ہفتہ 7 ربیع الاول 1442 - 24 اکتوبر 2020
اردو

جانوروں کے سینگوں کو کام میں لانے کا حکم۔

سوال

جانور کی زندہ یا مردہ حالت میں کاٹے گئے سینگوں کا کیا حکم ہے؟ کیا ان سے استفادہ کیا جا سکتا ہے؟

جواب کا متن

الحمد للہ.

اگر سینگ کسی ایسے جانور کے ہیں جن کا گوشت کھایا جاتا ہے؛ مثلا: شریعت کے مطابق ذبح کی گئی گائے اور بکری وغیرہ تو ان کے سینگوں سے استفادہ کرنا جائز ہے، اس میں کسی کا اختلاف نہیں ہے۔

تاہم جانوروں کے سینگوں کو ان کی زندگی میں کاٹا جائے ، یا غیر شرعی طریقے سے ذبح کرنے کی صورت میں مرنے کے بعد کاٹا جائے تو ان کے پاک ہونے میں علمائے کرام کا اختلاف ہے۔

چنانچہ مالکی، شافعی اور حنبلی فقہی مذہب میں مشہور موقف یہ ہے کہ: ایسے سینگ نجس ہیں۔

جیسے کہ "الموسوعة الفقهية الكويتية" (39 / 391 - 392) میں ہے کہ:
"ایسے مردار جانور کی ہڈیوں ، سینگوں، کھروں اور سموں کو کام میں لانے کے بارے میں علمائے کرام کا اختلاف ہے جس کا گوشت کھایا جاتا ہے، اس کے متعلق ان کے دو اقوال ہیں:
پہلا قول: شافعی، مالکی، اور حنبلی فقہائے کرام کا ہے، وہ کہتے ہیں کہ یہ نجس ہیں انہیں کام میں لگانا حلال نہیں ہے۔" ختم شد

انہوں نے اس کی دلیل یہ دی ہے کہ یہ مردار کا حصہ ہے اس لیے یہ نجس ہو گا، بالکل اسی طرح جیسے جانور کی زندگی میں اس کے کسی حصے کو کاٹا جائے تو اس کا حکم مردار والا ہی ہو گا۔

ابن قدامہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ:
"سینگ، کھر اور سم کا حکم بھی ہڈی والا ہی ہے، چنانچہ اگر شرعی طریقے سے ذبح شدہ جانور کے ہوں تو وہ پاک ہیں، اور اگر وہ زندہ جانور کے کاٹے جائیں تو وہ نجس ہیں؛ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (جس حصے کو جانور کے زندہ ہوتے ہوئے کاٹا جائے تو وہ مردار کی طرح ہے) اس حدیث کو ترمذی نے روایت کیا ہے اور اسے حسن غریب قرار دیا ہے۔" ختم شد
"المغنی" (1 / 99)

احناف اور امام احمد کی ایک روایت کے مطابق وہ اس بات کے قائل ہیں کہ : یہ پاک ہیں اور ان سے استفادہ جائز ہے، اسی دوسرے موقف کو شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اختیار کیا ہے، اور انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ یہی موقف جمہور سلف صالحین کا ہے۔
دیکھیں: "مجموع الفتاوى" (21/96-102)

ہم نے ان کی گفتگو سوال نمبر: (258312) کے جواب میں مختصراً ذکر کی ہے۔

امام بخاری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ:
"امام زہری کہتے ہیں: مردار جانور کی ہڈی –جیسے کہ ہاتھی وغیرہ کی ہڈیاں- ان کے متعلق میں نے سلف صالحین میں سے ایسے علمائے کرام کو پایا ہے کہ وہ ان سے بنے ہوئے کنگھوں سے کنگھی کرتے تھے اور ان سے بنی ہوئی چیزوں میں تیل رکھتے ، وہ ان کے استعمال میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتے تھے۔" ختم شد
"فتح الباری" (1 / 342)

ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"امام بخاری کا یہ کہنا کہ سلف ان چیزوں سے بنے ہوئے ظروف میں تیل رکھتے تھے، اس بات کی دلیل ہے کہ وہ ان کے پاک ہونے کے قائل تھے۔" ختم شد
"فتح الباری" (1 / 343)

ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ:
"ان چیزوں کے پاک ہونے کی دلیل یہ ہے کہ: مردار جانور کو ناپاک کہنے کی وجہ ہڈیوں میں نہیں پائی جاتی؛ اس لیے انہیں ناپاک نہیں کہا گیا، نہ ہی ان ہڈیوں کو گوشت پر قیاس کرنا صحیح ہے؛ کیونکہ گندے اور فاضل مادے گوشت میں ہی رہ سکتے ہیں ہڈیوں میں نہیں رہتے، بالکل اسی طرح جیسے کسی جانور میں بہنے والا خون نہ ہو تو اس کے مرنے کی وجہ سے وہ نجس نہیں ہوتا؛ حالانکہ وہ تو مکمل جانور ہوتا ہے؛ اس لیے کہ اس میں مردار کے نجس ہونے کی وجہ نہیں پائی جاتی، تو ہڈی کو تو بالاولی پاک ہونا چاہیے، تو یہ دلیل پہلی دلیل سے زیادہ قوی ہے، اس بنا پر مردار کی ہڈی فروخت کرنا ایسی صورت میں جائز میں ہے جب وہ کسی پاک جانور کی ہو۔" ختم شد
"زاد المعاد" (5 / 674)

چنانچہ مردار کی ہڈیوں اور سینگوں کو پاک قرار دینا بہت قوی موقف ہے، جیسے کہ یہ ظاہر بھی ہے، پس جس شخص نے اس موقف کا اپنایا تو اس پر کوئی حرج نہیں ہے، اور جو شخص محتاط قول کو اپناتے ہوئے مردار کی ہڈیوں اور سینگوں سے استفادہ نہیں کرتا تو یہ اس کے لیے بہتر ہے؛ خصوصاً جب کوئی ایسا معاملہ ہو کہ انسان اس سے بچ سکے، اور اپنی ضرورت کو پورا کرنے کے کیے متبادل ذریعہ بھی رکھتا ہو۔

واللہ اعلم

ماخذ: الاسلام سوال و جواب