اتوار 19 ذو القعدہ 1440 - 21 جولائی 2019
اردو

وراثت میں اپنی بہنوں کا حق کھانے والے کی توبہ کیسے؟

سوال

سوال: میرے دادا جان کی دو جگہ پر زمین تھی ایک جگہ کا نام خمسین تھا جس کا رقبہ 48 قیراط ( یہ مصر میں پیمائش کی ایک اکائی ہے، جو کہ 175 مربع میٹر پر بولا جاتا ہے) تھا اور دوسری جگہ کا نام دلالہ تھا جس کا رقبہ 69 قیراط تھا، خمسین جگہ کی قیمت دلالہ سے تقریباً دو گنا تھی، میرے والد کے بہن بھائیوں میں دو مرد اور چار عورتیں تھیں، تو میرے چچاؤں نے یوں کیا کہ: ہر لڑکے کو خمسین نامی جگہ سے 16 قیراط جگہ دے دی اور اس میں سے بہنوں کو کچھ نہیں دیا، جبکہ دلالہ نامی جگہ میں سے ہر بہن کو 12 قیراط جگہ دے دی اور بھائیوں کو 7 قیراط جگہ دی، میرے چچاؤں کی اس تقسیم پر میرے والد صاحب نے کوئی اعتراض نہیں کیا، پھر جب ہم بڑے ہو گئے تو ہم نے اپنے والد سے کہا کہ یہ تقسیم تو اللہ کو راضی کرنے والی نہیں ہے، ہم چاہتے ہیں کہ وراثت میں ملنے والی یہ زائد جگہ اپنے پھوپھیوں کو واپس کر دیں، تو اب کتنے قیراط جگہ واپس کریں گے؟

جواب کا متن

الحمد للہ:

اول:

یہ بہت ہی سنگین غلطی ہے جسے لوگ عام سی بات سمجھ بیٹھے ہیں کہ:
وراثت کی تقسیم میں ظلم کیا جائے اور اللہ تعالی کے بتلائے ہوئے طریقے  کو خاطر میں نہ لائیں، حالانکہ اللہ تعالی نے ہر وارث کا حصہ اور اس کا حکم واضح فرما دیا ہے، پھر ان احکام کی مخالفت کرنے  والے شخص کو یہ فرما کر وعید کی کہ:
(تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ وَمَنْ يُطِعْ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يُدْخِلْهُ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا وَذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ [13]  وَمَنْ يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَتَعَدَّ حُدُودَهُ يُدْخِلْهُ نَاراً خَالِداً فِيهَا وَلَهُ عَذَابٌ مُهِينٌ)
ترجمہ: یہ اللہ  کی حدیں ہیں اور جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا وہ اسے جنتوں میں داخل کرے گا جس کے نیچے نہریں بہتی ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے اور یہ بہت عظیم کامیابی ہے [13] اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے، اس کی حدود پامال کرے  اللہ اسے جہنم میں داخل کرے گا وہ اس میں ہمیشہ رہے گا اور اس کیلیے رسوا کن عذاب ہے۔[النساء:13-14]

اس آیت کی تفسیر میں شوکانی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"اس آیت میں " تِلْكَ " کہہ کر پہلے گزرے ہوئے احکام کی جانب اشارہ ہے  [جن میں وراثت کے احکام بھی شامل ہیں] نیز انہیں  حدود سے موسوم کیا ؛ کیونکہ ان احکام سے تجاوز کرنا جائز نہیں ہے اور نہ ہی انہیں عبور کرنا  جائز ہے" ختم شد
"فتح القدير" (2/99)

لیکن سوال میں جو صورت بیان کی گئی ہے اس میں حرمت شدید نوعیت  اور گناہ بھی زیادہ ہے؛ کیونکہ اس میں زمین ناحق قبضے میں کی گئی حالانکہ کسی کی زمین اپنے قبضے میں کرنا  مستقل طور پر کبیرہ گناہوں میں سے ہے، پھر اس میں قطع رحمی بھی ہے اور بہنوں پر ظلم بھی ہے۔

جیسے کہ بخاری : (3198)  اور مسلم: (1610) میں ہے  کہ سعید بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (جس شخص نے ایک بالشت زمین ناحق دبائی تو قیامت کے دن اللہ تعالی اس کی گردن میں ساتوں زمینوں  سے طوق پہنائے گا۔)

اس بارے میں مزید کیلیے آپ سوال نمبر: (105529) کا جواب ملاحظہ کریں۔

آپ نے یہ بہت اچھا کیا کہ اپنے والد کی توبہ کرنے پر معاونت کی اور مستحق لوگوں تک ان کے حقوق پہنچانے کی تلقین کی، یہ انداز والد کے ساتھ حسن سلوک کا بہترین سلیقہ اور طریقہ ہے، ہم اللہ تعالی سے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالی آپ کی یہ کاوش قبول و منظور فرمائے اور  اس پر بہترین جزائے خیر سے نوازے۔

