بڑے چھپکلی نما جانور گوہ کو مارنے کا حکم

سوال 268754

گوہ جیسے بڑے چھپکلی نما جانور کو مارنے کا کیا حکم ہے؟ اور کیا اسے مارنے پر بھی ثواب ملتا ہے؟

جواب کا متن

ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالی کے لیے، اور دورو و سلام ہوں اللہ کے رسول پر، بعد ازاں:

اول:
وہ چھپکلیاں یا اس جیسے دیگر جانور جن کا نقصان دہ ہونا ثابت ہو تو ان کو مارنا جائز ہے تاکہ ان کے شر اور ایذا رسانی سے بچا جا سکے۔
اور اگر ان کا نقصان دہ ہونا ثابت نہ ہو تو ان کو مارنا جائز نہیں، بالکل ایسے ہی جیسے باقی وہ تمام جانور جن سے کوئی ضرر نہیں ہوتا۔

اس کی دلیل یہ ہے کہ صحیح بخاری و مسلم میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے کتوں کو مارنے سے منع فرمایا، البتہ کاٹنے والے کتے کو مارنے کا حکم دیا۔
پس جن جانوروں کا نقصان دہ ہونا ثابت ہے تو وہ کاٹنے والے کتے کے حکم میں ہیں اور انہیں قتل کرنا جائز ہے، اور جن کا نقصان دہ ہونا ثابت نہیں وہ باقی کتوں کے حکم میں ہیں جنہیں مارنے سے منع کیا گیا ہے۔

علامہ ابن مفلح لکھتے ہیں:
’’کتاب المغنی میں بابِ (کتے کے قتل) کے تحت یہ ذکر کیا گیا ہے کہ جس جانور میں کوئی ضرر یا نقصان نہیں، اس کا قتل جائز نہیں۔ اس پر اس حدیث سے استدلال کیا گیا ہے جس میں کتے کے قتل سے منع کیا گیا ہے۔ اس بات پر انہوں نے اس حدیث سے دلیل لی ہے جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے بلا وجہ کتوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا ہے۔ اس سے ابن مفلح کا مقصد یہ بتانا ہے کہ حکم کے اعتبار سے تمام جانور برابر ہیں، یعنی اگر غیر کتے میں نقصان نہ ہونے کے باوجود اسے مارنے کی اجازت نہیں، تو پھر اسی طرح کتے کو بھی بلا وجہ مارنے کی اجازت نہیں ہو گی۔

وہ مزید کہتے ہیں کہ کئی دوسرے علماء کے اقوال سے بھی یہی بات ظاہر ہوتی ہے، اور یہی موقف زیادہ درست اور معقول ہے۔

لہٰذا، احادیث میں جن مخصوص کتوں کے قتل کی اجازت دی گئی ہے—جیسے کہ کاٹنے والا کتا (جو حملہ آور یا خطرناک ہو) یا بالکل سیاہ، خوف پیدا کرنے والا کتا—تو یہ اجازت صرف ان خاص حالات تک محدود ہے۔ اس کے علاوہ عام کتوں یا ایسے جانوروں کا قتل جن سے کوئی ضرر یا تکلیف نہیں پہنچتی، شریعت میں جائز نہیں ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ناحق قتل یا تکلیف دینے سے منع فرمایا ہے۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: الآداب الشرعیۃ : (3/355)

گوہ اپنی اصل فطرت میں انسان کے لیے مؤذی نہیں ہے، بلکہ اس کی مشابہت سانڈے سے ہے، اسی لیے بعض اہلِ علم نے اسے کھانا بھی جائز کہا ہے ۔ (مصنف عبدالرزاق 4/529)۔
لیکن بعض علما نے اسے حشرات میں شمار کر کے حرام قرار دیا ہے ۔

جیسے کہ علامہ دمیری رحمہ اللہ کہتے ہیں:
’’ اسی قاعدے سے یہ بھی اخذ کیا جاتا ہے کہ گوہ کھانا حرام ہے؛ کیونکہ یہ حشرات میں شامل ہے، علمائے کرام نے گوہ کو حشرات کے حکم سے مستثنی قرار نہیں دیا۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: حياة الحيوان : (2/542)

بہرحال چونکہ گوہ انسان کے لیے موذی نہیں ہے، اس لیے اسے بلا وجہ مارنا درست نہیں، کیونکہ یہ اس کی جان بلا وجہ تلف کرنے کے مترادف ہے ؛ حالانکہ اللہ تعالی نے اسے بھی کسی حکمت کے تحت پیدا کیا ہے۔ ان میں سے ایک حکمت یہ ہے کہ ماحول کے توازن کو قائم رکھے، کیونکہ گوہ سانپوں اور اژدہوں کو کھا جاتا ہے، اور اگر اسے ختم کر دیا جائے تو سانپوں کا پھیلاؤ زیادہ ہو جائے گا۔

دوم:
اگر گوہ کی کچھ اقسام واقعی انسان کے لیے موذی ثابت ہوں یا کوئی گوہ اپنی اصل فطرت سے ہٹ کر نقصان دہ بن جائے، جیسا کہ بہت سے جانوروں میں ایسا ہوتا ہے، تو پھر انسان کو ان کے شر سے بچنے کے لیے انہیں مارنے کی اجازت ہے۔ اسی طرح اگر وہ مویشیوں یا مرغیوں پر حملہ کرے تو اپنے مال کی حفاظت کے لیے بھی اسے مارنا جائز ہے، جیسے ہر حملہ آور جانور کو مارنے کی اجازت ہے، چاہے عام طور پر اسے مارنے سے منع ہی کیوں نہ کیا گیا ہو۔

