جمعرات 19 شعبان 1445 - 29 فروری 2024
اردو

اللہ تعالی کے اسم مبارک "الحکیم" کا معنی اور مفہوم

سوال

اللہ تعالی کے اسم مبارک "الحکیم" کا کیا معنی ہے؟

جواب کا متن

الحمد للہ.

اللہ تعالی کا اسم مبارک "الحکیم" بروزن "فَعِیل" ہے، اور علم صرف کے اعتبار سے "فَعِیل" کا وزن یا تو فاعل کے معنی میں ہوتا ہے ، تو اس اعتبار سے الحکیم کا معنی حاکم ہو گا، یعنی اللہ تعالی کی ذات مبارک اپنی مخلوق کے لیے حاکم کی حیثیت رکھتی ہے، اللہ تعالی کے کونی اور قدری فیصلوں میں کوئی بھی مخلوق اختلاف نہیں رکھ سکتی۔

اسی طرح اللہ تعالی ہی کی ذات شرعی طور پر بھی حاکم ہے کہ ان کے لیے شرعی احکامات اللہ تعالی ہی جاری فرماتا ہے، ان احکامات کو بدلنے یا ان پر نظر ثانی کرنے کی کسی کو اجازت نہیں ہے۔

جیسے کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:
 إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ يَقُصُّ الْحَقَّ وَهُوَ خَيْرُ الْفَاصِلِينَ 
 ترجمہ: شرعی حکم دینے کا اختیار بھی اسی کے پاس ہے، وہی حق واضح فرماتا ہے اور وہ بہترین فیصلے کرنے والا ہے۔[الانعام: 57]

اللہ تعالی کے فیصلوں کو کوئی مسترد اور ان پر کوئی نظر ثانی کرنے والا نہیں ہے، اسی لیے فرمایا:
 وَاللَّهُ يَحْكُمُ لَا مُعَقِّبَ لِحُكْمِهِ وَهُوَ سَرِيعُ الْحِسَابِ 
 ترجمہ: اور اللہ تعالی فیصلے فرماتا ہے، اور اس کے فیصلے پر کوئی نظر ثانی کرنے والا نہیں، اور وہ تیزی سے حساب لینے والا ہے۔ [الرعد: 41]

نیز اللہ تعالی سے افضل کوئی فیصلے کرنے ولا بھی نہیں ہے، اسی لیے فرمایا:
 وَاتَّبِعْ مَا يُوحَى إِلَيْكَ وَاصْبِرْ حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ وَهُوَ خَيْرُ الْحَاكِمِينَ 
 ترجمہ: آپ کی طرف جو وحی کی جا رہی ہے اسی کی اتباع کریں اور اس پر ڈٹ جائیں، حتی کہ اللہ تعالی فیصلہ فرما دے، اور اللہ تعالی ہی بہترین فیصلے کرنے والا ہے۔ [یونس: 109]

یا پھر "فَعِیل" بمعنی "مُفعِل" یعنی "مُحکِم" ہے؛ مطلب کہ کسی بھی چیز کو محکم بنانے والا، تو اللہ تعالی کی ذات نے اپنی مخلوقات کو نہایت ہی محکم، ٹھوس، کامل ، خوبصورت اور جمیل ترین بنایا ہے۔

فرمانِ باری تعالی ہے:
 صُنْعَ اللَّهِ الَّذِي أَتْقَنَ كُلَّ شَيْءٍ إِنَّهُ خَبِيرٌ بِمَا تَفْعَلُونَ 
 ترجمہ: اللہ تعالی کی کاریگری ہے، جس نے ہر چیز کو بالکل ٹھیک بنایا ہے، یقیناً وہ تمہارے کاموں سے بھی خبردار ہے۔ [النمل: 88]

علامہ خطابی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"الحکیم سے مراد وہ ذات ہے جس نے تمام چیزوں کی تخلیق نہایت ہی محکم انداز میں کی، تو یہاں در حقیقت "فَعِیل" بمعنی "مُفعِل" ہے، بالکل ایسے ہی جیسے "اَلیم" بمعنی "مُؤلِم" یعنی درد دینے والا ، ایسے ہی "سمیع" بمعنی "مُسمِع" یعنی سنانے والا ۔۔۔
اور مخلوقات کو نہایت محکم انداز میں پیدا کرنے کا مطلب یہ بھی ہے کہ اس میں نزاکت کے باوجود بھی کمال کاریگری ہو ؛ کیونکہ یہ ضروری نہیں ہے کہ تمام کی تمام مخلوقات مضبوط ہوں اور طاقتور بھی ہوں، جیسے کہ پسو اور چیونٹی وغیرہ یہ کمزور مخلوق ہونے کے باوجود بھی مینا کاری اور کاریگری کی اعلی ترین مثالیں ہیں، یہ کمزور مخلوقات اللہ تعالی کے خالق ہونے کی اتنی ہی دلیل بنتی ہیں جتنی زمین ، آسمان ، پہاڑ اور دیگر بڑی بڑی مخلوقات دلیل بنتی ہیں۔

