سوموار 13 جمادی ثانیہ 1440 - 18 فروری 2019
اردو

ایمازون(Amazon ) کی مصنوعات کی تشہیر کرنے کا حکم اور کوکیز سسٹم کا حکم۔

سوال

میں ایمیزون ویب سائٹ کے ساتھ کمیشن کے عوض مارکیٹنگ کے متعلق سوال پوچھنا چاہتا ہوں، جیسے کہ آپ جانتے ہیں کہ ایمازون بہت بڑی ویب سائٹ ہے یہ سائٹ ہر وہ چیز فروخت کرتی ہے جو آپ کے ذہن میں آئے، یعنی کئی ملین مصنوعات۔
ویب سائٹ نے "کمیشن کے بدلے مارکیٹنگ" سے موسوم ایک پروگرام متعارف کروایا ہے اس میں آپ مفت رجسٹریشن کر سکتے ہیں، پھر آپ جن اشیا کی مارکیٹنگ کرنا چاہتے ہیں انہیں اختیار کریں اور پھر اس کا لنک لوگوں تک پہنچائیں، اس کے بعد جو شخص بھی آپ کے مخصوص لنک کے ذریعے ویب سائٹ تک پہنچ کر وہ چیز خریدے گا تو آپ کو اس میں سے کمیشن ملے گا، یہ کمیشن اس چیز کی کل قیمت کا کچھ فیصدی حصہ ہوتا ہے۔ اسی طرح کوکیز سسٹم بھی ہے، اس میں یہ ہوتا ہے کہ گاہک یا کسٹمر کے کمپیوٹر میں یا آپ کے دئیے ہوئے لنک کے ذریعے جو بھی ویب سائٹ پر آیا ہے اس کے سسٹم میں ایک فائل 24 گھنٹے کیلیے انسٹال ہو جاتی ہے، تو اس 24 گھنٹے کے دورانیے میں کوئی اور چیز بھی وہ خریدے گا تو اس کا کمیشن بھی آپ کو ہی ملے گا، لیکن اگر کسٹمر اس 24 گھنٹے کے دوران کسی اور شخص کے فراہم کردہ لنک سے داخل ہوتا ہے تو پھر کمیشن اس دوسرے شخص کو ملے گا، یعنی مطلب یہ ہے کہ جو آخری ترویجی لنک کسٹمر نے استعمال کیا ہے اس کا اعتبار ہو گا۔
تو کیا اس ویب سائٹ پر بطور مارکیٹنگ ایکسپرٹ کام کرنا جائز ہے؟ کیونکہ یہ ویب سائٹ اچھی اور بری ہر چیز فروخت کرتی ہے، اسی طرح ویب سائٹ پر خواتین کی تصاویر سمیت غیر مناسب اشیا بھی ہوتی ہیں تو کیا ان کے ساتھ کام کرنے پر گناہ کے کاموں میں ان کی معاونت نہیں ہو گی؟
اسی طرح کوکیز فائل کے متعلق سوال ہے کہ اگر کسٹمر نے وہ چیز نہیں خریدی جس کی میں مارکیٹنگ کر رہا تھا بلکہ اس نے کوئی ایسی چیز خرید لی جو کہ حرام ہے یا جائز نہیں ہے، تو اس حرام یا ناجائز چیز کا کمیشن بھی خود کار طریقے سے میرے کھاتے میں آ جائے گا، تو کیا اس میں مجھے کوئی گناہ ہو گا؟ یہ الگ بات ہے کہ مارکیٹنگ ایکسپرٹ کی جانب سے بتلائی ہوئی چیز کے علاوہ کسی حرام چیز کی خریداری کا احتمال بہت کم ہوتا ہے، تو کیا پھر بھی کمیشن حرام ہوگا؟
اور کیا اگر ایسا ہو بھی جائے تو میں کمیشن کی یہ رقم صدقہ کر دوں؟ یا میرے لیے ان کے ساتھ کام کرنا ہی جائز نہیں ہے؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

اول:

ایمازون ویب سائٹ کیلیے کمیشن  اور فروخت ہونے والی اشیا کی قیمتوں میں سے مخصوص تناسب کے عوض تشہیری اور ترویجی مہم میں حصہ لینا جائز ہے، البتہ اس کیلیے یہ شرط ہے کہ وہ چیز مباح ہو  اور مارکیٹنگ کرنے کیلیے آپ کو فیس ادا نہ کرنی پڑے۔

حرام فلموں اور دیگر حرام چیزوں کی مارکیٹنگ کرنا جائز نہیں ہے نہ ہی ان پر کمیشن لینا حلال ہے؛ کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

(وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ)
ترجمہ: نیکی اور تقوی کے کاموں میں باہمی تعاون کرو، گناہ اور زیادتی کے کاموں پر تعاون مت کرو، اور اللہ سے ڈرو، بیشک اللہ تعالی سخت سزا دینے والا ہے۔ [المائدة:2]

دوم:

کوکیز کے متعلق آپ نے ذکر کیا کہ جو شخص بھی آپ  کے ذریعے ویب سائٹ پر جائے گا اور 24 گھنٹے کے اندر اندر جو بھی خریداری کرے گا تو اس کا کمیشن بھی آپ کو ملے گا ، اس کا حکم ویب سائٹ کی دلالی والا ہے کسی معین چیز کی دلالی والا نہیں ہے، اور یہ بات واضح ہے کہ ویب سائٹ کی مارکیٹنگ  کمیشن کے عوض کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے بشرطیکہ اس ویب سائٹ کی اکثر چیزیں مباح ہوں۔

ہمیں جو بات محسوس ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ مجموعی طور پر ایمازون ویب سائٹ  کی ترویج  جائز ہے اور اگر کوئی آپ کے ذریعے اسی دن کوئی چیز خرید بھی لے تو اس کے عوض کمیشن لینا بھی جائز ہے۔

اور اگر آپ یہ معلوم ہو کہ ایک کسٹمر آپ کے ذریعے سے اس ویب سائٹ تک پہنچا اور پھر اس نے کوئی حرام چیز خریدی تو  اس صورت میں آپ پر کوئی گناہ نہیں ہو گا، حرام چیز خریدنے کا مشتری کو گناہ ہو گا، آپ کیلیے کمیشن حلال ہو گا؛ کیونکہ یہ کمیشن ویب سائٹ تک پہنچنے کا ہے کسی حرام چیز کو متعارف کروانے کا نہیں، البتہ اگر پھر بھی آپ اس کمیشن کو ذاتی استعمال میں نہیں لاتے تو یہ بہت اچھا ہے۔

واللہ اعلم.

ماخذ: اسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں