ہفتہ 7 شوال 1441 - 30 مئی 2020
اردو

کتابوں کی ویب سائٹ سے ایسی چیز کی خریداری کا حکم جس کی تفصیلات میں اللہ تعالی کے ساتھ مذاق ہو؟

سوال

کیا کسی ویب سائٹ سے کوئی ایسی چیز خریدنے کی درخواست کی جاسکتی ہے جس چیز کی خوبیاں بیان کرتے ہوئے اللہ تعالی کے ساتھ مذاق کیا گیا ہو؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

اگر اس چیز پر کفارکا شعار مثلا صلیب وغیرہ  ہو یا اس پر کفریہ کلمات درج ہوں مثلاً: اللہ تعالی کے ساتھ مذاق کیا گیا ہو تو پھر اس چیز کی خرید و فروخت جائز نہیں ہے؛ کیونکہ اس میں کفر کی نشر و اشاعت ہو گی اور کفار کی مدد بھی ہو گی، حقیقت میں تو ایسی مصنوعات کا سختی کا نوٹس لینا چاہیے لیکن کم از کم یہ ہے کہ اس کا بائیکاٹ کیا جائے۔

پہلے بھی اس چیز کا تفصیلی بیان  ہماری ویب سائٹ پر متعدد سوالات کے جواب میں گزر چکا ہے، اس کیلیے آپ سوال نمبر: (126602) ، (47060) اور (112052) کا جواب ملاحظہ فرمائیں۔

اور اگر اس چیز پر کفریہ علامت یا کفریہ عبارت نہ ہو لیکن اس چیز کی خوبیاں ذکر کرتے ہوئے  یہ بات لکھی گی ہو تو یہی محسوس ہوتا ہے کہ پھر بھی اس چیز کا بائیکاٹ ہونا چاہیے، تا کہ اس گستاخ کو سبق حاصل ہو اور وہ اپنی اس حرکت سے باز آ جائے، اس کیلیے حسب استطاعت اس کا رد بھی کریں۔

اسے یہ بتلائیں کہ اس کی گستاخی کی وجہ سے لوگ اس کی مصنوعات خریدنے سے گریزاں ہیں، یہ بات سن کر امید ہے کہ وہ اسے تبدیل کر دے؛ کیونکہ یہ لوگ مادہ پرست ہوتے ہیں،  اور روپے پیسے کیلیے کوئی بھی حیلہ یا وسیلہ اختیار کر سکتے ہیں، لیکن بسا اوقات ان میں مسلمانوں کے نظریات کے خلاف اتنا سخت کینہ اور بیوقوفی پائی جاتی ہے کہ  وہ اس قسم کے حرکتوں میں ملوث ہو جاتے ہیں، یا پھر ان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ ملحدوں کو اپنی چیزیں خریدنے  کیلیے مائل کریں۔

اللہ تعالی نے اپنے بندوں کو اس قسم کے کافروں کا محتاج نہیں بنایا، لہذا تلاش کرنے پہ وہی پروڈکٹ کسی اور جگہ سے بھی مل سکتی ہے بلکہ اس سے بھی اچھی ملنے کا امکان ہے۔

اس لیے دینی حمیت اور غیرت کی بنا پر اس چیز کا بائیکاٹ کرنا  کسی بھی دوسرے فائدے اور مصلحت  پر ترجیح رکھتا ہے۔

واللہ اعلم.

ماخذ: اللقاء الشھری نمبر ( 17 ) ۔

تاثرات بھیجیں