسے انہوں نے خود اپنے لیے اختیار کیا۔‘‘ ختم شد
بعض لوگوں پر یہ معاملہ مشتَبہ ہو جاتا ہے اور وہ اس حقیقت کو جمع نہیں کر پاتے کہ بندہ حقیقت میں فاعل بھی ہے اور ساتھ ہی یہ بھی کہ اللہ تعالیٰ بندوں کے افعال کا خالق ہے۔
اس کی وضاحت تین پہلوؤں سے کی جا سکتی ہے، جیسا کہ شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ نے بیان فرمایا ہے، انہوں نے کہا کہ:
’’ ہم جب یہ کہتے ہیں کہ (ہمارے اعمال اللہ کی مخلوق ہیں)، تو اس سے مراد یہ ہے کہ ہمارے تمام افعال—چاہے وہ طاعت ہوں یا معصیت، اور چاہے ہاتھ سے صادر ہوں، پاؤں سے، آنکھ، ناک یا کان کے ذریعے—یہ سب اللہ ہی کے پیدا کردہ ہیں، اور اس کی تین وجوہات ہیں:
پہلی وجہ: یہ ہے کہ ہمارے اعمال ہماری صفات میں سے ہیں، اور ہم خود اللہ کے پیدا کیے ہوئے ہیں۔ تو جب اصل (یعنی ذات) اللہ کی مخلوق ہے تو اس کی صفات بھی اللہ ہی کی مخلوق ہوں گی۔ چونکہ ہمارے افعال ہماری صفات شمار ہوتے ہیں، اس لیے جو ذات کا خالق ہے وہی صفات کا بھی خالق ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ کہنا درست ہے کہ ہمارے افعال اللہ کے پیدا کیے ہوئے ہیں۔
دوسری وجہ: یہ ہے کہ انسان کا فعل دو چیزوں کے نتیجے میں وقوع پذیر ہوتا ہے: ارادہ اور قدرت۔
چنانچہ جہاں تک قدرت کا تعلق ہے تو اللہ تعالیٰ ہی نے اسے پیدا کیا ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو انسان سے یہ قدرت چھین لے اور انسان کسی فعل پر قادر نہ رہے۔
اور انسانی ارادے کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی اس کو پیدا کرتا ہے، اور وہی دل میں ارادہ ڈالتا ہے۔ انسان کتنی ہی مرتبہ کسی بات کا پختہ ارادہ کرتا ہے لیکن آخری لمحے میں اس سے ہٹ کر کسی اور طرف متوجہ ہو جاتا ہے۔
کبھی ایسا ہوتا ہے کہ آپ اپنے کسی دوست کی عیادت کے لیے روانہ ہوتے ہیں، مگر راستے میں اچانک ارادہ بدل دیتے ہیں اور کہتے ہیں: کل یا پرسوں چلا جاؤں گا۔
اسی لیے جب ایک عرب کے دیہاتی سے پوچھا گیا: تم نے اپنے رب کو کیسے پہچانا؟
اس نے جواب دیا:’’ عزائم کے ٹوٹنے اور ارادوں کے پھیرے جانے سے۔ ‘‘ اس دیہاتی کا یہ جواب اس کی فطرت کا ایک سچا اظہار تھا۔
’عزائم کا ٹوٹنا‘ یعنی انسان کسی کام کا پختہ ارادہ کرے، اس میں ذرا تردد بھی نہ ہو، پھر بغیر کسی ظاہری وجہ کے اس سے رجوع کر لے۔
اور ’ارادوں کا پھیر دیا جانا‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کسی کام کا عزم کر کے اس کی ابتدا بھی کر دے، مگر پھر اچانک رک جائے اور چھوڑ دے۔
اعرابی کا کہنا تھا کہ میں نے اسی حقیقت سے اپنے رب کو پہچانا، کیونکہ عزائم کے ٹوٹنے اور ارادوں کے پلٹائے جانے کی کوئی معلوم، محسوس اور ظاہری وجہ نہیں ہوتی۔ لہٰذا یقیناً اس کا سبب اللہ تعالیٰ کا فعل ہی ہوتا ہے۔‘‘
لہذا ہمارے افعال اللہ ہی کے پیدا کردہ ہیں، اور اس کی دلیل دو باتیں ہیں:
پہلی دلیل: ہمارے افعال ہماری صفات میں سے ہیں، اور جو ذات اللہ کی مخلوق ہے، اس کی صفات بھی اللہ کی مخلوق ہوں گی۔ پس خالقِ ذات ہی خالقِ صفت بھی ہوتا ہے۔
