نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے متعلق یہ روایت کیا صحیح ہے کہ آپ کی وفات علی رضی اللہ عنہ کے سینے پر ہوئی؟

سوال 259216

رافضیوں کا ہم پر یہ اعتراض ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے سینے پر ہوئی تھی، نہ کہ ہماری ام المؤمنین، صدیقہ بنتِ صدیق رضی اللہ عنہما کے سینے پر ۔
وہ ’’مختصر تاریخ دمشق‘‘ ابن عساكر  از ابن منظور جلد دوئم، صفحہ 392 سے یہ روایت نقل کرتے ہیں۔ میں نے پوچھنے سے پہلے مکتبہ شاملہ میں بھی اسے دیکھا ہے، اور اس کے عربی متن کا ترجمہ یہ ہے: ’’ ابو غطفان سے روایت ہے کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے بارے میں یہ دیکھا ہے کہ آپ کی وفات اس حال میں ہوئی کہ آپ کا سر کسی کے  گود میں تھا؟انہوں نے کہا: آپ کی وفات اس حال میں ہوئی کہ آپ حضرت علی کے سینے سے لگے ہوئے تھے۔ میں نے کہا: لیکن عروہ نے مجھے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ حدیث بیان کی ہے کہ انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات میرے سَحْر اور نحر کے درمیان ہوئی۔ ابن عباس نے کہا: کیا یہ بات عقل میں آتی ہے؟ اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات اس حال میں ہوئی کہ آپ حضرت علی کے سینے سے ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ اور آپ کو حضرت علی ہی نے غسل دیا تھا، اور میرے بھائی فضل بن عباس بھی تھے، جبکہ میرے والد عباس نے وہاں حاضر ہونے سے انکار کر دیا۔ اور فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ہمیں پردے میں رہنے کا حکم دیا کرتے تھے، لہٰذا وہ پردے کے پیچھے تھے۔‘‘ مہربانی فرما کر اس شبہے کا جواب عنایت کریں۔

جواب کا خلاصہ

شیعہ لوگ جو یہ بات بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سینے پر ہوئی تھی، یہ سب کمزور اور ناقابلِ التفات روایات ہیں ان کی کوئی حیثیت نہیں۔ یہ روایات ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی اس صحیح اور متفق علیہ حدیث کے مقابلے میں ہرگز نہیں آ سکتیں ۔

جواب کا متن

ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالی کے لیے، اور دورو و سلام ہوں اللہ کے رسول پر، بعد ازاں:

ثابت شدہ صحیح سند کے ساتھ یہ بات ثابت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے سینے پر ہوئی۔

چنانچہ جناب عروہ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں: "رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اپنی بیماری میں (بار بار) پوچھتے تھے: آج میں کہاں ہوں؟ کل میں کہاں ہوں؟ (یعنی حضرت عائشہ کے دن کا انتظار کرتے تھے)۔ جب میرا دن آیا تو اللہ نے انہیں میرے سحر اور نحر (گلے اور سینے) کے درمیان قبض کیا، اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو میرے گھر میں دفن کیا گیا۔" (صحیح بخاری: 1389، صحیح مسلم: 2443)

اسی طرح عبدالرحمن بن القاسم، اپنے والد سے وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں: "عبدالرحمن بن ابی بکر نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آئے جبکہ میں انہیں اپنے سینے سے لگائے ہوئے تھی، اور عبدالرحمن کے پاس تازہ مسواک تھی، نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کی طرف دیکھا، میں نے وہ مسواک لے کر چبائی، صاف کی، پھر نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو دی، آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس سے مسواک کی، پھر ہاتھ یا انگلی اٹھائی اور تین بار فرمایا: 'الرفیق الاعلیٰ' (بلند رفیق کی طرف)،  پھر وفات پا گئے۔ حضرت عائشہ کہتی ہیں: آپ صلی اللہ علیہ و سلم میری گود اور ٹھوڑی کے درمیان فوت ہوئے۔" (صحیح بخاری: 4438)

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"حاقنہ اور ذاقنہ کے درمیان سے مراد یہی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا سر حضرت عائشہ کے گلے اور سینے کے درمیان تھا۔" ختم شد
ماخوذ از: (فتح الباری: 8/139)

اب جو کچھ ابن منظور نے "مختصر تاریخ دمشق" (2/392) میں ذکر کیا ہے وہ درج ذیل ہے:
"ابو غطفان سے روایت ہے: میں نے ابن عباس سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات کسی کی گود میں ہوئی؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات علی کے سینے پر ہوئی۔ میں نے کہا: عروہ نے مجھے حضرت عائشہ سے یہ حدیث سنائی کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات میرے سحر اور نحر کے درمیان ہوئی۔ ابن عباس نے کہا: کیا یہ عقل میں آتا ہے! اللہ کی قسم، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات اس حال میں ہوئی کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم علی کے سینے سے لگے ہوئے تھے، اور علی نے ہی انہیں غسل دیا ان کے ساتھ میرے بھائی فضل بن عباس  تھے جبکہ میرے والد نے شرکت نہیں کی، میرے والد  نے کہا تھا کہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ہمیں پردہ کرنے کا حکم دیتے تھے، اس لیے وہ پردے کے پیچھے تھے۔" ختم شد

