اول:
جہاں تک آپ کو زمین فروخت کرنے والے شخص کا تعلق ہے تو ہم کہتے ہیں:
جس شخص کو مثلاً زمین خریدنے کا وکیل بنایا گیا ہو، اور وہ زمین خرید لے، اس کے بعد اپنے موکل کی اجازت کے بغیر اسے نفع کماتے ہوئے آگے فروخت کر دے تو وہ نفع اس کے موکل کا حق ہے، وکیل کے لیے جائز نہیں کہ وہ اسے اپنے لیے رکھے، خواہ وکیل اپنے موکل کے لیے دوسری زمین خریدے یا نہ خریدے؛ کیونکہ پہلی زمین اس نے اپنے موکل ہی کے لیے خریدی تھی، اور اب وہ اسی کی طرف سے اسے فروخت کر رہا ہے۔
اس کی دلیل سنن ترمذی (1258)، ابو داود (3384) اور ابن ماجہ (2402) نے عروہ البارقی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے، وہ بیان کرتے ہیں:
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک دینار دیا تاکہ میں آپ کے لیے ایک بکری خریدوں، تو میں نے آپ کے لیے دو بکریاں خرید لیں، پھر ان میں سے ایک کو ایک دینار میں فروخت کر دیا، اور ایک بکری اور ایک دینار لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اور آپ کو پورا واقعہ بتایا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اللہ تمہارے سودے میں برکت عطا فرمائے۔)‘‘ پھر اس کے بعد ان کا حال یہ تھا کہ وہ کوفہ کے بازار میں جاتے اور بہت زیادہ نفع کماتے، یہاں تک کہ وہ کوفہ کے سب سے زیادہ مال دار لوگوں میں شمار ہونے لگے۔ اس حدیث کو البانیؒ نے صحیح ترمذی میں صحیح قرار دیا ہے۔
علامہ محمد مولود موریتانی رحمہ اللہ نے ’’نظم الكفاف‘‘ میں فرمایا:
’’اگر وکیل زائد نفع حاصل کرے تو وہ اضافہ موکل کا حق ہے، اس وکیل کا نہیں جس نے عدل سے کام نہ لیا ہو۔‘‘
دوم:
جہاں تک آپ کی اس زمین کی خریداری کے صحیح ہونے کا تعلق ہے تو یہ بیچنے والے نے دوسرے کی ملکیت میں موجود زمین اس کی اجازت کے بغیر فروخت کی ہے۔
فقہاء اس کو ’’بیع الفضولی‘‘ کہتے ہیں۔ بعض اہلِ علم کے نزدیک یہ بیع سرے سے باطل ہے؛ کیونکہ فروخت ایسے شخص نے کی ہے جو نہ مال کا مالک تھا اور نہ اسے فروخت کی اجازت دی گئی تھی۔
جبکہ بعض اہلِ علم کا موقف یہ ہے کہ بیع الفضولی درست ہوتی ہے، لیکن اس کا نفاذ اصل مالک کی اجازت پر موقوف رہتا ہے۔
اور یہی موقف راجح ہے۔ اس کی دلیل سنت سے عروہ رضی اللہ عنہ کی سابقہ حدیث ہے؛ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے کیے ہوئے لین دین کو برقرار رکھا تھا۔
شیخ محمد بن عثیمین رحمہ اللہ تعالیٰ نے ’’ بیع فضولی‘‘ کے بارے میں فرمایا:
’’مصنف کی عبارت کے مطابق تو ’’ بیع فضولی‘‘ صحیح نہیں ہو گی۔ لیکن درست بات یہ ہے کہ یہ جائز اور نافذ ہے، بشرطیکہ مالک اس کی اجازت دے دے۔‘‘ پھر انہوں نے اس موقف پر عروہ البارقی رضی اللہ عنہ کی مذکورہ حدیث سے استدلال کیا۔ الشرح الممتع:( 8/132)
اس بنا پر:
آپ پر لازم ہے کہ زمین کے اصل مالک [یعنی دلال کے بھتیجے] کو اس معاملے کی اطلاع دیں:
اگر وہ اس فروخت پر راضی ہو جائے تو بیع درست ہو جائے گی، اور اس میں آپ پر کوئی گناہ نہیں ہو گا۔
اور اگر وہ انکار کر دے تو بیع باطل قرار پائے گی، پھر زمین اس کے مالک کو واپس کی جائے گی اور آپ اپنی ادا کردہ رقم واپس لیں گے۔
سوم:
اگر آپ نے یہ زمین صرف مال محفوظ رکھنے کی نیت سے خریدی ہے، تجارت اور قیمت بڑھنے کے انتظار کی نیت سے نہیں، تو آپ پر اس میں زکاۃ نہیں ہے۔
شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس نے اپنا مال ایک زمین میں لگا دیا، نہ تجارت کی نیت سے، نہ اس پر تعمیر یا کاشت کی غرض سے، بلکہ صرف یہ کہا کہ: ’’میں اپنا مال محفوظ کر رہا ہوں، جب ضرورت ہو گی بیچ دوں گا‘‘، تو کیا اس میں زکاۃ ہے؟
انہوں نے جواب دیا:
’’اس میں زکاۃ نہیں ہے۔ یہاں تک کہ بعض فقہاء کہتے ہیں کہ اگر کسی نے زکاۃ سے بچنے کے لیے اپنا مال جائیداد میں تبدیل کر لیا تو بھی اس پر زکاۃ واجب نہیں ہو گی! لیکن یہ ایک حیلہ ہے [یعنی اس صورت میں زکاۃ واجب ہو گی]۔‘‘ ختم شد
ماخوذ از: ’’ثمرات التدوين‘‘
واللہ اعلم