دوسری دلیل: ہمارے افعال پختہ ارادے اور قدرت کے نتیجے میں وجود میں آتے ہیں، اور ارادہ بھی اللہ ہی کا پیدا کیا ہوا ہے اور قدرت بھی اللہ ہی نے پیدا فرمائی ہے۔ جب پورا سبب (ارادہ اور قدرت) اللہ کا پیدا کردہ ہے تو اس کا لازمی نتیجہ یعنی فعل بھی اللہ ہی کا پیدا کردہ ہو گا۔
تیسرا پہلو: اللہ تعالیٰ ہر چیز کا خالق ہے، جیسا کہ اس کا فرمان ہے:
اللَّهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ
ترجمہ:’’اللہ ہر چیز کا خالق ہے‘‘ (سورۃ الرعد: آیت 16)
اور یہ عمومی حکم بندوں کے افعال کو بھی شامل ہے، کیونکہ بندوں کے افعال بھی ’’چیز‘‘ ہی میں داخل ہیں۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: ’’شرح السفارینیہ‘‘ (1/323)
خلاصہ یہ ہے کہ یہ کہنا درست نہیں کہ بندہ مجازاً فاعل ہے؛ یہ بات شریعت اور مشاہدے دونوں کے خلاف ہے، اور اس سے بہت سے قبیح اور باطل نتائج لازم آتے ہیں۔
اور بعض لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ بندہ حقیقت میں قدرت کے ساتھ فعل کرتا ہے، لیکن اس کی قدرت مؤثر نہیں ہوتی۔ یہ قول بھی باطل ہے، اور حقیقت میں یہ جبریہ کے قول ہی کی طرف لوٹتا ہے، اور اس پر وہی تمام لوازم لازم آتے ہیں جو جبریہ کے قول پر لازم آتے ہیں۔ یہاں تک کہ امام الجوینی رحمہ اللہ نے بندے کی قدرت کو غیر مؤثر ماننے — جو کہ ان کے اشعری ساتھیوں کا مذہب ہے — کو رسولوں کی تکذیب اور شریعت کے اوامر کو کالعدم قرار دینا شمار کیا ہے۔
آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’پہلا رکن: بندے کی قدرت اور اس کے مقدور میں اس کی تاثیر کے بیان میں :
پس ہم کہتے ہیں: ہر وہ شخص جو عقل کے اعتبار سے پختہ ہو، تقلید کے مراتب سے اوپر اٹھ چکا ہو، اور قواعدِ توحید میں بصیرت رکھتا ہو، اس کے نزدیک یہ بات طے شدہ ہے کہ ربِّ سبحانہ وتعالیٰ اپنے بندوں سے ان کی زندگی میں ان سے کارکردگی دکھانے کا مطالبہ کرتا ہے، انہیں ان عملی طور پر کچھ کر دکھانے کی طرف بلاتا ہے، پھر ان کی اچھی بری کارکردگی کے اعتبار سے ان پر ثواب یا سزا مرتب فرماتا ہے۔ اور ان نصوص سے — جو تاویل کی گنجائش نہیں رکھتیں — یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس بات پر قادر بنایا ہے کہ وہ اس مطالبے کو پورا کر سکیں، اور انہیں اس قابل بنایا ہے کہ وہ حکم کی تعمیل تک پہنچ سکیں، اور ممانعت کے مواقع سے باز رہ سکیں۔ اگر میں ان معانی پر مشتمل آیات کی تلاوت کرنے لگوں تو بات بہت طول پکڑ جائے، اور صاحبِ عقل و انصاف کے لیے اس کی کوئی ضرورت نہیں۔
