اول:
مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا ذکر اچھے طریقے سے کرے تاکہ ذکر کے ثمرات حاصل ہوں اور اس کے مقاصد پورے ہوں، اور یہ تبھی ممکن ہے جب زبان کے ذکر کے ساتھ قلبی ذکر بھی شامل ہو۔ صرف زبان اور ہونٹوں کی حرکت کافی نہیں۔
فرمانِ باری تعالی ہے: إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ آيَاتُهُ زَادَتْهُمْ إِيمَانًا وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ (الانفال: 2)
ترجمہ:’’مومن تو وہی ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل پگھل جاتے ہیں، اور جب ان پر اللہ کی آیات تلاوت کی جاتی ہیں تو ان کا ایمان بڑھ جاتا ہے اور وہ اپنے رب پر توکل کرتے ہیں۔‘‘
لہٰذا ذکر کے ثمرات، مثلاً: خشیت اور ایمان میں اضافہ، صرف غور و فکر اور تدبر کے ساتھ ہی ممکن ہیں۔
شیخ عبدالرحمن سعدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ یعنی ان کے دل ڈرتے اور خوف زدہ ہوتے ہیں، تو اس خوف کی وجہ سے وہ اللہ کی معصیت سے باز رہتے ہیں؛ کیونکہ اللہ سے ڈرنے کی سب سے بڑی علامت یہ ہے کہ خوفِ الہی انسان کو گناہوں سے روک دے۔
وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ آيَاتُهُ زَادَتْهُمْ إِيمَانًا اس کا سبب یہ ہے کہ وہ غور سے سنتے ہیں اور اپنے دلوں کو تدبر کے لیے حاضر کرتے ہیں، پس ان کا ایمان بڑھ جاتا ہے۔ کیونکہ تدبر کا تعلق دل سے ہے، چنانچہ تدبر کے ذریعے یا تو کوئی نیا معنی سمجھ میں آتا ہے، یا بھولی ہوئی بات یاد آ جاتی ہے، یا دل میں نیکی کی رغبت اور اللہ تعالی کے انعام و اکرام حاصل کرنے کی آرزو پیدا ہوتی ہے، یا پھر عذاب کا خوف اور گناہوں سے اجتناب کا جذبہ جاگ اٹھتا ہے، اور یہ سب کچھ ایمان میں اضافہ کا باعث ہوتا ہے۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: تفسیر سعدی، ص : ( 315)
پس اگر مسلمان صرف زبان سے ذکر کرے اور دل غافل ہو تو ذکر کے مطلوبہ ثمرات پورے طور پر حاصل نہیں ہوتے، لہٰذا ایسا ذکر ناقص عمل ہے۔
ابن قیم رحمہ اللہ نے فرمایا:
’’دل کا ذکر معرفت بڑھاتا ہے، محبت کو ابھارتا ہے، حیا کو جگاتا ہے، خوف پیدا کرتا ہے، دل سے اللہ تعالی کی نگرانی اور نگہبانی تسلیم کرواتا ہے، نیکیوں میں کوتاہی اور گناہوں کو معمولی سمجھنے سے روکتا ہے۔ لیکن صرف زبان کا ذکر ان ثمرات کو پیدا نہیں کرتا، اور اگر کچھ کرے بھی تو اس کا اثر بہت کمزور ہوتا ہے۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: الوابل الصیّب، ص : (221)
دوم:
اگر مسلمان صرف زبان سے ذکر کرے تو کیا اسے اجر ملے گا؟
جی ہاں، اس پر اجر ملے گا لیکن اس کے عمل کے برابر ۔ کیونکہ ذکر کرتے ہوئے زبان کی حرکت ایک نیک عمل ہے، یہ قولی اطاعت اور زبان کی عبادت ہے۔ اگر دل بھی زبان کے ساتھ مل جائے تو یہ کامل ذکر ہے، ورنہ جس قدر دل ذکر میں شریک ہو گا اسی کے برابر اجر ملے گا۔
یہ بات بہرحال یقینی ہے کہ ذکر کرنے والے کو دل کی کسی نہ کسی درجے کی موافقت ضرور حاصل ہوتی ہے، اگرچہ مکمل نہ ہو ایسا شخص ہلکا پھلکا تعلق اپنی زبان سے نکلنے والے الفاظ کے ساتھ رکھ رہا ہوتا ہے؛ اسی لیے وہ کبھی دعا کا انتخاب کرتا ہے، کبھی استغفار، اور کبھی محض ذکر۔ اللہ نے ہر کسی کے نصیب کی ایک حد مقرر کی ہے۔
امام نووی رحمہ اللہ نے فرمایا:
’’قاضی عیاض رحمہ اللہ کے مطابق : ذکر کی دو قسمیں ہیں: دل کا ذکر اور زبان کا ذکر۔۔۔
اور صرف زبان کا ذکر کمزور ترین ذکر ہے، لیکن پھر بھی اس میں بہت بڑی فضیلت ہے جیسا کہ احادیث میں آیا ہے۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: شرح صحیح مسلم، (17/15)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فرمایا:
’’ذکر کبھی صرف زبان سے ہوتا ہے اور اس پر ذکر کرنے والے کو اجر ملتا ہے۔ اس کے لیے ضروری نہیں کہ وہ اس کا معنی یاد رکھے، البتہ یہ شرط ہے کہ کسی اور معنی کی نیت نہ کرے۔
اور اگر قلبی ذکر بھی ساتھ ہو تو یہ زیادہ کامل ہے۔ اور اگر ذکر کے معنی، اللہ کی تعظیم اور ذات باری تعالی سے نقائص کی نفی کو بھی دل میں حاضر کرے تو یہ اور زیادہ کامل ہے۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: فتح الباری، (11/209)
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے فرمایا:
’’ذکر کرنے والوں کی چار قسمیں ہیں:
پہلی: دل اور زبان دونوں سے ذکر، اسی انداز سے ذکر کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
دوسری: صرف دل سے ذکر، اگر کوئی گونگا دل سے ذکر کرے تو یہ اچھا عمل ہے، لیکن اگر زبان سے بولنے کی قدرت بھی ہو پھر بھی نہ کرے تو اس نے افضل عمل ترک کر دیا ہے۔
تیسری: صرف زبان سے ذکر، یعنی زبان اللہ کے ذکر سے تر رہے۔ اسی کی مثال اس واقعے میں ہے کہ جس میں فرشتوں کو کوئی نیکی کا کام نہ ملا سوائے اس کے کہ زبان سے اللہ کا ذکر کرتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’میں اپنے بندے کے ساتھ ہوں جب وہ میرا ذکر کرے اور اس کے ہونٹ میرے ذکر سے حرکت میں رہیں۔‘‘
چوتھی: نہ دل سے اور نہ زبان سے ذکر، اور یہی خسارے والوں کی کیفیت ہے۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: مجموع الفتاوی، (10/566)
اس بارے میں مزید کے لیے آپ سوال نمبر: (72826)اور (235993)کا جواب ملاحظہ کریں۔
واللہ اعلم