یہی چیز اللہ تعالی کے فرمان  الَّذِي أَحْسَنَ كُلَّ شَيْءٍ خَلَقَهُ  ترجمہ: وہ ذات جس نے ہر چیز کی تخلیق کو نہایت خوبصورت بنایا ہے۔[السجدہ: 7] کے متعلق کہی جائے گی کہ یہ خوبصورتی بندر، یا خنزیر، یا بھالو وغیرہ جیسے حیوانات میں نظر نہیں آتی تو اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ ان حیوانات کی تخلیق میں نہایت ہی اعلی تدبیرِ الہی کا اظہار ہے کہ اللہ تعالی نے انہیں اپنی منشا کے مطابق شکل اور ہیئت پر پیدا کیا ہے ، جیسے کہ اس چیز کا ذکر اللہ تعالی کے فرمان:  وَخَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ فَقَدَّرَهُ تَقْدِيرًا   ترجمہ: اس نے ہر چیز کو پیدا کیا اور ہر چیز کو پورا تخمینہ لگایا۔ [الفرقان: 2] میں موجود ہے۔" ختم شد
"شأن الدعاء" (ص 73 - 74)

یا پھر اسم گرامی "حکیم" کا تیسرا معنی حکمت والا ہے۔

جیسے کہ ابن اثیر رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"ایک قول یہ بھی ہے کہ حکیم بمعنی حکمت والا ہے، اور حکمت اس چیز کا نام ہے کہ آپ کو ہر چیز میں سے افضل ترین چیز کا علم اس کی بہترین صفات کے ساتھ ہو۔" ختم شد
"النهاية في غريب الحديث" (1 / 419)

چنانچہ اللہ تعالی اس کائنات میں کوئی بھی کام کرنے کا حکم اور کسی بھی کام سے ممانعت بہت بڑی حکمت کے بغیر نہیں دیتا، بلکہ اللہ تعالی کی ذات سے کوئی بھی کام بغیر کسی حکمت کے صادر ہی نہیں ہوتا؛ کیونکہ جو کام یا فعل حکمت سے خالی ہو تو وہ باطل اور فضول ہوتا ہے اور اللہ تعالی کی ذات باطل اور فضول چیزوں سے بالکل پاک صاف ہے، اس بارے میں اللہ تعالی کا فرمان بھی ہے کہ:
 وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاءَ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا بَاطِلًا ذَلِكَ ظَنُّ الَّذِينَ كَفَرُوا فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ كَفَرُوا مِنَ النَّارِ 
ترجمہ: ہم نے آسمان و زمین اور دونوں کے درمیان جو کچھ بھی ہے فضول میں پیدا نہیں کیا، یہ تو کفر کرنے والے لوگوں کی خام خیالی ہے اسی لیے کافروں کے لیے آگ کی ہلاکت ہے۔[ص: 27]

ایسے ہی فرمایا:
 أَفَحَسِبْتُمْ أَنَّمَا خَلَقْنَاكُمْ عَبَثًا وَأَنَّكُمْ إِلَيْنَا لَا تُرْجَعُونَ 
 ترجمہ: کیا تم نے سمجھ لیا ہے کہ ہم نے تمہیں فضول پیدا کیا ہے اور تمہیں ہماری طرف لوٹایا نہیں جائے گا؟[المؤمنون: 115]

تو حاصل کلام یہ ہوا کہ:

اللہ تعالی کے اسم گرامی "الحکیم" میں کافی سارے باہمی طور پر جڑے ہوئے لازم معانی شامل ہیں اور ان تمام معانی میں باہمی تصادم بھی نہیں ہے، اس لیے پہلے جتنے بھی مفہوم ذکر کیے گئے ہیں وہ سب کے سب بیک وقت "الحکیم" کی تفصیل میں بیان کیے جا سکتے ہیں؛ کیونکہ ایسا اسم جس میں متعدد معانی مشترک ہوں تو اس اسم کے ان تمام معانی کو اس وقت تک بیان کرنا درست ہوتا ہے جب تک ان معانی میں کوئی تصادم نہ ہو۔

مزید کے لیے آپ علامہ شنقیطی رحمہ اللہ کی "أضواء البيان" (2 / 19) کا مطالعہ کریں۔

علامہ سعدی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"اللہ تعالی کا اسم گرامی "الحکیم" کا مطلب ہے کہ: اللہ تعالی کے تمام معاملات اور مخلوقات اعلی ترین حکمت کا مرقع ہیں، یہ حکمت سے لبریز کیوں نہ ہوں وہی ذات ہے جس نے ہر چیز کو بہترین تخلیق سے نوازا ہے  وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللَّهِ حُكْمًا لِقَوْمٍ يُوقِنُونَ  ترجمہ: یقین کرنے والی قوم کے لیے اللہ سے بڑھ کر خوبصورت فیصلے کرنے والا کون ہو سکتا ہے؟[المائدہ: 50] اسی لیے اللہ تعالی نے کسی بھی چیز کو فضول پیدا نہیں کیا، اور اللہ تعالی کسی بھی چیز کو فضول میں شریعت کا حصہ نہیں بناتا، دنیا ہو یا آخرت ہر دو جہانوں میں اللہ تعالی کا فیصلہ ہی لاگو ہوتا ہے، حقوق العباد، شریعت اور جزا و سزا ہر تین قسم کے حکمت بھرے فیصلوں میں وہ یکتا اور تنہا ہے۔
ہر چیز کو اس کی جگہ اور مقام و مرتبے کے مطابق رکھنا حکمت کہلاتا ہے۔" ختم شد
" تفسیر سعدی" (ص 945)

واللہ اعلم

ماخذ: الاسلام سوال و جواب