اور جو شخص شرعی نصوص میں تدبر کے ساتھ غور کرے، اور یہ دیکھے کہ ان میں کس شدت اور تاکید کے ساتھ نیک اور باعزت اخلاق و اعمال کی طرف ترغیب دی گئی ہے، اور کس وضاحت کے ساتھ مہلک فحاشیوں اور تباہ کن گناہوں سے روکا گیا ہے؛ پھر وہ اس حقیقت پر بھی نظر ڈالے کہ بعض معاصی کے ساتھ دنیاوی حدود اور تعزیری سزائیں وابستہ کی گئی ہیں، اور آخرت میں وعدہ اور وعید کے مستقل ابواب قائم کیے گئے ہیں؛ مزید یہ کہ وہ ان خبروں پر ایمان و تصدیق کو لازم سمجھے جو رسولوں نے سرکشوں اور نافرمانوں کے بارے میں دی ہیں، کہ انہیں حساب و کتاب کا سامنا ہوگا، عذاب میں مبتلا کیا جائے گا، اور ان کا انجام اور ٹھکانہ نہایت برا ہو گا؛ تو جو شخص ان تمام امور کو ایک مجموعی نظر سے دیکھ لے، اور اس پورے نظامِ شریعت، امر و نہی، وعد و وعید، جزا و سزا، اور بعث و حساب کو سمجھ لے، پھر بھی اس بات میں شک کرے کہ بندوں کے اعمال ان کے اپنے اختیار، ترجیح اور قدرت کے مطابق صادر ہوتے ہیں، تو وہ یا تو عقل کے اعتبار سے خلل کا شکار ہے، یا محض اندھی تقلید پر جما ہوا ہے، اور جان بوجھ کر اپنے جہل پر اصرار کیے ہوئے ہے۔
پس یہ موقف اختیار کرنا کہ بندے کی قدرت کا اس کے فعل میں کوئی حقیقی اثر نہیں ہوتا، در حقیقت شریعت کے تمام مطالبات اور تقاضوں کو جڑ سے کاٹ دینے کے مترادف ہے، کیونکہ اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اوامر و نواہی، وعد و وعید، جزا و سزا اور ذمہ داری و مؤاخذہ سب بے معنی ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ قول رسولوں کے لائے ہوئے پیغام کی صریح تکذیب بن جاتا ہے، کیونکہ انبیاء علیہم السلام نے انسان کو ایک مختار، مکلف اور جواب دہ ہستی کی حیثیت سے مخاطب کیا ہے۔
اور جو شخص یہ دعویٰ کرے کہ بندے میں پیدا کی جانے والی قدرت کا اپنے مقدور میں کوئی حقیقی اثر نہیں، بالکل اسی طرح جیسے علم کا اپنے معلوم کے وجود میں کوئی اثر نہیں ہوتا، تو اس کے نزدیک بندے کو اس کے افعال کا مکلف ٹھہرانا سراسر بے معنی ہو جاتا ہے۔ کیونکہ اس صورت میں بندے سے کسی فعل کا مطالبہ کرنا حقیقت میں اس سے ایسی چیز کا مطالبہ کرنا ہوگا جس پر اس کا کوئی اختیار، قدرت یا تصرف سرے سے موجود ہی نہیں۔ یوں سمجھ لیجیے کہ جیسے انسان سے یہ مطالبہ نہیں کیا جا سکتا کہ وہ اپنے نفس میں رنگ پیدا کرے، یا محض ادراکات اور حسی کیفیات کو وجود میں لائے—کیونکہ یہ امور اس کے اختیار میں نہیں ہوتے—[بالکل اسی طرح، اس نظریے کے مطابق، بندے سے نماز، روزہ، اطاعت یا معصیت کا مطالبہ بھی ایک لغو اور غیر معقول مطالبہ بن جاتا ہے، کیونکہ اگر اس کی قدرت مؤثر ہی نہیں، تو اس کا فعل بھی اس کے دائرۂ اختیار سے خارج ٹھہرتا ہے۔ مترجم]
یہ طرزِ فکر نہ صرف عدل و اعتدال کے واضح معیار سے صریح انحراف ہے، بلکہ یہ عقل و بدیہہ کے خلاف باطل اور محال امور کو لازم پکڑ لینے کے مترادف ہے۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ شریعت کے اوامر و نواہی، جزا و سزا، وعد و وعید، اور مؤاخذہ و محاسبہ سب محض نمائشی اور بے حقیقت رہ جاتے ہیں۔ ‘‘
ماخوذ از: ’’العقيدة النظامية‘‘ (تحقیق: کوثری)، صفحہ: 42 اور اس کے بعد والے صفحات کا مطالعہ کریں۔
اور علامہ شہرستانی نے ان سے نقل کیا کہ:
’’ایسی قدرت کا اثبات جو کسی پہلو سے بھی مؤثر نہ ہو—یہ تو بالکل ایسے ہی ہے جیسے مطلقاً قدرت کا انکار کر دینا۔‘‘
ماخوذ از: ’’الملل والنحل‘‘ (1/98)
واللہ اعلم