پٹی کب اتارنی چاہیے؟ اور اگر علم ہو جائے کہ پٹی اتارنے سے پہلے شفا حاصل ہو چکی ہے تو کیا نماز دہرانا لازم ہو گا؟

سوال: 257302

میرے بائیں ہاتھ پر  پٹی  بندھی ہوئی تھی اور میں سفر میں تھا۔ میں نے وضو کیا اور بائیں ہاتھ پر مسح کیا کیونکہ اس پر پٹی بندھی ہوئی تھی، پھر میں نے ظہر اور عصر کی نمازیں جمع اور قصر کر کے پڑھیں۔ نماز کے فوراً بعد میں نے پٹی اتار دی اور محسوس کیا کہ اب ہاتھ میں کوئی درد نہیں اور اگر پٹی نہ بندھی ہوتی تو میں غسل کر سکتا تھا۔ تو کیا مجھ پر یہ دونوں نمازیں دوبارہ پڑھنا لازم ہیں؟ اور اگر میں دوبارہ پڑھوں تو کیا میں انہیں قصر پڑھوں یا پوری؟

جواب کا متن

ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالی کے لیے، اور دورو و سلام ہوں اللہ کے رسول پر، بعد ازاں:

اول:

’’جبیرہ‘‘ لغوی طور پر اُن لکڑیوں کو کہا جاتا ہے جو ہڈی پر باندھی جاتی ہیں تاکہ وہ ہڈی کو سیدھے رہنے پر مجبور  کرے اور پھر جڑ جائے۔ اس کی جمع ’’جبائر‘‘ ہے۔ یہ لفظ ’’جَبَرَ العَظْمَ جَبْراً‘‘ سے ماخوذ ہے، جس کا معنی ہے ’’ہڈی کو درست کرنا‘‘۔ چنانچہ کہا جاتا ہے ’’جَبَرَ العَظْمَ‘‘ یعنی ہڈی کو جوڑ دیا، اور ’’جَبَرَ هُوَ‘‘ یعنی وہ خود ٹھیک ہو گئی۔ اس طرح یہ لفظ لازم اور متعدی دونوں معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔
’’جَبَرْتُ اليَدَ‘‘ یعنی میں نے ہاتھ پر پٹی باندھی ، اور ’’جَبَرَ العَظْمَ‘‘ یعنی اس نے ہڈی کو جوڑ دیا۔
’’المُجَبِّر‘‘ اس شخص کو کہا جاتا ہے جو ٹوٹی ہوئی ہڈیوں کو درست کرتا ہے۔

فقہی اصطلاح میں فقہاء نے ’’جبیرہ‘‘ کے معنی کو اسی لغوی مفہوم سے لیا ہے، البتہ مالکی فقہاء نے اسے زیادہ وسیع معنی میں بیان کیا ہے۔ ان کے نزدیک جبیرہ ہر اُس چیز کو کہا جاتا ہے جو زخم یا چوٹ کے علاج کے لیے استعمال کی جائے، خواہ وہ لکڑی ہو، پٹی ہو یا کوئی اور چیز۔ (ماخذ: الموسوعۃ الفقہیۃ، جلد 15، صفحہ 106)

فقہا کا اس بات پر اتفاق ہے کہ عذر کی حالت میں پٹی پر مسح کرنا جائز ہے۔
ابن قدامہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:
’’جبیرہ پر مسح اور موزے پر مسح میں پانچ فرق ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ جبیرہ پر مسح صرف اسی وقت کیا جا سکتا ہے جب اسے اتارنے میں نقصان ہو، جبکہ موزے کے بارے میں ایسا نہیں۔‘‘  ختم شد
ماخوذ از: (المغنی 1/312)

اسی طرح الموسوعة الفقهية (15/108) میں ہے:
’’پٹی پر مسح کے لیے شرط یہ ہے کہ اگر ٹوٹی ہوئی یا زخمی جگہ کو دھویا جائے تو اس سے نقصان کا اندیشہ ہو۔ اگر زخم پر براہِ راست مسح بھی نقصان دہ ہو، یا جبیرہ اتارنے سے نقصان کا خوف ہو تو تب بھی مسح کی اجازت ہے۔‘‘ مختصراً ختم شد

شیخ ابو عمر الدبیان حفظہ اللہ کہتے ہیں:
’’پٹی پر مسح کرنے کی شرط یہ ہے کہ دھونا عضو کے لیے نقصان دہ ہو یا زخموں اور پھوڑوں کے لیے مضر ہو، یا پٹی اتارنے سے کسی اور نقصان کا اندیشہ ہو۔ اگر نہ دھونے سے نقصان کا اندیشہ ہو اور نہ پٹی اتارنے سے تو پھر دھونا واجب ہے، کیونکہ اصل فرض غسل ہے، جو عذر کی وجہ سے مسح کی طرف منتقل ہوا۔ جب عذر باقی نہ رہا تو غسل ساقط نہیں ہو گا۔ اس بارے میں کسی کا کوئی اختلاف نہیں ہے۔‘‘  ختم شد
ماخوذ از: موسوعة أحكام الطهارة (5/619)

