اول:
اگر یہ ثابت ہو جائے کہ سامان (مبیع) خریدار کو منتقل ہونے سے پہلے ہی عیب دار تھا، تو خریدار کو حق حاصل ہے کہ وہ سامان واپس کر دے اور ادا کردہ قیمت واپس وصول کرے۔ اہلِ علم کی اصطلاح میں اسے خیارِ عیب کہا جاتا ہے۔
اور اگر خریدار سامان اپنے پاس ہی رکھنا چاہے اور ارش (یعنی صحیح حالت میں اس کی قیمت اور عیب دار حالت میں اس کی قیمت کے درمیان فرق) واپس لینا چاہے، تو اگر یہ معاملہ فروخت کرنے والے کی رضامندی سے ہو تو اس پر تمام اہلِ علم کا اتفاق ہے کہ یہ جائز ہے۔
لیکن اگر خریدار فروخت کرنے والے کو اس پر مجبور کرنا چاہے، تو اس کے جواز میں اہلِ علم کے درمیان اختلاف ہے۔
جمہور اہلِ علم اس سے منع کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ خریدار کے لیے صرف دو ہی صورتیں ہیں: یا تو وہ فروخت شدہ چیز واپس کرے اور پوری قیمت وصول کرے، یا اسے اسی حالت میں اپنے پاس رکھے اور اسے کچھ بھی نہ ملے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ایک نیا عقد اور نیا لین دین ہے، لہٰذا اس میں فروخت کرنے والے کی رضامندی ضروری ہے۔
جبکہ فقہائے حنابلہ کا موقف یہ ہے کہ خریدار کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ عیب دار سامان اپنے پاس رکھے اور ارش بھی وصول کرے۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ :
- کیونکہ خریدار نے عقدِ بیع اس بنیاد پر کیا تھا کہ سامان صحیح اور سالم ہے، پس جب اس میں کمی ظاہر ہو گئی تو لازم ہے کہ قیمت میں بھی اسی قدر کمی کی جائے۔
- اور انہوں نے قیاس کے ذریعے اس پر استدلال کیا ہے کہ جس طرح اس صورت میں ارش کا مطالبہ جائز ہے کہ سامان میں پرانا عیب ظاہر ہو جائے اور خریدار اسے واپس کرنا چاہے، لیکن واپسی سے پہلے سامان خریدار کے پاس مزید عیب دار ہو جائے، تو اس صورت میں فروخت کرنے والے کو اس نئے عیب کا ارش لینے کا حق حاصل ہوتا ہے۔
علامہ ابن قدامہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’جب خریدار عیب دار سامان کو اپنے پاس رکھنے اور ارش لینے کو اختیار کرے تو اسے یہ حق حاصل ہے، اور یہ اسحاق کا قول ہے۔
اور ابو حنیفہ اور شافعی کہتے ہیں کہ خریدار کے لیے صرف دو ہی اختیار ہیں: یا تو سامان اپنے پاس رکھے، یا واپس کرے، اور اسے ارش کا حق حاصل نہیں، الا یہ کہ سامان واپس کرنا ممکن نہ ہو؛ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مصراۃ (دودھ روک کر بیچی گئی) جانور کے خریدار کو صرف دو اختیار دیے: بغیر ارش کے اسے اپنے پاس رکھے، یا واپس کرے۔
اور اس لیے بھی کہ جب اسے سامان واپس کرنے کا اختیار حاصل ہے تو اسے قیمت کا کچھ حصہ لینے کا اختیار حاصل نہیں، جیسے وہ شخص جسے خیار حاصل ہو۔
اور ہماری دلیل یہ ہے کہ اس پر ایسا عیب ظاہر ہوا جس کا اسے علم نہیں تھا، لہٰذا اسے ارش کا حق حاصل ہو گیا، جیسے وہ صورت کہ سامان اس کے پاس عیب دار ہو جائے۔
اور اس لیے بھی کہ مبیع کا ایک حصہ اس کے ہاتھ سے تلف ہو گیا، تو اسے اس کا عوض طلب کرنے کا حق حاصل ہوا، جیسے کسی نے دس قفیز (ناپ) خریدے اور وہ نو نکلیں، یا جیسے بیع کے بعد سامان کو تلف کر دیا ہو۔
رہا مصراۃ کا معاملہ، تو اس میں عیب نہیں ہوتا، بلکہ خیار تدلیس کی بنا پر ہوتا ہے، نہ کہ کسی حصے کے فوت ہونے کی وجہ سے، اسی لیے مصراۃ والے مسئلے میں جب واپسی ممکن نہ رہی تو اس میں ارش کا استحقاق بھی نہیں ۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: ’’المغنی‘‘ (4/111-112)
راجح قول جمہور اہلِ علم کا ہے، اور یہی شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا اختیار ہے، اور اسی کو شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ نے راجح قرار دیا ہے ۔
شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’اگر کوئی شخص کسی معیوب چیز کو اس کے عیب کے معلوم ہونے کے باوجود خریدے تو اسے خیار حاصل نہیں، اور اگر وہ عیب جانے بغیر عیب دار چیز خریدے تو اسے اختیار حاصل ہے کہ اگر قیمت ادا کر چکا ہو تو سامان واپس کر دے اور قیمت لے لے، یا اسے اپنے پاس رکھے اور ارش لے۔۔۔
لیکن راجح قول شیخ الاسلام رحمہ اللہ کا یہ ہے کہ خریدار کو یا تو سامان واپس کرنے کا اختیار دیا جائے، یا بغیر کسی معاوضے کے اسے اپنے پاس رکھنے کا، جبکہ ارش کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ یہ حقیقت میں ایک نیا عقد ہے، جس پر فروخت کرنے والے کو مجبور نہیں کیا جا سکتا۔
البتہ اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ فروخت کرنے والا تدلیس کرنے والا تھا، تو ایسی صورت میں خریدار کے اختیار کرنے پر اسے ارش کا بطورِ سزا پابند کیا جا سکتا ہے۔
اور اگر ہمیں معلوم ہو کہ فروخت کنندہ درست نیت والا اور دیانت دار تھا، اور بعد میں عیب ظاہر ہوا، تو ہم اسے ارش کا پابند کیسے کریں؟ وہ تو یہ کہتا ہے کہ میں نے یہ چیز اسی قیمت پر بیچی تھی، ورنہ وہ مجھے واپس لوٹا دی جاتی۔ تو ہم اسے کیسے مجبور کریں؟
پس راجح قول یہ ہے کہ خریدار کو اختیار دیا جائے کہ یا تو سامان واپس کرے اور پوری قیمت وصول کرے، یا اسے بغیر ارش کے اپنے پاس رکھے؛ کیونکہ ارش حقیقت میں معاوضہ ہے۔ ہاں، اگر یہ معلوم ہو جائے کہ فروخت کرنے والا تدلیس کرنے والا تھا، تو پھر ہم اس کے ساتھ سختی کا معاملہ کریں گے اور کہیں گے کہ خریدار کو اختیار ہے، چاہے تو ارش کے ساتھ سامان رکھ لے اور چاہے تو واپس کر دے۔‘‘ختم شد
ماخوذ از: ’’التعليق على الكافي‘‘ (1/215) سے ہے، مکتبہ شاملہ کی ترقیم کے مطابق۔
دوم:
جس شخص نے کوئی چیز عیب دار خریدی، پھر خریدنے کے بعد اس عیب کا علم ہو گیا، اور اس نے اسے واپس کرنے کے بجائے اپنے پاس ہی رکھا اور استعمال بھی کرتا رہا، تو اب اسے خیار حاصل نہیں رہتا، کیونکہ اس نے اپنا حقِ رد خود ساقط کر دیا۔ اس لیے کہ عیب معلوم ہو جانے کے بعد اس کا استعمال کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اس عیب پر راضی ہو گیا ہے۔
اور یہی صورتِ حال یہاں سائل کے معاملے میں ظاہر ہوتی ہے؛ کیونکہ سائل کو پہلے ہی آئل کی پہلی تبدیلی کے وقت عیب کا علم ہو گیا تھا، اور ہر بار آئل تبدیل کرنے پر اسے اس عیب کی مزید تصدیق ہوتی رہی اور اس کی مقدار بھی معلوم ہوتی رہی۔ چنانچہ اتنے طویل عرصے تک (یعنی ایک سال) گاڑی کو اپنے پاس رکھنا اس کے حقِ رد کو ختم کر دیتا ہے۔
ابن قدامہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’عیب کی وجہ سے رد کا خیار فوراً ختم نہیں ہوتا، بلکہ اس میں مہلت ہوتی ہے۔ پس جب خریدار کو عیب کا علم ہو جائے اور وہ رد کرنے میں تاخیر کرے تو اس کا خیار باطل نہیں ہوتا، یہاں تک کہ اس کی طرف سے کوئی ایسا عمل صادر ہو جائے جو اس کے راضی ہونے پر دلالت کرے۔ ابو الخطاب نے اس کو ذکر کیا ہے۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: ’’المغنی‘‘ (9/104)
اور الرحبیانی رحمہ اللہ ’’مطالب أولي النهى‘‘ (3/119) میں فرماتے ہیں:
’’(عیب کا خیار مہلت والا ہے)۔۔۔ اس لیے کہ اسے ایک ثابت شدہ ضرر کو دور کرنے کے لیے مشروع کیا گیا ہے، لہٰذا محض تاخیر سے یہ ساقط نہیں ہوتا، جیسے قصاص کا حق۔ (یہ اس وقت ہی ساقط ہوتا ہے جب خریدار کی رضامندی کی کوئی دلیل پائی جائے) کیونکہ رضامندی کی دلیل کو صریح رضامندی کے قائم مقام رکھا جاتا ہے، (جیسے اس کا تصرف کرنا) فروخت شدہ چیز میں (عیب کے علم کے بعد) اور (فسخ سے پہلے)، مثلاً اسے بیچ دینا، یا کرائے پر دینا، یا عاریتاً دے دینا، (یا سامان کو رکھنے کے اختیار سے پہلے)، (یا اس کا استعمال کرنا) فروخت شدہ چیز کو (تجرباتی استعمال کے علاوہ کسی اور مقصد کے لیے استعمال کرنا)۔‘‘ ختم شد
واللہ اعلم