دوم:

اگر کوئی شخص  تین بیٹوں اور چار بیٹیوں  کو چھوڑ کر فوت ہو تو ترکہ 10 برابر حصوں میں تقسیم ہو گا، پھر اس میں سے ہر بیٹے کیلیے دو حصے ہوں گے اور ہر بیٹی کیلیے ایک حصہ ہوگا۔

لہذا  خمسین نامی زمین میں سے ہر ایک بیٹے کو 9.6 قیراط جگہ ملے گی۔

اور ہر بیٹی کو اس میں سے 4.8 قیراط جگہ ملے گی۔

جبکہ دلالہ نامی زمین میں سے ہر بیٹے کو 13.8 قیراط جگہ ملے گی ۔

اور ہر بیٹی کو اس زمین میں سے 6.9 قیراط جگہ ملے گی۔

تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے والد نے خمسین نامی جگہ میں سے 6.4 قیراط جگہ اپنے حق سے زیادہ لی ہے، جبکہ اس کے عوض میں آپ کی پھوپھیوں کو دلالہ نامی جگہ سے 6.8 قیراط جگہ  دی گئی ،  اب آپ کا کہنا ہے کہ یہ تقسیم غیر منصفانہ ہے؛ کیونکہ خمسین نامی جگہ قیمت کے اعتبار سے تقریباً دو گنا مہنگی ہے۔

تو اب توبہ کرنے کا طریقہ کار یہ ہوگا کہ جس سے عدل بھی ہو اور مستحق افراد تک ان کا حق بھی پہنچ جائے اس کیلیے دو طریقے ہیں:

1- آپ اپنی چاروں  پھوپھیوں سے دلالہ والی زمین  کے 6.8 قیراط لے لیں اور خمسین جگہ میں سے 6.4 قیراط جگہ دے دیں۔

اگر آپ کی پھوپھیاں مطالبہ کرتی ہیں تو پھر اس پر عمل کرنا واجب ہے؛ کیونکہ آپ کے دادا نے جو زمین ترکہ میں چھوڑی تھی اس میں سے ان کا حق یہی بنتا ہے۔

2- دونوں رقبوں  کی عادلانہ قیمت لگائی جائے اور پھر دیکھا جائے کہ خمسین والی جگہ میں سے 6.4 قیراط زمین کی کتنی رقم بنتی ہے اور دلالہ جگہ میں 6.8 قیراط جگہ کی کتنی رقم بنتی ہے، پھر دونوں کی قیمت میں فرق نوٹ کیا جائے گا، اس کے بعد یا تو پھوپھیوں کو نقدی رقم دے دیں یا پھر انہیں زمین دے دیں۔

فرض کریں کہ اگر خمسین جگہ  میں سے مذکورہ رقبے کی قیمت 50 ہزار بنتی ہے اور دلالہ جگہ میں سے مذکورہ رقبے کی قیمت  30 ہزار بنتی ہے تو پھر دونوں زمینوں کی قیمت میں 20 ہزار کا فرق آئے گا، تو یہ 20 ہزار کا فرق پھوپھیوں میں برابر تقسیم کر دیا جائے ، یا وہ اس کے مساوی زمین میں سے حصہ لے لیں۔

دوسرا حل قبول کرنے کیلیے پھوپھیوں پر جبر نہ کیا جائے بلکہ ان کی رضا مندی سے فیصلہ ہو؛ کیونکہ دوسرے حل میں وہ اپنا حصہ فروخت کریں گی اور کسی بھی شخص کو اس کی ملکیت کی چیز فروخت کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا، اللہ تعالی کا فرمان ہے:
(إِلاَّ أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ)
ترجمہ: الا کہ تجارت ہو تمہارے ما بین راضی کے ساتھ۔ [ النساء:29]

اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (خرید و فروخت رضا مندی سے ہی ہوتی ہے) ابن ماجہ (2185) اسے البانی رحمہ اللہ نے صحیح ابن ماجہ میں صحیح کہا ہے۔

اور آپ اپنی پھوپھیوں سے کچھ بھی لیں یا انہیں دیں تو وہ ان چاروں پر تقسیم ہو گا؛ کیونکہ یہ ان چاروں کا حق ہے، کسی کا نہیں۔

ہم اللہ سے دعا گو ہیں کہ آپ کے والد کو توبہ کی توفیق دے اور آپ کی کاوش قبول فرمائے۔

واللہ اعلم.

ماخذ: اللقاء الشھری نمبر ( 17 ) ۔

تاثرات بھیجیں