اتوار 13 شوال 1440 - 16 جون 2019
اردو

بچوں کے کینسر ہسپتال کے لیے زکاۃ دینے کا حکم

سوال

سوال: کیا بچوں کے سرطان کا علاج کرنے والے ہسپتال کو زکاۃ دینا جائز ہے؟

جواب کا متن

الحمد للہ :

اول:

زکاۃ جن جگہوں میں دی جا سکتی ہے  وہ تمام کے تمام مصارف اللہ تعالی نے قرآن مجید میں بیان فرما دئیے ہیں، چنانچہ اگر کسی نے زکاۃ ان مصارف سے ہٹ کر کسی اور جگہ دی تو اس طرح زکاۃ ادا نہ ہو گی اس لیے اس پر دوبارہ شرعی مصارف میں زکاۃ ادا کرنا واجب ہو گا۔

شرعی مصارف کی تفصیلات جاننے کے لیے آپ سوال نمبر: (46209) کو جواب ملاحظہ فرمائیں۔

اور ہسپتال تعمیر کرنا، ہسپتال کی ضروریات خریدنا اور طبی آلات کی خریداری  زکاۃ کے مصارف میں سے نہیں ہے۔

مزید کے لیے آپ سوال نمبر: (212183)  اور (224651) کا جواب ملاحظہ فرمائیں۔

نیز کسی ہسپتال کو زکاۃ دینے کے بعد یہ جاننا کافی مشکل ہو جاتا ہے کہ زکاۃ صحیح جگہ پر خرچ کی گئی ہے یا نہیں؛ کیونکہ ایسا ممکن ہے کہ زکاۃ کی رقوم ہسپتال کی تیاری یا توسیع میں خرچ کر دی جائے یا آلات خرید لیے جائیں، یا ہسپتال کے ملازمین کی تنخواہوں اور دیگر امور میں خرچ کر دئیے جائیں، یا زکاۃ کے مستحق اور غیر مستحق ہر قسم کے مریضوں میں ادویات تقسیم کرنے کے لیے خرید لی جائیں چاہے وہ مسلمان ہوں یا غیر مسلم، دولت مند ہوں یا غریب۔

اور یہ بات واضح ہے کہ محض کسی کا مریض ہونا زکاۃ کی رقم وصول کرنے کے لیے کافی نہیں ہے، بلکہ مریض کا فقیر یا مسکین  (یعنی: اپنی ضرورت پوری کرنے کی سکت نہ رکھے) ہونا ضروری ہے یا علاج کے سلسلے میں ہسپتال کا مقروض ہو تو اسے قرضہ اتارنے کے لیے زکاۃ دی جا سکتی ہے۔

لہذا ہسپتال کو زکاۃ دینے میں پیچیدگیاں ہیں اور ہسپتال کو زکاۃ دینے والا یہ بات یقینی طور پر نہیں کہہ سکتا کہ اس نے زکاۃ کے مستحق مصارف میں ہی زکاۃ خرچ کی ہے۔

دائمی فتوی کمیٹی کے علمائے کرام سے یہ سوال پوچھا گیا:
"جناب محترم اس سوال کے ساتھ شاہ فیصل اسپیشلسٹ اسپتال کی طرف سے آیا ہوا خط منسلک ہے جس میں انہوں نے ہسپتال میں موجود ویلفیئر فنڈ کے لئے مالی امداد طلب کی ہے، جو مختلف شہروں سے ریاض شہر آنے والے غریبوں اور محتاجوں کے لئے خاص ہے، وہ غریب جن کے پاس اپنے مریضوں کے علاج اور وہاں قیام کے لئے اخراجات نہیں ہوتے ہیں، تو بتائیں کہ کیا اس ویلفیئر فنڈ کو زکاۃ کی رقم دینا جائز ہے؟ اللہ کریم آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے، اور ہمارے اعمال میں خلوص عطا فرمائے۔"

 جو انہوں نے جواب دیا:
" ہم اس قسم کے فنڈ کو زکاۃ  دینا جائز نہیں سمجھتے ؛ کیونکہ اس فنڈ سے مستفید ہونے والے شرعی طور پر مقرر کردہ مصارف زکاۃ میں اس طرح شامل نہیں کہ ان پر اعتماد اور اطمینان کیا جا سکے۔"

اللہ تعالی عمل کی توفیق دینے والا ہے، درود و سلام ہوں ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر آپ کی آل اور صحابہ کرام پر۔

شیخ عبد العزیز بن عبداللہ بن باز، شیخ عبد اللہ قعود، شیخ عبداللہ غدیان" ختم شد

فتاوى اللجنة الدائمة (9/437، 438)

اس فتوے میں یہ ہے کہ ویلفیئر فنڈ صرف ایسے لوگوں کے لیے مختص ہے جو غریب ہوں  اور ضرورت مند لوگوں کے علاج کے  لئے ہے، لیکن عام طور پر ان کی غربت یا ضرورت  اس قدر نہیں ہوتی کہ ان پر ہر حال میں اعتماد کر کے زکاۃ دے دی جائے؛ کیونکہ یہ غریب افراد زکاۃ دینے والے کے لیے  نامعلوم ہوتے ہیں اور اسی طرح اس فنڈ کے منتظمین کو بھی ان کے بارے میں مکمل جانکاری نہیں ہوتی تو اس فنڈ میں زکاۃ کی رقوم جمع کروانے پر دلی اطمینان اور اعتماد حاصل نہیں ہو گا، تو اجمالی طور پر اس شخص کا بھی یہی حکم ہو گا کہ  جو اسپتال کو ہی زکاۃ دے رہا ہو۔

دوم:

اگر زکاۃ دینے والا اپنی زکاۃ کسی ایسی جگہ دینے پر مطمئن نہ ہو تو اس کا شرعی حل یہ ہے کہ وہ شخص ہسپتال چلا جائے اور خود سے مریضوں کے حال احوال دریافت کرے اور ان میں سے جو محتاج نظر آئے اور اس کے بارے میں چھان بین کر لے تو اس کے ہاتھ میں زکاۃ کی رقم تھما دے، یا مریض پر خرج کرنے والے اس کے اہل خانہ کو دے دے ۔

واللہ اعلم.

ماخذ: الاسلام سوال و جواب

تاثرات بھیجیں