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’جانوروں کی دو اقسام ہیں:

پہلی قسم: وہ جن کی فطرت میں ایذا رسانی (نقصان پہنچانا) شامل ہے۔
ایسے جانوروں کو مارنا مستحب ہے، چاہے وہ ان جانوروں میں سے ہوں جن کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے صراحت کے ساتھ مارنے کا حکم دیا ہے، جیسے بچھو، چوہا، کاٹنے والا کتا، یا ان جیسے دوسرے جانوروں میں سے ہو  جو ایذا رسانی میں ان کے ہم معنی ہوں۔
اسی لیے علماء نے فرمایا ہے: ’’ہر موذی جانور کو مارنا مستحب ہے‘‘، کیونکہ ایذا رسانی اس کی عادت ہے، اگر وہ اس وقت نقصان نہ بھی پہنچائے تو آئندہ کسی وقت پہنچا سکتا ہے، لہٰذا ایسے جانوروں کا مارنا جائز بلکہ پسندیدہ عمل ہے چاہے قتل کے وقت وہ ایذا نہیں پہنچا رہا۔

دوسری قسم: وہ جانور یا کیڑے مکوڑے جو نہ نقصان پہنچاتے ہیں اور نہ کسی طرح کی تکلیف دیتے ہیں، تو ایسے جانوروں کو مارنا جائز تو ہے مگر ناپسندیدہ ہے، اور بہتر یہی ہے کہ انہیں نہ مارا جائے۔
البتہ اگر وہ کسی موقع پر تمہیں نقصان پہنچائیں تو تمہیں انہیں مارنے کی اجازت ہے تاکہ ان کے ضرر سے بچ سکو۔

ہم یہ اس لیے کہتے ہیں کہ اگر کوئی جانور یا کیڑا نقصان نہیں دیتا تو بہتر یہی ہے کہ اسے نہ مارا جائے، کیونکہ شریعت کے اعتبار سے جانور تین قسموں میں تقسیم ہوتے ہیں:

  1. وہ جن کے مارنے کا حکم دیا گیا ہے۔
  2. وہ جن کے مارنے سے منع کیا گیا ہے۔
  3. وہ جن کے بارے میں شریعت خاموش ہے۔

پہلی قسم: جیسے بچھو، چوہا، کاٹنے والا کتا، سانپ، چھپکلی وغیرہ   ان کے مارنے کا حکم دیا گیا ہے۔
دوسری قسم: جیسے چیونٹی، شہد کی مکھی، ہدہد (پرندہ) — ان کے مارنے سے منع کیا گیا ہے۔
تیسری قسم: باقی تمام جانور اور کیڑے مکوڑے جن کے بارے میں شریعت میں نہ حکم ہے نہ ممانعت، ان کے بارے میں خاموشی اختیار کی گئی ہے۔
لہٰذا ان کا مارنا بہتر نہیں، کیونکہ بلا وجہ مارنا بہرحال ایک جاندار کی جان لینا ہے جس کی کوئی شرعی گنجائش نہیں۔

مزید یہ کہ بعض علماء نے کہا ہے: جب تک یہ جانور زندہ رہتا ہے، اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتا ہے، اور جب مر جاتا ہے تو اس کی تسبیح ختم ہو جاتی ہے۔  پس کسی جاندار کو مارنے کا مطلب یہ ہوا کہ تم نے ایک ایسی مخلوق کو ختم کر دیا جو اللہ کی تسبیح کر رہی تھی۔

الغرض، خلاصہ یہ ہے کہ جس جانور سے کوئی نقصان نہ پہنچے، اسے مارنا درست تو ہے مگر بہتر نہیں، اور اگر وہ نقصان پہنچائے تو پھر اس کو مارنے میں کوئی حرج نہیں۔‘‘ ختم شد
ماخذ: لقاءات الباب المفتوح، ملاقات نمبر 67

اسی طرح ’’الآداب الشرعية‘‘ (3/355) میں ہے:
’’محظوراتِ احرام میں ذکر ہے کہ جن جانوروں کا نہ نقصان ہے اور نہ نفع، جیسے بھونرے، کیڑے مکوڑے ، مکھیاں ، نہ کاٹنے والی چیونٹیاں وغیرہ، تو امام احمد نے فرمایا: اگر یہ ایذا دیں تو مار سکتا ہے، اور بغیر ایذا کے مارنا مکروہ ہے۔ لیکن اگر پھر بھی قتل کر دے تو اس پر کوئی کفارہ نہیں ہے۔‘‘

واللہ اعلم

حوالہ جات

جانوروں کے حقوق

ماخذ

الاسلام سوال و جواب

Previous
آگے
at email

ایمیل خبرنامہ

اسلام سوال و جواب کی میلنگ لسٹ میں شامل ہوں

phone

اسلام سوال و جواب ایپ

مواد تک فوری رسائی اور آف لائن مطالعہ کے لیے

download iosdownload android