دوم:
پٹی کتنی مدت تک لگی رہنی چاہیے، اس کا تعلق طبی ماہرین  اور معالجین سے ہے ۔ اگر ماہرین نے کوئی مدت مقرر کی ہے تو اس سے زیادہ رکھنا جائز نہیں، اور اس مدت کے بعد اس پر مسح درست نہیں ہو گا؛ لہذا اگر ان کی طرف سے مخصوص مدت متعین کی گئی ہے تو پھر یہی محسوس ہوتا ہے کہ آپ پر کچھ نہیں ہے۔
الشیخ محمد  بن محمد مختار شنقیطی  حفظہ اللہ فرماتے ہیں:
’’جب تک یہ پٹی  باندھی ہوئی ہے اس پر مسح جائز ہے، لیکن اس کا اعتبار ماہرین کے موقف کے مطابق ہو گا۔ چنانچہ اگر ڈاکٹر کہیں کہ یہ ایک مہینے تک رہے گی تو ایک مہینے تک، اگر کہیں کہ دو مہینے تک رہے گی تو دو مہینے تک، اس سے زیادہ نہیں۔ اگر مقررہ مدت کے بعد بھی رکھی جائے تو اس پر مسح جائز نہیں۔‘‘  ختم شد
ماخوذ از: شرح زاد المستقنع : (14/21) مکتبہ شاملہ کی ترتیب کے مطابق۔

اگر ماہرین کی طرف سے کوئی مدت مقرر نہ کی گئی ہو اور غالب گمان یہ ہو کہ شفا کے بعد بھی آپ نے مسح کیا ہے، تو یہ مسح اور اس کے ساتھ وضو صحیح نہیں ہو گا اور آپ کو نماز دوبارہ پڑھنی ہو گی۔

امام نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
’’اگر جبیرہ کے نیچے زخم بھر جائے اور شفا ہو جائے اور اسے علم نہ ہو اور وہ نمازیں پڑھتا رہے تو تمام نمازوں کا اعادہ واجب ہو گا، اس پر کوئی اختلاف نہیں۔ صاحب تتمہ سمیت دیگر مؤلفین نے بھی اس موقف پر اہل علم کا اتفاق نقل کیا ہے۔‘‘  ختم شد
ماخوذ از: المجموع : (2/332)

اور اگر دونوں نمازیں (یعنی ظہر و عصر یا مغرب و عشاء) حضر میں دوبارہ ادا کی جائیں، تو انہیں بطورِ احتیاط مکمل پڑھنا لازم ہے ۔

چنانچہ ’’الموسوعۃ الفقہیۃ‘‘ (جلد 27، صفحہ 281) میں درج ہے:

’’ حنفیہ، مالکیہ اور امام شافعی کے قدیم قول کے مطابق: اگر کسی شخص کی نماز سفر میں قضا ہو گئی ہو، تو وہ اسے حضر میں دو رکعت کے طور پر ادا کرے گا، اور اگر کسی کی نماز حضر میں قضا ہوئی ہو، تو وہ اسے سفر میں چار رکعت کے طور پر ادا کرے گا، کیونکہ ’’قضا‘‘ کا حکم ’’ادا‘‘ کے مطابق ہوتا ہے۔

البتہ امام شافعی کے نئے قول (اور یہی اصح ہے) کے مطابق: قصر کرنا جائز نہیں، کیونکہ قصر ایک ایسی رخصت ہے جو عذر (یعنی سفر) سے وابستہ ہے، اور جب عذر ختم ہو جائے تو رخصت بھی ختم ہو جاتی ہے۔

اور اگر کسی کی نماز سفر میں قضا ہوئی ہو اور وہ سفر ہی میں اسے ادا کر رہا ہو، تو اس میں دو قول ہیں:
ایک قول یہ ہے کہ وہ قصر نہیں کرے گا، کیونکہ یہ نماز دراصل چار رکعت کی تھی، جنہیں وقت کے سبب دو رکعت کر دیا گیا تھا، اس لیے قصر کے لیے وقت شرط ہے۔
اور دوسرا قول یہ ہے کہ وہ قصر کرے گا، اور یہی زیادہ صحیح ہے، کیونکہ قصر ایک ایسی رخصت ہے جو عذر کے ساتھ وابستہ ہے، اور جب عذر (یعنی سفر) باقی ہے تو رخصت بھی باقی رہے گی۔

اور اگر کسی کی نماز حضر میں قضا ہو گئی ہو، اور وہ سفر میں اس کی قضا دینا چاہے، تو اس کے لیے قصر جائز نہیں، کیونکہ اس کے ذمے مکمل نماز واجب ہے، لہٰذا اسے قصر کرنے کی اجازت نہیں۔ البتہ امام مزنی رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ اس کے لیے قصر کرنا جائز ہے۔

حنابلہ کا موقف یہ ہے کہ اگر کسی نے حضر کی نماز بھلا دی اور اسے سفر میں یاد آیا، یا سفر کی نماز بھلا دی اور حضر میں یاد آئی، تو دونوں صورتوں میں اسے ’’نمازِ حضر‘‘ ہی کی طرح مکمل پڑھنی ہو گی۔
امام احمد رحمہ اللہ نے ابو داود اور اثرم کی روایت میں یہی فرمایا، کیونکہ قصر سفر کی رخصتوں میں سے ہے، اور جب سفر کا عذر ختم ہو جائے تو یہ رخصت بھی ختم ہو جاتی ہے۔
الموسوعۃ الفقہیۃ (27/281)

واللہ اعلم

حوالہ جات

ماخذ

الاسلام سوال و جواب

at email

ایمیل خبرنامہ

اسلام سوال و جواب کی میلنگ لسٹ میں شامل ہوں

phone

اسلام سوال و جواب ایپ

مواد تک فوری رسائی اور آف لائن مطالعہ کے لیے

download iosdownload android