یہ روایت بغیر سند کے ذکر کی گئی ہے، اور ہمیں یہ روایت اصل "تاریخ دمشق" از ابن عساكر میں نہیں ملی، تاہم ابن سعد نے "الطبقات الکبریٰ" (2/263) میں نقل کی ہے؛
انہوں نے کہا:
"محمد بن عمر نے ہمیں خبر دی، انہوں نے کہا: مجھ سے سلیمان بن داود بن الحصین نے بیان کیا، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے ابو غطفان سے، انہوں نے کہا: میں نے ابن عباس سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات کسی کی گود میں ہوئی؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات علی کے سینے پر ہوئی۔ میں نے کہا: عروہ نے مجھے حضرت عائشہ سے یہ حدیث سنائی کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات میرے سحر اور نحر کے درمیان ہوئی۔ ابن عباس نے کہا: کیا یہ عقل میں آتا ہے! اللہ کی قسم، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات اس حال میں ہوئی کہ وہ علی کے سینے سے لگے ہوئے تھے، اور علی نے ہی انہیں غسل دیا، اور میرے بھائی فضل بن عباس بھی شریک تھے، تاہم میرے والد نے شرکت نہیں کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ہمیں پردہ کرنے کا حکم دیتے تھے، اس لیے وہ پردے کے پیچھے تھے۔"

محمد بن عمر الواقدی متروک الحدیث اور متہم بالکذب ہے، جبکہ سلیمان بن داود بن الحصین مجہول الحال ہے۔
اس طرح کی کمزور سند والی روایت، حضرت عائشہ کی متفق علیہ صحیح حدیث کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔

شیخ البانی رحمہ اللہ نے فرمایا:
"یہ اثر: ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم وفات کے وقت علی کے سینے پر ٹیک لگائے ہوئے تھے۔‘‘ موضوع  اور من گھڑت ہے۔
اسے ابن سعد (2/263) نے یوں روایت کیا ہے:
محمد بن عمر نے کہا: مجھ سے سلیمان بن داود بن الحصین نے انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے ابو غطفان سے بیان کیا...
میں کہتا ہوں: یہ موضوع ہے؛ اس کی آفت محمد بن عمر (الواقدی) ہے؛ جو کذاب ہے۔
اور اس کے شیخ سلیمان بن داود بن الحصین؛ نامعلوم ہے؛ ابن ابی حاتم نے اسے اپنی کتاب الجرح والتعدیل میں ذکر کیا ہے، لیکن اس کے متعلق جرح یا تعدیل ذکر نہیں کی۔
پھر میں نے دیکھا کہ حافظ ابن حجر نے "فتح" (8/107) میں کہا:
"اس کا حال معلوم نہیں۔"
میں [البانیؒ] کہتا ہوں: اور اس بات کی بھی تائید ہوتی ہے کہ یہ حدیث عروہ کی حضرت عائشہ سے مذکورہ روایت کے خلاف ہے؛ اور عروہ (ابن زبیر) کبار تابعین میں سے ہیں اور ثقہ ہیں، اور ان سے اس روایت کو مسند احمد، صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں کئی ثقہ راویوں نے نقل کیا ہے۔
اور صحیحین میں کئی ثقہ راویوں نے حضرت عائشہ سے متابعت کی ہے، اسی طرح مسند احمد اور طبقات ابن سعد میں بھی؛ کیونکہ یہ اگر متواتر نہ بھی ہو پھر بھی حضرت عائشہ سے مشہور حدیث ہے۔۔۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی ایسی مشہور حدیث  ابن عباس پر مخفی رہے؛  بہت بعید ہے!
پس اس کا سیدہ عائشہ سے انکار اور علی کے حق میں اثبات، صرف شیعہ یا ان کے حامیوں کی گھڑی ہوئی بات ہے۔" ختم شد
ماخوذ از: سلسلہ الاحادیث الضعیفہ:  (10/710-711)

