جمعہ 11 ربیع الاول 1444 - 7 اکتوبر 2022
اردو

eToro ویب سائٹ میں سرمایہ کاری کا حکم

سوال

eToro ای ٹورو کے ساتھ کام کرنے اور اس کے ذریعے تجارت کے بارے میں بہت زیادہ بات کی جا رہی ہے، اس ویب سائٹ پر حصص کی خرید و فروخت ہوتی ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ حلال ہے اور بعض کہتے ہیں کہ ان کے ساتھ کام کرنا حرام ہے، بلکہ کچھ تو یہ بھی کہہ دیتے ہیں کہ یہ یہودی کمپنی ہے اس لیے ہمیں ان کے ساتھ لین دین نہیں کرنا چاہیے ۔ مجھے امید ہے کہ آپ اس کی صحیح وضاحت کر سکتے ہیں۔

جواب کا متن

الحمد للہ.

اول:

سٹاک مارکیٹ وغیرہ میں بروکر کے ذریعے سرمایہ کاری جائز بھی ہو سکتی ہے اور حرام بھی ، اس کا انحصار لین دین کی نوعیت اور اسلامی تعلیمات کے ساتھ مطابقت پر ہے۔

مذکورہ لین دین میں مارجن ، یا فاریکس سسٹم کے ٹریڈنگ لیوریج (Leverage) کے ذریعے سودا کرنا جائز نہیں ہے، کیونکہ اس میں اسلامی تعلیمات کی بہت سی خلاف ورزیاں شامل ہیں، جیسے کہ ہم اس کی تفصیلات پہلے سوال نمبر: (106094) اور (125758)میں ذکر کر آئے ہیں۔

خلاف ورزیوں میں سے - جیسا کہ اس موضوع سے متعلق اسلامی فقہ کونسل کے جاری کردہ ایک بیان میں ذکر کیا گیا ہے - یہ بھی ہے کہ:

عالمی مالیاتی منڈیوں میں جو تجارت ہوتی ہے اس میں عام طور پر متعدد حرام لین دین شامل ہوتے ہیں جو اسلامی تعلیمات کے مطابق ممنوع ہیں، جن میں درج ذیل شامل ہیں:

1. بانڈز کی تجارت، جو کہ سود کے تحت آتے ہیں اور سود حرام ہے ۔ اس کی صراحت جدہ میں اسلامی فقہ کونسل کے چھٹے اجلاس کی شق نمبر: (60)میں بیان کی گئی ہے۔

2. کمپنیوں کے حصص میں فرق کیے بغیر تجارت کرنا۔ رابطہ عالم اسلامی کی اسلامی فقہ کونسل کی طرف سے 1415 ہجری میں اپنے چودھویں اجلاس کے دوران جاری ہونے والے چوتھے بیان میں اس بات کی صراحت کی گئی کہ ایسی کمپنیوں کے حصص کا سودا کرنا حرام ہے جن کا بنیادی مقصد حرام ہے، یا جن کے لین دین میں سے کچھ سود وغیرہ جیسے حرام امور شامل ہیں۔

3. کرنسیوں کی خرید و فروخت عام طور پر ہاتھوں ہاتھ تبادلے کے بغیر کی جاتی ہے اور اسلامی تعلیمات کے مطابق کرنسی کی خرید و فروخت کے جائز ہونے کے لیے قیمت اور مبیع دونوں کا قبضے میں چلے جانا ضروری ہے۔

4. اختیارات کے معاہدوں (Options Contracts)اور مستقبل کے معاہدوں (futures contracts)میں تجارت۔ جدہ میں اسلامی فقہ کونسل کے چھٹے اجلاس کے دوران اعلامیہ نمبر: 63 میں اس بات کی صراحت ہے کہ اسلامی تعلیمات کے مطابق اختیارات کے معاہدے (Options Contracts)جائز نہیں ہیں، کیونکہ جس چیز کا معاہدہ کیا جا رہا ہے وہ نہ تو مال ہے، نہ کوئی سروس اور نہ ہی کوئی ایسا مالی حق ہے جس کا معاوضہ لیا جا سکے۔ اور یہی بات مستقبل کے معاہدوں (futures contracts)پر بھی لاگو ہوتی ہے۔ " ختم شد

دوم:

eToro ویب سائٹ کو دیکھنے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ تجارت (Leverage) کو استعمال کرتے ہوئے کی جاتی ہے جسے مارجن کا نام بھی دیتے ہیں، ایسے ہی (interest-bearing overnight fees)رات بھر سود برداشت کرنے کی فیس بھی استعمال کی جاتی ہے، اور (contracts for difference) جس کے لیے CFDs کا اختصار استعمال کیا جاتا ہے یعنی فرق کے معاہدے، یہ بھی حرام ہیں۔

فرق کے لیے معاہدہ (CFD) دو فریقوں کے درمیان ایک معاہدہ ہوتا ہے، جسے میں عام طور پر (purchaser and seller)خریدار اور فروخت کنندہ کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں ، جس کی قیمت ایک بنیادی اثاثہ کو (مثال کے طور پر اسٹاک انڈیکس، یا حصص یا commodity futures contract) بنیاد بنا کر مقرر کی جاتی ہے ۔

معاہدے کے اختتام پر، یا جب معاہدے کے فریقین معاہدے کو بند کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں، بیچنے والا خریدار کو اثاثہ کی موجودہ قیمت اور معاہدہ شروع ہونے پر اس کی قیمت کے درمیان فرق کی ادائیگی کرتا ہے۔ یہ اس وقت ہوتا ہے جب بنیادی اثاثہ کی قدر میں اضافہ ہوا ہے۔

اس کے برعکس اس وقت ہوتا ہے جب بنیادی اثاثہ کی قیمت گر جائے، اور موجودہ قیمت اور ابتدائی قیمت کے درمیان فرق منفی میں چلا جائے تو اس صورت میں خریدار بیچنے والے کو فرق ادا کرتا ہے۔" ماخوذ از ویب سائٹ:

http://www.ifcmarkets.com/ar/cfds/what-is-cfd

فرق کے معاہدے (CFDs) حرام ہیں۔ اس سے مراد(Options Contracts) آپشن کنٹریکٹس اور (futures contracts) فیوچر کنٹریکٹس ہیں جن کا ذکر اسلامی فقہ کونسل کے اعلامیہ میں کیا گیا ہے۔

اور اگر اس میں مارجن سسٹم بھی شامل کر دیا جائے تو اس کے حرام ہونے کی ایک اور وجہ بھی بن جائے گی۔

واللہ اعلم

ماخذ: الاسلام سوال و جواب