اسی طرح کی اور بھی ضعیف روایات آئی ہیں جیسا کہ طبقات ابن سعد کی سابقہ روایت میں ہے، اور حافظ ابن حجر نے اپنی کتاب فتح الباری میں ان سب کی کمزوری بیان کی ہے؛
انہوں نے فرمایا:
’’ یہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا والی حدیث امام حاکم اور طبقات ابن سعد  کی اس روایت کے مخالف ہے جو مختلف طرق سے مروی ہے کہ:  نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات علی رضی اللہ عنہ کی گود میں ہوئی؛ کیونکہ اس روایت کے ہر ایک طریق میں کوئی نہ کوئی شیعہ راوی ہے، لہذا یہ روایت قابل التفات ہی نہیں ہیں۔
میں نے ان احادیث کی حالت بیان کر دی ہے تاکہ تعصب کا وہم نہ رہے:
ابن سعد کہتے ہیں: ' رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات علی رضی اللہ عنہ کی گود میں ہونے کے قائلین کا تذکرہ ' پھر انہوں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث بیان کی کہ:
’’ کعب الاحبار نے علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا آخری کلام کیا تھا؟
تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے آپ کو اپنے سینے سے لگایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنا سر میرے کندھے پر رکھا اور فرمایا: نماز، نماز۔
کعب نے کہا: انبیائے کرام کا آخری وقت ایسا ہی ہوتا ہے۔ ‘‘
لیکن اس کی سند میں الواقدی اور حرم بن عثمان ہیں، دونوں متروک ہیں۔

اسی طرح ایک سند یہ ہے کہ: واقدی، عبداللہ بن محمد بن عمر بن علی سے بیان کرتے ہیں اور اپنے والد سے اور وہ دادا سے روایت  کرتے ہیں:
’’ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بستر مرگ پر فرمایا: میرے بھائی کو بلاؤ، تو اس پر علی رضی اللہ عنہ کو بلایا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: میرے قریب آ جاؤ، علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی صلی اللہ علیہ و سلم مجھ سے ٹیک لگا کر باتیں کرتے رہے، پھر آپ کو طبیعت میں گرانی محسوس ہوئی ، اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا سر میری گود میں آ گیا، اس پر میں نے چلا کر کہا: عباس مجھے بچاؤ، میں مر جاؤں گا۔ اس پر عباس آئے اور دونوں نے مل کر نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو لٹایا۔ ‘‘
اس کی سند میں انقطاع ہے، اور الواقدی اور عبداللہ دونوں ضعیف ہیں۔

اسی سند کے ساتھ  محمد بن عمر بیان کرتے ہیں علی بن حسین  سے  کہ: (آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی روح قبض ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا سر مبارک علی کی گود میں تھا۔) اس کی سند منقطع ہے۔

اسی طرح:
واقدی، ابو الحویرث سے ، وہ اپنے والد سے اور وہ  شعبی سے روایت کرتے ہیں کہ:’’ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات علی کے سینے پر ہوئی۔ ‘‘ اس سند میں بھی واقدی موجود ہے، مزید اس میں بھی انقطاع اور ضعیف راوی ہیں، اور ابو الحویرث کا نام عبدالرحمن بن معاویہ بن الحارث مدنی ہے، امام مالک نے ان کے بارے میں کہا: وہ ثقہ نہیں، اور اس کے والد کا حال معلوم نہیں۔۔۔

حاکم نے "الاکلیل" میں حبۃ عدنی  عن علی کی سند سے روایت بیان کی ہے کہ :’’ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو اپنے سینے سے لگایا، اور آپ کی روح پرواز کر گئی۔ ‘‘ اس کی سند میں
حبۃ عدنی  ضعیف ہے۔

ایک روایت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے بھی مروی ہے کہ : ’’ علی آخری شخص تھے جنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے ملاقات کی۔ ‘‘ لیکن حضرت عائشہ کی حدیث اس سے زیادہ مضبوط ہے۔ ویسے اس روایت کو دیگر ثابت شدہ روایات کے ساتھ جمع کرنا ممکن ہے، وہ اس طرح کہ شاید ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی مراد یہ ہو کہ علی آخری مرد تھے جنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے ملاقات کی، اور اس وقت تک آپ سے جدا نہیں ہوئے جب تک آپ کا سر ڈھلک نہیں گیا، پھر جب نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا سر ڈھلک گیا تو  علی رضی اللہ عنہ نے سمجھا کہ آپ کی وفات ہو گئی ہے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو دوبارہ افاقہ ہوا، اور اپنا سر مبارک اٹھایا تو اب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں اپنے سینے سے لگا لیا، اور پھر اسی حالت میں وفات ہوئی۔ ‘‘ ختم شد

ماخوذ از: "فتح الباری" (8 / 139)

حاصل کلام:
شیعہ حضرات جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات حضرت علی کے سینے پر ہوئی، یہ سب کمزور اور ناقابلِ اعتبار روایات ہیں، اور حضرت عائشہ کی متفق علیہ صحیح حدیث کے مقابلے میں ان کی کوئی حیثیت نہیں۔

واللہ اعلم

حوالہ جات

سیرت نبوی صلی اللہ علیہ و سلم

ماخذ

الاسلام سوال و جواب

Previous
آگے
at email

ایمیل خبرنامہ

اسلام سوال و جواب کی میلنگ لسٹ میں شامل ہوں

phone

اسلام سوال و جواب ایپ

مواد تک فوری رسائی اور آف لائن مطالعہ کے لیے

download iosdownload android